Published On: Mon, Mar 21st, 2016

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی اور داخلی طور پر بے گھر افراد کی واپسی

Operation Zarb-e-Azb success and return of TDPs

وزیرستان میں پاک فوج کا آپریشن ضرب عضب اب اپنے اختتامی مراحل میں ہے جس کے دوران پاک فوج کی بے مثال قربانیوں اور انتھک کاوشوں کی بدولت انتہائی مطلوب عسکریت پسند جنگجوؤں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت اور گرفتاری عمل میں    آئی ۔15 جون 2014کو شروع ہونے والا آپریشن ضرب عضب آج 2016 میں ان 92 ہزار سے زائد مسائل زدہ بے گھر خاندان اور کئی سیکیورٹی اداروں حساس پوسٹوں پر تعنیات افسران کیلیے خوشی کی نوید بن کر ابھرا ہے۔خبر رساں ذرائع کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سال ِ نو کے آخر تک ان بےگھرافراد کی اپنے متعلقہ علاقوں میں با حفاظت منتقلی کا اعلان کیا ہے۔آپریشن ضرب عضب کی کامیابی نےدنیا بھر میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا ایک نیا باب رقم کر دیا ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے بے گناہ لوگوں کو ان ظالم دہشتگردوں نے اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رکھا تھا۔پاکستان میں سیاحت، تبلیغ ،تعلیم ،صحت و ترقی غرض یہ کہ معشیت اور ترقی کے ہر ذریعے کو اپنی سفاکی کی بھینٹ چڑھا رکھا تھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید کوئی شعبہ اور ادارہ ایسا نہیں جو ترقی سے ہمکنار ہو سکے۔حکومتِ وقت نے کئی بار مذاکرات اور امن کے قیام کیلیے بات چیت کو فوقیت دیتے ہوئےطالبان کو دعوت دی کے ملکی سلامتی کے لیے مل کر کوئی لائحہ عمل تیار کریں لیکن ان دہشت گردوں کی ہٹ دھرمی بڑھتی چلی گئی اور ان ظالموں کو نیست و نابود کرنے کیلیے آپریشن ضرب عضب کا سہارا لیا گیا۔اس آپریشن کے نتیجے میں بہت سے بے گناہ خاندانوں کو اپنے گھر بار کی قربانی دے کر بنوں کے علاقوں میں پناہ لینی پڑی ۔دہشت گردی کےخلاف اس جنگ میں ابھی تک 50ہزار سے زائد معصوم شہریوں اور 6ہزار سے زائد دفاعی اداروں کے اہلکاروں کو جان کی قربانی دینی پڑی۔

حکومت اور عسکری قیادت کی زیرِ نگرانی ان بے گھر افراد کے لیے تمام سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی گئی اور بہت سے ایسے پناہ گزین خاندان جو کہ اپنے گھر بار مویشی اور ضروریات زندگی چھوڑ کر بنوں میں قائم شدہ کیمپ میں رہائش پذیر رہے انکے معمولات زندگی کو مناسب طور پر بر قرار رکھنے کی مکمل کوششیں کی گئیں اسکے باجود حکومت کے متعین کردہ گھروں،سکولوں میں رہائش پذیر ہوکر بھی بچوں کی تعلیم کا حرج،پانی بجلی کے مسائل کا سامنارہا۔آج بھی یہ خاندان کئی طرح کی مشکلات اور صعوبتوں کا شکار ہیں۔یہ بے گھر افرا اپنی تمام تر مشکلات کا ذمہ دار صرف شدت پسند دہشت گردوں کو ٹھہراتے ہیں۔

آپریشن ضرب عضب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ہمارے ان بے گھر ہم وطنوں نے ظالم دہشت گردوں کی سب زیادتیاں بڑے حوصلے سے برداشت کیں۔لیکن آج ان کی ہجرت اور ہماری فوجی قیادت کی قربانیوں کی بدولت ہماری پیاری سرزمین کافی حد تک دہشت گردی کےفتنے سے پاک ہوگئی ہے۔بلا شبہ ان بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری ایک دشوار مرحلہ ہے۔لیکن وفاقی حکومت کی زیرِ نگرانی تشکیل دیئے گئے منصوبے پرسختی سے عمل جاری ہے جس میں ان افراد کی بحفاظت واپسی ،بقا اور تقدس کا مکمل خیال رکھا گیا ہےوفاقی حکومت ابھی تک ان کیلیے 800 کروڑ سے زائد کا بجٹ مختص کر چکی ہے۔جس میں سے 29853 خاندانوں میں تقریباً 358.236ملین کے قریب کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ جبکہ ان 92 ہزار خاندانوں کی کُل تعداد 1929859 افراد پر مشتمل ہے جن میں اس بجٹ کی تقسیم ابھی جاری ہےہنگو، بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان ،کرک اور ٹانک کے علاقوں سے ان افراد کی بحفاظت واپسی کو ممکن بنانے کیلیے کوشش جار ی ہیں۔ان افراد کو دوبارہ سے اپنے معمولاتِ زندگی شروع کرنے اور ایسے دہشتگردی کے واقعات دوبارہ ہونے سے بچانے کے لیے حفاظتی تربیت بھی دی جا رہی ہےاور ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے حفاظتی دفاتر اور انکے نمبرزبھی جاری کردئیے گئےہیں۔ان افراد کی واپسی کے بعد کے ریلیف فنڈز کا کچھ حصہ بھی جاری کیا جا چکا ہے تاکہ ان افرا د کو ضروریات زندگی پوری کرنے کیلیے کسی بھی قسم کی معاشی مشکلات کا سامنا کرنے سے بچایا جا سکے۔ان کی صحت کی حفاظت کیلیے طبی کیمپ بھی قائم کیے جا چکے ہیں تاکہ ان بے گھر افراد کو اپنے گھروں میں واپسی پر صحت مند اور خوشحال زندگی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ حکومتِ وقت نے حساس حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان افراد کی واپسی کے بعد بھی کچھ عرصہ تک سیکیورٹی فورسز کو اپنی متعلقہ پوسٹوں پر تعینات رہنے کا حکم دیا ہے چونکہ یہ عمل دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو ممکن بنائے گا اور ان افراد کیلیے آگاہی مہم کا نفاذ کر ے گا۔سیکیورٹی فورسز کی زیرِ نگرانی تشکیل کیے گئے تربیتی کیمپ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے اور ان افراد کو باوقار اور با وسائل زندگی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہونگے۔اطلاعات کے   مطا بق دہشت گرد جان بچانے کی خاطر اپنا حلیہ تبدیل کرکے ان لوگوں میں شامل ہو نے کی کوشش کر رہے ہیں اِن سے با خبر رہنابھی ہماری اولین ذمہ داری ہے تاکہ یہ کالی بھیڑیں ہمارے درمیان نہ چھپ سکیں۔ ہماری پاک فوج نے ضرب عضب کے دوران شمالی وزیرستان کے زیا دہ تر علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے جبکہ بقیہ علاقے حاصل کرنے کے لیےمسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔ اللہ پاکستانی فوج کو فتح و کامرانی سے ہمکنار کرے ۔(آمین)

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>