Published On: Tue, Mar 1st, 2016

ابوبکر البغدادی اور داعش کا فرقہ وارانہ ایجنڈااور سازشیں

Abu Bakr Al-Baghdadi and Daesh sectarian agenda and conspiracies

 افتخار حسین

داعش اورالقاعدہ کے رہنما مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، اور فرقہ واریت کو فروغ دے کر مسلمان ممالک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔القاعدہ اور داعش نے فرقہ واریت، قتل و خون ریزی، اقتصادی بحران اور تباہی کے سوا مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔ان گروہوں نے آپس کی لڑائی میں عراق اور شام میں اپنے ہی فرقے کے ہزاروں ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔جب سے ابو بکر البغدادی نے اپنی خلافت قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تب سے مشرق ِ وسطیٰ میں مسلمانوں میں فرقہ وارانہ خون ریزی میں اور بھی تیزی آچکی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں ہمیں اپنی آنکھیں کھول کرداعش اورالقاعدہ کی اسلام دشمنی کا ادراک کرنا چاہیے اورپاکستان میں ان کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے حکومت اور مسلح افواج کا ساتھ دینا چاہیے۔

داعش اپنے پروپیگنڈے میں شروع دن سے ہی فرقہ واریت کو فروغ دیتی رہی ہے ۔اس کے رہنما اور کارندے عراق اور شام میں فرقہ وارانہ حملے کرتے رہے ہیں۔سعودی عرب اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کےتناظر میں داعش نے اپنی فرقہ وارانہ مہم کو تیز کر دیا ہے ۔دبق کے تیرہویں شمارے میں داعش نے سعودی عرب کے شاہی خاندان اور مذہبی رہنماؤں پر شدید تنقید کی ہے۔داعش کے مطابق سعودی عرب کے حکمران اور مذہبی پیشوامحمد بن وہاب کی تعلیمات پر عمل درآمد نہیں کر رہے ۔داعش نے یہ عذر پیش کر کے سعودی عرب کے عوام کو اشتعال دلا کر انھیں اپنے مذہبی رہنماؤں کے قتل پر اُکسایا ہے۔ یہ امر نہایت پریشان کن ہے کیونکہ سعودی عرب کے لوگ وہابی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور داعش کا یہ زہریلا پروپیگنڈا انھیں اپنے ملک میں دہشت گردی کرنے پر اُکسا سکتا ہے ۔داعش پہلےہی سعودی عرب میں فرقہ وارانہ حملے کر ا چکی ہے اور اس کا یوں سعودی عرب کےخلاف پروپیگنڈا نہایت سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے ۔اس سے قبل داعش شیعہ فرقے کے خلاف پروپیگنڈا کرتی رہی ہے اور اس کے اہلکاروں نے بہت سے شیعہ لوگوں کو ہلاک کررکھا ہے ۔ایران اور سعودی عرب میں موجودہ کشیدگی کو مزید ہوا دینا اور عرب ممالک میں فرقہ واریت کو فروغ دینا داعش کے خطرناک عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔

فرقہ واریت کے اس قدر خطرناک ایجنڈے پر عمل درآمد کرنیوالا ابو بکر البغدادی کیونکر اسلامی خلافت کا مکلف ہو سکتا ہے۔ اس کی تنظیم ،ساتھیوں ،حماتیوں اور اہلکاروں کی فرقہ وارانہ کارگزاری قرآن و سنت کی روح سے نا قابلِ قبول ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ داعش،القاعدہ میں پھوٹ ڈال کر وجود میں آئی تھی اس عمل میں داعش نے ہزاروں صلافی ،وہابی جہادیوں کو ہلاک کردیا ۔یہ لڑائی ابھی بھی شام اور عراق میں جاری ہےاور ابو بکر البغدادی اور داعش کی تنگ نظری اور نفرت کی عکاس ہےبھلا جو شخص اور تنظیم اپنے ہی فرقے کے لوگوں کے قتل کے جنون میں مبتلا ہیں وہ مسلمانوں کے دیگر فرقوں کو کیونکر رحم اور شفقت کی نظر سے دیکھیں گے۔نیزوہابی /صلافی فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر کے مسلمانوں کی آبادی میں آٹے میں نمک سے بھی کم ہےپھر ہم انھیں کس بنیاد پر سبھی مسلمانوں کا رہنما تسلیم کرسکتے ہیں۔بغدادی اور داعش کی چیرہ دستیوں کا نشانہ صرف صلافی جہادی خود ہی نہیں بن رہے ہیں بلکہ ان کے بیوی بچوں کو بھی معاف نہیں کیا جارہاہے۔اپنے ہی پیروکاروں کو زندہ جلانے اور بیٹے کے ہاتھوں ماں کو قتل کرانے جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب انہی کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔زندہ مسلمانوں کے جان و مال کی حرمت کا لحاظ تو درکنار داعش اسلام کی مقدس ہستیوں کے مزاروں کو بھی دھماکوں سےتباہ کرتی رہی ہے  حضرت زینب بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہا جیسی عظیم شخصیتوں کے مزاروں پر حملے کیے           گئے ۔حضرت شیس اور حضرت یونس تو مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں اوریہودیوں کے لیے بھی مقدس ہیں مگر بغدادی اور داعش نے عراق میں ان کے مزاروں کو بھی تباہی کا نشانہ بنایا۔

نفرت اور فرقہ واریت کے اسی جنون کے پس منظر میں ابو بکرالبغدادی کو خلافت کا جھوٹا دعوٰی کیےہوئےدوسال ہونے والے ہیں مگر ناکامی اور نامرادی اس کا مقدر بن چکی ہیں۔دنیا بھر پر قبضے اور حکومت کے خود ساختہ دعوٰے کرنے والی داعش اب عراق اور شام میں بھی بری طرح سے پِٹ چکی ہے خلافت کا بے بنیاد دعوٰی کرنے کے بعدبغدادی دوبارہ کبھی لوگوں کو اپنی شکل نہیں دکھا سکا ۔یقیناً اس ناکامی کا سبب اس کی بد نیتی اور نفرت انگیز کردار ہے۔بغدادی کی ناکامی کا یہ عالم ہے کہ کسی ایک انتہا پسند گروہ نے بھی اس کے دعوٰے کی تصدیق نہیں کی سبھی دہشت گرد گروہوں نے بھی خلافت کے اسکے دعوٰے کو رد کردیا۔عالم اسلام کے کسی بھی ایک جید عالم،مفتی یا امام نے اُسے خلیفہ تسلیم نہیں کیا۔ وہ محض عراق تک محدود ایک چھوٹے سے گروہ کا رہنما ہے اور عراق کے ایک شہر پر بھی اس کا مکمل قبضہ نہیں ہے۔یہی سبب ہے کہ ناکامی، رسوائی اور نامرادی بغدادی کا مقدر بن چکے ہیں۔

      جن دہشت گردوں کا اثاثہ اور پہچان ایسی سرگرمیاں ہوں انھیں اسلام اور مسلمانوں کا خیر خواہ تسلیم کرنا نادانی اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں ۔ہم یقین کرتے ہیں کہ اس مضمون میں پیش کردہ حقائق نے قارئین کو ابوبکر البغدادی اور داعش کے فرقہ وارانہ ایجنڈے اور سازشوں سے مزید اچھی طرح سے آگاہ کردیا ہوگا۔لہذا ان کے حق میں جاری سرگرمیوں سے متاثر ہونا گمراہی اور شر کے سوا کچھ اور نہیں اور ہمیں ابو بکر البغدادی اور داعش کے ساتھ ساتھ ہر اس دہشت گرد گروہ کو بھی رد کر دینا چاہیے جو پاکستان میں ان کی حمایت کا اعلان کرے۔دہشت گردوں کے خلاف مسلح افواج کی کامیابیوں کے سبب پاکستان میں دہشتگردوں کو نا کامی اور مایوسی کا سامنا ہے جسکی وجہ سے وہ اپنے لیے نئی پناہ گاہوں اور سر پرستوں کی تلاش میں ہیں۔یہی وہ پسِ منظر ہے جو تحریکِ طالبان اور لشکر ِ جھنگوی کےمختلف رہنماؤں اور دھڑوں کے داعش کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کا باعث بن رہا ہے۔تا ہم یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ وطن عزیز میں عوامی بیداری کی ایک مہم پنب رہی ہے جو فرقہ واریت کے خاتمے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔لوگ جان چکے ہیں کہ اسلام اور شریعت کی آڑ میں دہشت گرد گروہوں کے رہنما اور ارکان یا تو محض خود غرضانہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں یا پھر کسی اسلام اور پاکستان دشمن قوت کے گھناؤنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔قومی بیداری اور یکجہتی کی یہ فضا داعش اورالقاعدہ اوراُن کے حامی گروہوں کی شکست کی قلیدثابت ہو گی۔ ہمیں اسے مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>