Published On: Fri, Jan 8th, 2016

الزام جوابِ الزام” داعش اور طا لبان کی آپسی مخاصمت اور اختلاف”

ISIS and Taliban

افتخار حسین

جہاد قرآن و سنت اور شریعت کا نفاذ اور خلافت راشدہ کا احیاء جیسے نعرے ہر مسلمان کے دل کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں ۔     بد قسمتی سے القاعدہ، داعش اور طالبان نے انہی نعروں کا سہارا لے کر دہشت گردی کا بازار گرم کیا جس سے بہت سے مسلمان گمراہ ہوئے اور بہت سے بے گناہ خود کش حملوں میں مارے گئے ۔ اب یہی انتہا پسند گروہ جب ایک دوسرے کے جہاد کو غلط قرآن و سنت کے نفاذ کے مطالبے کو منافقت پر مبنی اور مخالف گروہ کو یہود و نصارا کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں تو ان سے ہمدردی رکھنے والے مسلمانوں کو ان کی اصل حقیقت کے بار ے میں ضرور سوچنا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ القاعدہ اور داعش دونوں ہی کے نظریات بظاہر اسلامی تشخص رکھتے ہیں مگر یہ دونوں گروہ اور ان کی حامی تنظیمیں اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں۔یہی سبب ہے کہ ان میں جاری الفاظ اور الزامات کی جنگ کی تازہ ترین کڑی کے طور پر داعش کے ایک رہنما ابو یا سر الافغانی نے طالبان کو مذہب سے بھٹکا ہوا قرار دیا ہے نیز اس نے طالبان پہ تنقید کرتے ہوئے انھیں مسلمان اولیاء کے مزارات کو تباہ کرنے کی مہم نہ چلانے کی وجہ سے بھی برا بھلا   کہاجوابی بیان میں طالبان کے رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر ابو بکر البغدادی کے دعوٰی خلافت کو رد کیا۔ان کے مطابق بغدادی نے بغیر امتِ مسلمہ کی شوٰرہ اور مسلمان علاقوں پر اپنا قبضہ مضبوط کیے بغیر ازخود خلافت کا دعوٰی کردیا جو شریعت کی روح کےصریحاً خلاف ہے۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ داعش ، طالبان اور القاعدہ کی آپس کی مخالفت ،دشمنی اور ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا سنگین حد تک بڑھ چکا ہے۔

الفاظ کی جاری اس جنگ میں ابو بکر البغدادی ، ایمن الظواہری اور اختر منصور کے ساتھی اور حمایتی اپنے رہنماؤں کی بڑائیاں اور مخالف گروہ کی برائیاں بیان کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔اسلام کے یہ نام نہاد ٹھیکہ دار اب خود ہی ایک دوسرے کے چہرے پر سے جہاد کے نقاب کو نوچ رہے ہیں اور ان کا دہشت گردی پر مبنی اصل کردار مسلمان عوام پر اور بھی اچھی طرح عیاں ہوتا جا رہا ہے۔ایک دوسرے کے جہاد کو غلط اور حرام قرار دینااور مخالف گروہوں کے لیے کفر اور ارتاد کے فتوے جاری کرنا اب القاعدہ اور داعش اور طالبان کا معمول بن گیا ہے اور یہ گروہ باہمی سازشوں اور قتل و غارت گری کے بھی شکار ہوچکے ہیں۔

ظواہری سے علیٰحدگی اور بغاوت کے بعد ابو بکر البغدادی نے القاعدہ کے رہنماؤں کے خلاف زہراگلنا شروع کردیا جس نے ظواہری اور اس کے ساتھیوں کی نیندیں اُڑا دیں۔اس نے عرب ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا شروع کیا اور ان ممالک میں القاعدہ کی مختلف برانچوں کو اپنے ماتحت لانے کی سازشیں کرنے لگا۔غالباً ایسی ہی ایک کوشش کےطور پر اس نے خود کو مسلمانوں کا خود ساختہ خلیفہ مقرر کردیا اور سب سے اپنی فرمانبرداری کا مطالبہ کردیا۔یہ چال یقینی طور پر ظواہری کے لیے بہت مُہلک ثابت ہوئی اور عرب ممالک میں بغدادی کی مقبولیت میں اضافہ ہونے لگا۔

باہمی مخالفت اور کشمکش کی اسی فضا میں جب مُلا عمر کی وفات کی خبر عام ہوئی تو القاعدہ اور ظواہری نے افغان طالبان کے رہنما    اختر منصور سے اپنی فوری بیعت کا اعلان کردیا ۔نیزاُسامہ بن لادن کی ایک وڈیو بھی مختلف جہادی فورموں پر چلائی گئی جس میں وہ     مُلا عمر کو امیرالمومنین تسلیم کر کے اس سے وفاداری کا اقرار کر رہا تھاتا کہ القاعدہ کے اہلکاروں کے اذہان میں مُلا عمر کی بزرگی کی دھاک بٹھائی جا سکےلیکن یہ حکمت عملی بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوسکی اور بغدادی اور داعش نے القاعدہ اور ظواہری کے ساتھ ساتھ        اختر منصور اور طالبان کو بھی تنقید اور الزامات کا نشانہ بنا لیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک طالبان کے کچھ رہنماؤں نے ظواہری کو چھوڑ کر بغدادی کا ساتھ دینا شروع کردیا اور چند رہنماؤں نے اس کی خلافت کو تسلیم کر کے اس کی بیعت کا بھی اعلان کردیا۔

اسی پسِ منظر میں آج داعش ، القاعدہ اور طالبان ہمیں ایک دوسرے پہ شدید الزامات لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ داعش نے اپنے آن لائن میگزین “دبق” میں اختر منصور ،افغان اور پاکستانی طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے رکھا ہے ۔ داعش کے مطابق مُلا عمر ایک کم علم شخص تھا جو کسی بھی طور پرخلافت کے قابل نہیں ہو سکتاتھا۔طالبان رہنماؤں کےعیدکے موقع پر جاری کردہ پیغامات سے پتا چلتا ہے کہ وہ محض افغانستان میں ایک قومی حکومت قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔”دبق” کے بعض شماروں میں لکھا ہے کہ طالبان اسلام کی تعلیمات سے صحیح طور پر آگاہ نہیں ہیں اور وہ اکثر غیر شرعی کاموں میں ملوث پائے گئے ہیں۔اس میگزین میں القاعدہ کے رہنماؤں اور اہلکاروں پربھی اسی طرح کے الزامات لگائے جاتے ہیں اوردونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے ایمان پر بھی شک و شبہے کا اظہارکیا جاتارہا ہے۔

اس صورتِ حال میں بھلاپاکستانی طالبان کیسے چپ بیٹھ سکتے تھے چنانچہ تحریک طالبان پاکستان کے رہنما فضل اللہ نے بھی         ابوبکر البغدادی اور اس کے خلافت کے دعوے کی رد میں60 صفحات تحریر کیے ۔تحریک طالبان نے بغدادی کو خلافت کے لیے نا اہل ثابت کیا ہے اور داعش پہ سبھی وہ الزامات لگائے ہیں جو داعش ان پہ لگاتی ہے۔اس سے قبل ، افغان طالبان نے مُلا عمر کی ایک سوانح عمری شائع کی تھی جس کا مقصد طالبان کو داعش کے پروپیگنڈا کے بر خلاف ایک بڑی اسلامی تحریک ثابت کرنا تھا ۔بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان شورہ کے لیے ایک فتوٰی بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق ابو بکر البغدادی سے بیعت کا اظہار کرنا حرام ہے۔کچھ اخباری اطلاعات کے مطابق، افغان طالبان نے داعش سے روابط رکھنے والے اپنے اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا آغاز کر رکھا ہے۔

القاعدہ ،طالبان اور داعش کی یہ آپسی پروپیگنڈا جنگ ،یقینی طور پر ہمیں ان دہشت گرد گروہوں کی اصل حقیقت سے آگاہ کررہی ہے۔یہ گروہ ،ان کے سربراہ اور اہلکار نہایت تنگ نظری اور خود غرضی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔بغدادی کم سے کم 10 سال ظواہری کے ساتھ القاعدہ میں رہا مگر اب یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نفرت انگیز حد تک ناقابلِ برداشت ہوچکے ہیں۔یہی صورت ِ حال ہمیں تحریک طالبان میں نظر آتی ہے جس کےمختلف رہنماؤں کی آپسی نفرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ان حقائق کی روشنی میں ہمیں القاعدہ، داعش اور طالبان کے جہاد فی سبیل اللہ کے دعوے مضحکہ خیز دکھائی دیتے ہیں۔جب یہ دہشتگرد گروہ ایک دوسرے کو ختم کرنے کے لیے آخری حد تک جا سکتے ہیں تو ہم کیونکر ان سے توقع وابستہ کرسکتے ہیں کہ یہ مسلمانوں یا عالمِ اسلام کےخیر خواہ ہیں۔

مسلمانوں کی مسجدوں اور مذہبی اجتماعات پر خودکش حملے کرنیوالے ، بازاروں ،سکولوں اور ذرائع آمدورفت کی سہولتوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے ان گروہوں کی حقیقت بہت گھناؤنی ہے ۔ ان کے ہاتھ معصوم بچوں ، عورتوں اور نہتے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں لہذا ہمیں بلا جھجک القاعدہ ، طالبان اور داعش کے خاتمے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اس ضمن میں ہماری سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے محلے،دفاتر ،سکولوں ، کالجوں ،یونیورسٹیوں ،مسجدوں ، مدرسوں اور نزدیکی ساتھیوں میں دہشت گردی کے خلاف آگاہی پیدا کریں تا کہ انھیں دہشت گرد گروہوں کے چنگل میں پھنسنے سےبچایا جاسکے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>