Published On: Mon, Jan 25th, 2016

القاعدہ ، داعش اور طالبان کا مقدس اسلامی القابات کا غلط اور ناجائز استعمال

Maligning of Islam by Alqaeda ISIS and Taliban

“اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی شان میں علم و دانش کے بغیر جھگڑا کرتے ہیں اور ہر شیطانِ سرکش کی پیروی کرتے ہیں۔جس کے بارے میں یہ لکھا جا چکا ہے کہ جو اسے دوست رکھے گا تو وہ اس کو گمراہ کردے گا اور دوزخ کے عذاب کا راستہ دکھائے گا”۔(سورۃ الحج آیت3،4)

آج جب دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے وابستہ کیا جاتا ہے تو ہم سبھی کےدل دکھتے ہیں دنیا بھر میں ایک غلط تاثر قائم ہوگیا ہے کہ قرآن و سنت تشدد پسندانہ رویوں کو فروغ دیتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے اس صورتِ حال کے ذمہ دار دواُمور ہیں پہلا دہشت گرد گروہوں کا اسلام کے مقدس القابات اور خطابات کا غلط استعمال اوردوسرا اس پر عالمِ اسلام کے علماء کی خاموشی ۔نتیجتاًالقاعدہ ، داعش اور طالبان کے رہنما جنہوں نے باقاعدہ اسلامی ،مذہبی تعلیم حاصل نہ کر رکھی تھی وہ اسلام کے ٹھیکدار بن گئے اور مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کیا ۔یہ دہشت گرداپنے آپ کو مذہبی طور پرقابلِ احترام اور اسلامی شخصیت ظاہر کرنے کے لیے باقاعدہ اپنے ناموں سے پہلے مُولانا،مفتی،ملا،حافظ،قاری،شیخ جیسے مقدس القابات کا استعمال کرتے ہیں۔مذہبی نقطہ نظر سے اسلامی معاشرے میں یہ القابات/خطابات بہت اہم ہیں اورجن اشخاص کے ناموں کے ساتھ یہ القابات لگے ہوتے ہیں ان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد اپنے ناموں کے ساتھ ان القابات کاناجائز استعمال کرتے ہیں۔اس مضمون میں ہم اجمالی طور پر کچھ مزید حقائق پیش کرتے ہیں      تا کہ معاملے کی سنگینی اچھی طرح سے واضح ہوجائے۔

سب سے پہلے ہم تحریک طالبان کی مذہبی حیثیت کا جائزہ لیتے ہیں ۔لفظ”طالبان” طالب کی جمع ہے اور اس اصطلاح کے استعمال میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ ان رہنماؤں نے اپنی دینی تعلیم ادھوری چھوڑ کر افغان جہاد میں شمولیت اختیار کی      تھی ۔ یہی سبب ہے کہ تحریک طالبان میں چند ہی کارندے ایسے ہیں جنہوں نے درسِ نظامی مکمل کیا ہوا ہے۔اس تنظیم کا موجودہ سربراہ فضل اللہ صرف میڑک پاس ہے اور ایک دہشت گرد بننے سے پہلے وہ سوات میں لفٹ آپریٹرکے طور پر کام کرتا تھااور مُلا ریڈیو کے نام سے مشہور تھا وہ اپنے نام کے ساتھ مُلا لگاتاہے جو کہ سراسرغلط ہے کیونکہ اس نے بنیادی اسلامی تعلیم بھی مکمل نہیں کی ہوئی ۔تحریک طالبان کے سابقہ رہنما بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود نے بھی اپنی دینی تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی ۔اسی طرح جماعت الاحرار کا سربراہ عمر خراسانی صرف میٹرک پاس ہے اور وہ بھی لوہار کے طور پر کام کرتا رہاہے۔لشکرِاسلام کےکمانڈرمنگل باغ نے بھی کوئی مذہبی تعلیم حاصل نہیں کررکھی بلکہ وہ ایک بس کنڈیکٹر کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔یہ تمام حقائق اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ تمام دہشت گرد گروہوں کی نہ تو کوئی مذہبی بنیاد ہے اور نہ ہی ان کے کارندوں کو اسلام کے بارے میں کوئی آگاہی ہے بلکہ یہ اسلام دشمن عناصر ہیں جو اپنی ضرورت کے تحت اسلامی تعلیمات کی بآسانی اپنی مرضی کے مطابق غلط تشریح کرلیتے ہیں۔

اسی طرح القاعدہ اورداعش کے رہنماؤں کاکوئی مذہبی پسِ منظر نہیں ہے بلکہ اپنی انسانیت سوز مجرمانہ کاروائیاں چھپانے کے لیے ان تنظیموں کےرہنما بہت ڈھٹائی سے مذہبی القابات کو استعمال کر تےرہےہیں ان دہشت گرد تنظیموں کے کارندوں اور سربراہان کی کوئی بنیادی مذہبی تعلیم نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی مذہبی رہنما/سکالر کو خاطر میں لاتے ہیں جنہوں نے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے میں اپنی ساری زندگی صرف کردی ۔اُسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری نے لادین تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر رکھی تھی ۔جی ہاں القاعدہ کے یہ دونوں رہنماکسی مذہبی ادارے کے طالب علم نہ تھے اسامہ نے اقتصادیات کی ڈگری حاصل کررکھی تھی اور ظواہری ایک ماہرِ امراضِ چشم ہے ۔لہذا القاعدہ کے یہ دونوں رہنمامذہب کے نام میں کوئی حکم یا فتوٰی جاری کرنے کے مجاز نہ تھے۔اسی طرح داعش کےسربراہ ابو بکر البغدادی کے پاس بھی اسلامی علوم کی کوئی بڑی سند نہیں ہےمگر ان سبھی دہشت گرد رہنماؤں نے جھوٹے پروپیگنڈے کے بل بوتے پر خود کو عام مسلمانوں کے سامنے بڑی مذہبی شخصیت کے طور پر پیش کیا اور ان کی ہمدردیاں سمیٹیں۔یقیناً یہ مسلہ بہت اہم ہے اور ہمارے علماء اور میڈیا کو اس کا جلد از جلد ادراک کر کے مذہبی القابات کے اس استحصال کے خلاف شدومد کے ساتھ تحریک چلانی چاہیے۔

         تمام انتہا پسند دہشت گرد گروہ ہمیشہ یہ پرچار کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے سچے پیروکار ہیں جبکہ اسکے برعکس اگر ان کی کاروائیوں کا جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہو تی ہے کہ ان کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے۔ مسلح فسادانگیزی، انسانی قتل و غارت، خودکش حملے، مساجد و مزارات پر حملے، تعلیمی اداروں کی تباہی، دفاعی تربیت کے مراکز پر حملے، نعشوں کی بے حرمتی ، عورتوں اوربچوں کا استحصال اور بے گناہ لوگوں کے سر قلم کرناوہ تمام کاروائیاں ہیں جو ان دہشت گردوں کی حقیقت عیاں کرنے کےلیے کافی ہیں۔ یہ دہشت گرد ان تمام کاروائیوں پر عمل پیرا ہیں جس سےمسلمانوں اور اسلام کی بدنامی ہورہی ہے۔مزید برآں یہ دہشت گرد اپنے سرغنہ لیڈر کو ناحق سراہتے ہیں اور جو سرغنہ اپنی زندگی میں جتنا ظالم تھا اور جس نے زیادہ معصوم لوگوں کا خون بہایا وہ ان ظالموں کے نزدیک اتنا ہی عظیم ہے۔

         القاعدہ ،داعش اورطالبان کی قتل و غارت گری کو نہ تو جنگ کا نام دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی جہاد کا ۔اسلامی پیروکار ہونے کا پرچار کرتے ہوئے ان ظالموں نے بہت سے معصوم لوگوں کے مذہبی لگا ؤ کا استحصال کیا ہے۔ مذہبی جذبات بھڑکا کر ان ظالموں نے نجانے اپنے کتنے ذاتی اور سیاسی مقاصد پورے کیے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان ظالموں کی حوس کی آگ کسی طور ٹھنڈی ہوتی نہیں دکھائی دیتی ۔ یہ ظالم دہشت گردی کی کاروائیاں اتنے سفاک دیدہ دلیری سے کرتے ہیں کہ انسانیت بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔ لیکن شاید یہ خوابِ غفلت میں ہیں کہ اب بھی یہ لوگوں کے مذہبی لگاؤ اور اسلام کے نام سے کھیل سکیں گے۔

         اس مضمون میں بیان کردہ حقائق نے القاعدہ ،داعش اور طالبان کی غیر مذہبی اور غیر اسلامی حیثیت کو اچھی طرح عیاں کردیا ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ صرف اور صرف ‘باغی’ اور خوارج ہیں جس کی مزید تشہیر کرناپاکستانی میڈیا اور علماء کی ذمہ داری ہے۔ ان تخریب کاروں کے لیے مُلا،عالم ،مفتی اور شیخ جیسے القابات استعمال کرنے کے بجائے’دہشت گرد’ اور’خوارج’ جیسے خطابات استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔اس ضمن میں سب سے اہم ذمہ داری امام مسجد پر عائد ہوتی ہے۔جمعہ کے خطبوں میں اور دیگر مذہبی تقریبات پر باقاعدہ ایک آگاہی مہم کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں ان دہشت گردوں کی حقیقت کو عیاں کیا جائے تا کہ ایک عام پاکستانی بھی انھیں صرف اورصرف خوارج،سفاک اور دہشت گردوں کےطور پر جانےجو کہ ان کی اصل حقیقت ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ علماء اس مضمون میں بیان کردہ حقائق کے مطالعے کے بعد مذہبی القابات کے اس استحصال کے خلاف پُر زور مہم چلائیں گے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>