Published On: Fri, Apr 15th, 2016

القاعدہ برصغیر کے بھاری نقصانات اور اسامہ محمود کے جھوٹے الزامات

AQIS

افتخارحسین

پاکستان کے قانون نافذ کرنے ولاے اداروں کی بھرپور کاوشوں اور تعاون کی بدولت آج القاعدہ ، تحریکِ طالبان اور     لشکرِ جھنگوی جیسی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف نمایاں کا میابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ پاکستان آرمی کا کامیاب ضربِ عضب آپریشن نہ صرف دہشتگردی کے مکمل خاتمے کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اِن ظالم دہشتگردوں کے دلوں میں خوف و ہراس طاری کرنے کا بھی مرتکب بنا ہے۔ ایسے حالات میں جب سکیورٹی فورسز ان کے گرد اپناگھیرا تنگ کر رہی ہیں دہشگرد گروہ القاعدہ   برصغیر سے تعلق رکھنے والے نمائندے اسامہ محمود نے بطور پروپیگنڈہ ایک آرٹیکل “پاکستان پر قابض جرنیلوں اور حکمرانوں سے چند باتیں ” شائع کیاجس کا مقصد خواتین کو ڈھال بنا کر ظلم وستم سے بھر پور من گھڑت کہانیاں بیان کر نا ہے تا کہ پاکستان کی عوام کی ہمدردیاں بٹور کر اس کے سیکورٹی اداروں کو بدنام کر سکیں۔دشمن عناصر کی یہ ایک نئی سازش قوم کی سلامتی کو برقرار رکھنے والے ہمارے فوجی بھائیوں کی کاوشوں کو کمزور کرنے کے لئے کی گئی ہے۔

القاعدہ کا ایسے اوچھے ہتھکنڈے اپنا کر خود کو معصوم ظاہر کرنے کا پروپیگنڈہ کافی عرصے سے جاری ہے تا کہ عوام الناس میں سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف اشتعال پیدا کیا جا سکے۔ اسی سلسلے میں برصغیر میں مو جود القاعدہ کے اہلکاروں نے پاک فوج کے تقدس کو پامال کرنے کے لئے ان پر انکی عورتوں سے بدسلوکی کا جھوٹا الزام لگا کر ہمارے فوجی بھائیوں کی کردار کشی کی ہے، یہی وقت ہے جب ان دہشتگردوں کے بچھائے جال کو بے نقاب کیا جائے اور اس بات سے عوام الناس کو باور کرایا جا سکے کہ یہی وہ فوجی بھائی ہیں جو ملک کے ہر مشکل حالات میں سینا تانے بے دریغ ہمارے ملک کی سرحددوں کی حفاظت میں مشغول رہتے ہیں۔ القاعدہ کے ایسے الزامات پر انہیں یہ یاد کرانا بے مقصد نہ ہو گا کہ یہی فوج اور سکیورٹی ادارے تھے جنھوں نے انکے سابق لیڈر اسامہ بن لادن کے خاندان کی عورتوں کو اسکی وفات کے بعد بہترین سہولیات زندگی اور حفاظت فراہم کی۔ ضروری قانونی تحقیقات کے بعد اسامہ بن لادن کی بیویوں اوربیٹیوں کو بحفاظت سعودی عرب کی حکومت کے حوالے کیا گیا۔

باوجود اس کے   عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے القاعدہ جیسی تنظیموں کی طرف سے ان حفاظتی اہلکاروں پر تشدد کی بے بنیاد کہانیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ انہی الزامات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تمام مسلم ممالک اوران کے جانے مانے علماء نے ان           شدت پسندوں کی سازش سے بھر پور کاروائیوں کے خلاف فتوٰیٰ جاری کر رکھے ہیں۔ اس لئے پاکستانی افواج کا ان دہشت گردوں کے خلاف کیا جانے والا عمل قابل تعریف اور قانون کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ البتہ انہی شر پسند تنظیموں نےدراصل خود ہی بار بار بے محل اور جھوٹی دلیلوں سے عورتوں کو غلام بنانے اور ان کی خریدو فروخت کو جائز قرار دینے کی کوشش کی ہے جہالت میں ڈوبے یہ گروہ اور ان کے رہنما شاید یہ نہیں جانتے کہ بہت سے مشتریکین نے اپنی کتابوں میں اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے غلامی کو دنیا سے ختم کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں یہی القاعدہ اور اس سے منسلک گروپ عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کے خلاف غلط تاثر پیدا کر رہے ہیں اور ایسی تنظیموں کو غیر شرعی قرار دے کر عورتوں کی تذلیل اور انکی عزتوں کو پامال کر کے سینا تانے ان کو اپنی حوس کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی بحث ومباحثہ کی روشنی میں کم سن ملالہ یوسف زئی کا ذکر کرنا ضروری ہے جس کو ان شر پسند گروہوں نے اپنی جاہلیت کا نشانہ بنایا۔ یہی دشمن عناصر اسلامی تعلیمات کو اپنی جاہلیت کی بنیا د پر توڑ مروڑ کراور غلط رنگ دے کر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور اسلام کا منور چہرہ اپنی جاہلیت کی بدولت دنیا میں داغدار کر رہے ہیں۔ جبکہ دینِ اسلام سے بہترین خواتین کے حقوق کامحافظ کوئی اور مذہب ہے ہی نہیں۔یہی دہشت گرد گروہ ہیں جو ہماری خواتین کو مالِ غنیمت کا نام دے کر ان کو اغواء کر کے اُن سے زبر دستی شادیاں کرتے ہیں۔

حال ہی میں پولیس نے کراچی میں مقیم عورتوں کے گروہ کو بےنقاب کیا جو دھوکے سے معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر اُن کی شادیاں ان دہشت گرد گروہوں کے باشندوں سے کرانے میں پیش پیش تھا۔ انہی خواتین ملزمان میں سے ایک خاتون ملزم خالد یوسف باری کی اہلیہ تھی جو لڑکیوں کا ایک مدرسہ چلا رہی تھی اور داعش سے متعلقہ وڈیوز فراہم کر کے کم سن لڑکیوں کے دلوں میں ان کے لئے ہمدردی پیدا کر رہی تھی تا کہ انھیں خطرناک دہشتگردوں سے شادیاں کرنے پر رضامند کیا جائے۔

مزید برآں داعش کے لیڈر ابو بکر البغدادی جو کہ اسامہ بن لادن اورایمن الزواہری کا عورتوں کو غلام بنانے کی کمپین میں پیش پیش رہنا بذاتِ خود ایک انتہائی شرمناک عمل ہے۔ اور داعش اور القاعدہ کے ہاتھوں مسلمان لڑکیوں کے جنسی استحصال کا کچھ ادراک اس سے متاثر ہونے والی خواتین کو ہو ا تو وہ ابو بکر البغدادی سے شدید متنفر ہو جائیں۔     بد قسمتی سے اس گروہ کا دھوکے پر مبنی پروپیگنڈہ کچھ خواتین کو بہلا پھسلا لیتا ہے ، چنانچہ تاشفین ملک جیسی امریکی مقیم پاکستانی لڑکی اور مدرسہ حفصہ کی طالبعلم خواتین اس کے چنگل میں پھنس جاتی ہیں اور بغدادی سے بیت کا اعلان کرنے جیسی غلطی کر بیٹھتی ہیں۔القاعدہ کے حلیف دہشتگرد گروہ بوکو حرام نے 2014 میں 275 نوجوان لڑکیوں کو ان کے سکول کے ہاسٹل سے اغواء کر لیا تھا۔

حال ہی میں ایک ہندوستانی مسلمان نوجوان جو داعش کا رکن بنا تھا اس نے انکشاف کیا ہے کہ اُسے داعش نے ایک شامی لڑکی کے ذریعے سے ورغلا کر شام بلایا تھا۔ وہ مزید کہتا ہے کہ شام میں خود اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح سے مسلمان خواتین سے جنسی ذیادتیاں کی جا رہی ہیں اور انھیں مسلمان نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیز ان دہشتگردوں کے بار بار اعترافی بیانات منظرِ عام پر آئے کہ وہ مسلمان خواتین کو اپنی غلامی میں لے رہے ہیں۔

حریت کا جو پیغام قرآن وسنت نے خواتین کو دیا ہے ان خطرناک تنظیموں کا یہ عمل اس سے متصادم ہے ۔ بالخصوص ان گروہوں کی خواتین پر مظالم کی خبریں ہر دردمند انسان اور مسلمان کا دل دہلا دیتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ خود سے سر زد ہونے والے خواتین کے ساتھ اس غیرانسانی اور غیر اسلامی سلوک کویہ دہشتگرد قرآن وسنت کے مطابق جائز قرار دے رہے ہیں جبکہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کی مدد سے ان دہشتگردوں کے شکنجے سے بازیاب ہونے والی خواتین اپنی القاعدہ سے آزادی کا جشن مناتی دکھائی دیتی ہیں۔

پاکستان کےاسلامی معاشرے میں خواتین کو بے پناہ عزت کا حامل سمجھا جاتا ہے جسکی وجہ سے قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور اُن کے حکام پر ان کی عزت وتقدس کو مدِنظر رکھنے کی سخت ہدایات جاری کر رکھی ہیں اور عورتوں کی جامعہ تلاشی کے لئے بھی خواتین سکیورٹی اہلکار متعین کی ہیں۔ لیکن مسلمان عورتوں اورلڑکیوں کی بھلائی ان شدت پسندوں کو کبھی نہیں بھائی۔ ان کی منفی کردار کی عکاسی ان کے دہشت گردانہ پیغامات سے باخوبی ہوتی ہے۔ خود کو خواتین کی عزت کا دعویدار کہنے والا یہ گروہ لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت میں حد سے بڑھا ہوا ہے۔ خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں سے بچاؤ کے لئے ہمارے یہی فوجی بھائی تعینات ہیں جو اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ان ظالموں کے خلاف نعرہ حق بلند کئے ہوئے ہیں۔ اپنی جان کی بازی کھیل کر پاکستان کی سرحدوں سے لے کر اس کے گھروں کی حفاظت کے ضامن ہمارے یہ فوجی بھائی ہر اعتبار سے قابل ستائش اور قابل احترام ہیں۔           اللہ ہمارے ان فوجی بھائیوں کا حامی و ناصر ہو۔

 

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>