Published On: Tue, May 31st, 2016

بھارتی سازشیں نائلہ قادری کاملک دشمن پروپیگنڈا اور کلبھوشن کے اعترافات

بھارتی سازشیں نائلہ قادری کاملک دشمن پروپیگنڈا اور کلبھوشن کے اعترافات

افتخار حسین

بلوچستان کے مسائل کی جڑ بلوچ علیحدگی پسندوں کے بھارت سے مراسم ہیں جنھیں قوم پرست رہنما اب چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔مہران بلوچ ،حربیار مری اور برہمداغ بگٹی متعدد بار بھارتی حکومت سے اپنے روابط کا دبے لفظوں میں اعتراف کرتے رہے ہیں اور بین الاقوامی میڈیا میں بھی اس ضمن میں بہت سی خبریں چھپ چکی ہیں ۔بھارت کی یوں بلوچستان میں مداخلت صوبے کے مسائل کو الجھانے کا باعث ہے اور بھارتی رہنما کسی بھی طور پر بلوچستان میں امن وامان قائم نہیں ہونے دے رہے۔بھارت کی قیادت سے بلوچ علیحدگی پسندوں کے اس گٹھ جوڑ کی تازہ ترین کڑی کے طور پر نائلہ قادری بلوچ نے حال ہی میں ہندوستان کا دورہ کیا ہے ۔نائلہ قادری بلوچ ری پبلیکن پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کی رکن اور ورلڈ بلوچ وومن فورم کی پریزیڈنٹ ہے۔اپنے بھارت کے دورے کی جو تفصیلات نائلہ قادری نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ “@ Naela Quadri” پر شائع کی ہیں وہ ہر محب وطن پاکستانی کے لیے پریشان کن ہیں ۔محترمہ نے پاکستان کی حکومت اور فوج کے خلاف ہندوستانی میڈیا میں زہریلا پروپیگنڈا کیا ہے اور اس کے ٹوئٹر کی ٹائم لائن بھارت نواز بیانات سے پُر ہے۔اس دعوے کی صداقت کو پرکھنے کے لیے قارئین نائلہ قادری کے ٹوئٹر اکاونٹ @Naela Quadri” “کو کسی بھی وقت انٹرنیٹ پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

نائلہ قادری بلوچ نے اپنے بھارت کے دورے میں “را” کی معاونت سے ہندوستانی میڈیا پر پاکستان مخالف بیانات دئیے اور نریندر مودی سے بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کے لیے مدد مانگی ۔محترمہ نے بھارت کے الیکڑونک اور پرنٹ میڈیا میں بہت سے انٹرویو دیئے جن میں پاکستانی افواج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیااور وہ بلوچوں پر مظالم کی من گھڑت داستانیں سناتی رہی۔باخبر صحافتی ذرائع کی معلومات کے مطابق نائلہ قادری کے دورے کے دوران ہندوستان کے فوج اور انٹلیجنس کے اعلیٰ افسروں سے اس کی ملاقاتیں کرائی گئی۔ان ملاقاتوں کا مقصد بلوچستان میں بھارتی مداخلت میں اضافہ کرناتھااور بلخصوص پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کی نت نئی سازشیں تیار کی گئی۔ نائلہ قادری نے ہندوستانی ٹی وی چینلوں سے اپنے انٹرویو اور اخبارات کے تراشے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر اپ لوڈ کر رکھے ہیں جو اس کی پاکستان دشمنی کا منہ بولتا ثبو ت ہیں۔یہ خود ساختہ نسوانیت پرست رہنما بلوچستان میں غیرت کے نام میں قتل آبر وریزی اور عورتوں کے حقوق کو آڑ بنا کر بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں کے لیے مغربی ممالک کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔حکومت ،بلخصوص یورپی ممالک میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں کو نائلہ قادری کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہونا چاہیے ۔

نائلہ قاردی کا رویہ “را” کے ایجنٹ کلبھوشن یادیوکی پاکستان میں گرفتاری کے حوالے سے خاصا دلچسپ ہے محترمہ کے متعدد ٹوئٹس کے مطابق کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اعترافات پاکستانی اسٹیبشلمنٹ کا ڈرامہ ہیں جبکہ بھارت خود اعتراف کر چکا ہے کہ کلبھوشن یادیو ہندوستانی نیوی کا اعلیٰ افسر ہے اور پاکستان میں بھارت کا سفارت خانہ حکومت ِ پاکستان سے سرکاری سطح پراس تک رسائی دینے کی درخواست کر چکا ہے ۔یقینی طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے ‘را’ سے روابط کے پسِ منظر میں’را’ کے ایک ایجنٹ کی بلوچستان سے گرفتاری ہمارے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بہت بڑی کامیابی ہےاور نائلہ قادری کی من گھڑت کہانیوں کے برعکس بین الاقوامی برادری بھی اس معاملے کی حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے۔ پاکستان کے قانونی اداروں کی حراست میں کُلبھوشن یادیو نے انکشافات کیےہیں کہ وہ پاک چائنہ اقتصادی راہدای کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم تھا۔کُلبھوشن یادیواعتراف کر چکا ہے کہ وہ بھارتی نیوی کا آفیسر ہے اور وہ قندھار میں بھارتی قونصیلٹ میں ایک اسپیشل یونٹ چلا رہا تھا جو بلوچ قوم پرست اور علیحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں تھا اور اس نے بلوچستان اور کراچی میں سرگرم ایک فرقہ وارانہ تنظیم سے بھی اپنے روابط کا اعتراف کیا ہے۔’را’ کا یہ ایجنٹ بلوچ علیحدگی پسندوں کی مالی امداداور دہشت گردی کی تربیت دینے جیسے جرائم میں ملوث تھا۔مبینہ طور پر وہ بلوچ علیحدگی پسند دہشت گرد رہنما اللہ نذر بلوچ سے ملاقات کی خاطر افغانستان سے بلوچستان میں داخل ہوا تھا تاہم پاکستان کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بروقت کاروائی کر کے اسے حراست میں لے لیا۔

‘را” کی بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی مہم بھی اب سب کے سامنے ہے۔قومیت پسند تنظیمیں اور علیحدگی کے لیے سرگرم تنظیموں کو ‘را’ کی جانب سے جو معاونت حاصل ہے وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ہےاور کُل بھوشن یادیو کی گرفتاری نے اسےمزید واضح کردیا ہے۔بظاہر بلوچوں کے حقوق کی خاطر آواز اٹھانے والے یہ نام نہاد رہنما دراصل بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں بِک چکے ہیں۔ افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے نہ صرف ان قومیت پرستی کا نعرہ لگانے والے افراد کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کو افغانستان میں پناہ بھی دی جاتی ہے۔ ان پاکستان دشمن عناصر کو خاص طور اس بات کا معاوضہ دیا جاتا ہے کہ وہ بلوچوں کو پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف اُکسا کر رنگ و نسل کے تضادات کی یہ جنگ جاری رکھیں۔بے گناہ شہریوں کا قتل ،تخریب کاری کی وارداتیں ، گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مادے سے اُڑا نا ،بجلی کے کھمبے تباہ کرنا ، یونیورسٹی کے طلباء کا اغواء اور قتل دہشت گردی کی وہ کاروائیاں ہیں جو ‘را’ کے ایماء پر کی جاتی ہیں۔ نام نہاد بلوچ رہنماؤں کے غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات کی نشاندہی نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا بھی کر چکا ہےاور بلوچ قومیت پسند دہشت گرد رہنما بھی اپنے بھارت سے مراسم کو ظاہر کرتے رہے ہیں بلخصوص پاکستان اور چین کے اقتصادی راہداری کے معاہدے کے بعد سے ہندوستان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں اور بھی اضافہ ہو چکا ہے ۔ہندوستان ہر قیمت پر اس منصوبے پر عمل درآمد کو روکنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں وہ بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں کو اثاثہ سمجھتا ہےبھارت سر توڑ کوششیں کر رہا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردوں کو مزید بڑی رقوم اور دہشت گردی کی تربیت دے کر صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مزیددگر گوں کر دے تا کہ عدم تحفظ کی فضا اقتصادی راہداری پر اپنے بُرے سائے ڈال کر اسے تاخیر کا شکار کردے۔تاہم یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اب بلوچستان میں ‘را’ کی سرگرمیوں سے لوگ واقف ہو چکے ہیں اور اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے بہت سے قومیت پرست ہتھیار ڈال چکے ہیں ۔یقینی طور پر یہ بات بلوچستان کی خوشحالی کے لیے ایک مثبت خبر ہےاور کُلبھوشن یا دیو کے مزید انکشافات نائلہ قادری جیسے ضمیر فروش بلوچ علیحدگی پسندوں کی گمراہی اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عوام میں مزید بے نقاب کریں گے۔

درج بالا حقائق ثابت کرتے ہیں کہ قومیت پرست رہنما دراصل غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں جو صرف اپنے مفادات کی خاطر صوبہ بلوچستان کی عوام کو سرزمینِ پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں تاکہ پھر اس پر اپنا جبراً قبضہ جما کر اس کے تمام تر وسائل کو لوٹ مار کا نشانہ بنائیں۔ بلوچ قوم کی ترقی و خوشحالی کا راز پاک وطن کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے میں ہی مضمر ہے تا کہ ان ملک دشمن اور بلوچ دشمن عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔غیور بلوچوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے ذمہ دار عناصر کا ساتھ نہ دیں تا کہ یہ ملک دشمن عناصر اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں اور پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا بھارتی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>