Published On: Mon, Mar 21st, 2016

حکومت کی افہام وتفہیم کی پالیسی اور بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں کا غیر ملکی ایجنڈا

Government policy towards Balochistan

پاک فوج کے سپہ سا لار جنرل راحیل شریف نےحا ل ہی میں اس عزم کا عیادہ کیا ہے کہ مسلح افواج بلوچوں کے ساتھ مل کر بلوچستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کردیں گی ۔جنرل راحیل شریف نے بلوچوں کے تعاون اور جدوجہد کو سراہتے ہوئے یہ امر بھی واضح کیا کہ بلوچستان کے مسائل کا مکمل حل صوبے کی ترقی میں مضمر ہے۔سپہ سالار کے مطابق بلوچستان میں غربت ،پسماندگی اور بے روزگاری کا خاتمہ ضروری ہے تا کہ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف غلط پراپیگنڈا کر کے گمراہ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے ۔جنرل راحیل شریف نے بتایا کہ اگست 2014 سے لیکر اب تک ڈھائی ہزار کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے جن کی بدولت امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے۔تاہم چیف آف آرمی سٹاف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کا مکمل خاتمہ افہام و تفہیم ہی سے ممکن ہے ۔سپہ سالار کے اس بیان کی ہر طبقہ ِفکر کے لوگوں نے تحسین کی نظر سے دیکھا ہے ۔درحقیقت اس حکمت ِ عملی پر پہلے ہی سے عمل درآمد جاری    ہے ۔ہتھیار ڈالنے والے فراریوں کو معاوضہ دینا اور بیرونِ ملک مقیم بلوچ علیحدگی پسندوں سے مذاکرات کا آغاز اسی کی ایک کڑی تھی۔تاہم بلوچ علیحدگی پسند رہنما نہایت ہی خود غرض ہیں اور وہ حیلے بہانے سے ایسی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کر تے ہیں۔بلوچوں کو ان کی دھوکہ دہی کی اس روش کو سمجھتے ہوئے خود کو ان کے چنگل سے آزاد کرانے کی از خودکوشش کرنی ہوگی۔

بلوچ قومیت پرست رہنما جو خود کو بلوچ قوم کی روایات کا علمبردار ظاہر کرتے ہیں، ہر لمحہ نوجوانوں کو ملک اور حکومت کے خلاف ابھارتے نظر آتے ہیں۔ ہمیشہ وسائل کی کمی اور صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا    ذمہ دار پنجابیوں اورپشتونوں کو ٹھہراتے ہیں اور اس بات کا چرچہ کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان حکومت کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف صوبہ پنجاب ہے۔ پنجابی دوسرے صوبوں کی عوام کا حق مارتے ہیں اور بلوچ عوام کے اصل دشمن ہیں۔ پنجابیوں کے خلاف ان کے اس پراپیگنڈا کا مقصد دو صوبوں بلوچستان اور پنجاب کی عوام کو آپس میں لڑوانا ہے اور یہ بلوچستان میں بسنے والے پٹھانوں کے خلاف بھی منافرت پھیلا رہے ہیں۔اس جھوٹے پراپیگنڈے کے زیرِ اثر آکر کچھ بلوچ نوجوان پنجابیوں کو اپنا اولین دشمن تصور کرنے لگے ہیں جبکہ اصل دشمن تو یہ بلوچ قومیت پرست رہنما ہیں جو دراصل غیر ملکی ایجنسیوں کی ہر سازش کا حصہ ہیں۔ ان کے افغانستان میں بھارت کے سفارت خانے سے گہرے تعلقات ہیں اور بھارت کی بلوچستان میں مداخلت کی نشاندہی تو کئی دفعہ بین الاقو امی میڈیا بھی کر چکا ہے۔بھارتی سفارت خانے ان نام نہاد قومیت پرستی کا نعرہ لگانے والے رہنماؤں کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں لہذا صوبے میں دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کو کسی طور بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتاکیونکہ صوبے میں مذہبی ،لسانی اور علاقائی تعصبات کو ہوا دے کر صوبے کی علیحدگی کا نعرہ لگایا جا رہا ہے ۔حکومت ِ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو ہندوستان کے بلوچستان میں عمل دخل سے متعلق ثبوت بھی فراہم کیے ہیں جس کی حقیقت کو سبھی نے تسلیم بھی کیا ہے۔

قومیت پرست رہنما دراصل غیر ملکی ایجنسیوں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں جو صرف اپنے مفادات کی خاطر صوبہ بلوچستان کی عوام کو سرزمینِ پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں تاکہ پھر اس پر اپنا جبراً قبضہ جما کر اس کے تمام تر وسائل سے مستفید ہو سکیں۔ بلوچ قوم کی ترقی و خوشحالی کا راز پاک وطن کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے میں ہی مضمر ہے تا کہ ان ملک دشمن اور بلوچ دشمن عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔

بلوچ علیحدگی پسند رہنما’را’ کی ایماء پر امن کے ہر موقع کو گنوا دیتے ہیں اور افہام وتفہیم کی ہر پیش کش کو غلط رنگ دے کربلوچستان کا امن و امان خراب کر دیتے ہیں۔بعض ذرائع کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی اور اس طرح کی دوسری تنظیموں کو پہلے ہی کارندوں کی کمی کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے حکومت اور پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا تیز کر دیا ہےجس کا مقصد بلوچ نوجوانوں کو تنظیم میں شمولیت کے لیے اکسانا ہے ۔ حکومتِ وقت اور فوج کو بلوچستان کی محرومیوں کا ذمہ دار ٹھہراکر ان کے خلاف نفرت کے جذبات کو ابھارنا ہے۔ قومیت پرست تنظیمیں ہمیشہ ہی حکومت اور پاک فوج کے خلاف وا ویلا کرتی نظر آتی ہیں۔لیکن قومیت پرست گروہوں کے کمانڈرز اور کارندوں کا اپنے گروہ چھوڑ کر پرامن زندگی گزارنے کے فیصلے سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ یہ تحریکیں کسی صورت بلوچ قوم کے خیر خواہ نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تحریکیں چھوڑ کر آنے والے فراریوں کاخیر مقدم کیا جار ہے تا کہ وہ پرامن شہری کے طور پر اس ملک میں تعمیری کردار ادا کر سکیں ۔

غیور بلوچوں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے ذمہ دار عناصر کا ساتھ نہ دیں تا کہ یہ ملک دشمن عناصر اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں اور پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ علاوہ ازیں حکومت کو چاہیے کہ بلوچستان کے تما م مسائل کو حل کرکے بلوچ قوم کو قومی دھارے میں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ بلوچوں کو روزگار مہیا کیا جائے ۔ تمام وسائل کی منصفانہ تقسیم کی جائے تاکہ بلوچ قوم کسی دوسری طرف دیکھنے کی ضرورت محسوس نہ کرے ۔ اِن تمام مسائل کا حل بے حد ضروری ہے تا کہ حکومت کی پالیسیوں کی بدولت زیادہ سےزیادہ فراری اپنی تحریکیں چھوڑ کر پرامن شہری کے طور پرقومی دھارے میں شامل ہوں۔

حکومت پر لازم ہے کہ وہ ماضی کی حکومتوں کی نظر انداز کی پالیسیو ں سے پیدا ہونے والے رنج اورشکایات کا ازالہ کرنے کےلیے اپنے اعلانات اور و عدوں کو عملی جامہ پہنائے اور بلوچستان کے عوام کے اجتماعی اور انفرادی مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دے ۔بلوچ نو جوانوں کو روز گار کے مواقع فراہم کیئے جائیں او ر تمام قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کر کے بلوچ نوجوانوں کا احساس محرومی ختم کیا جائے ۔بلوچ علیحدگی پسند پاکستان کے سچے اور بہادر فر زند ہونے کا ثبوت دیں تو ہماری حکومتیں اور دفاعی ادارے بھی بلوچوں کی پہلے سے بھی بڑھ کر عزت و تکریم کریں گے۔

جس طرح پا ک افواج کی قیادت نے بلوچ نو جوانوں کو پاک افواج میں بھرتی کے شاندار مواقع فراہم کرنے کیلئے بلوچستان میں کیڈٹ کالجز قائم کیے ہیں اس طرح وفاقی حکومت بھی بلوچستان کے نو جوانوں کو میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم کے لئے مزید عملی اقدامات کرے اور بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمہ کے لیے بھی بھر پور اقدامات کیئے جائیں اور بلوچستان کو جو پیکجز دئیے گئے ہیں ان پر عمل درآمد کو مزید تیز کیا جائے ۔علیحدگی پسند جنگجووں کا ہتھیار ڈالنا ایک خوش آئند عمل ہے اور درجِ بالا اقدامات یقینی طور پر بلوچوں کے لیے بھی مزید خوش حالی لائیں گے اور پاکستان میں قومی یکجہتی کو مزید فروغ ملے گا۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>