Published On: Wed, Aug 23rd, 2017

داعش کا مقصد خلافت یا مسلمانوں کی بربادی اور استحصال

داعش کا مقصد خلافت یا مسلمانوں کی بربادی اور استحصال

سید ثاقب علی شاہ

داعش ایک بنیاد پرست دہشت گرد تنظیم ہے جس نے ۱۹۹۹ میں وجو د میں آنے کے بعدالقاعدہ سے الحاق کیا۔۲۰۱۳ کے وسط میں جب اس  دہشت گرد گر وہ کی قتل و غار ت کی خبریں وسیع پیمانے پر میڈیا میں سامنے آئیں تو اپنی  شیطانی حرکا ت اور مقاصد کو چھپا نےکے لیےالقاعدہ سےعلیحدگی  اختیارکی اور مسلما نو ں کو گمراہ کرنے کے لیے ۲۰۱۴ میں خلا فت کا بے بنیا د نعر ہ لگا یا ۔داعش کا اصل مقصد مشر ق وسطی اور اس کے ملحقہ علاقو ں میں ریا ستی انہدا م اور افرا تفر ی پھیلا کر غیر مسلم مما لک کے ایجنڈوں کو فروغ  دینا اورانکی افوا ج کی مداخلت کے لیے راہ ہمو ار کرنا ہے ۔داعش کا اپنے  شیطا نی حر بوں اور خونریزیو ں کو مذہبی رنگ دینا د نیا بھر میں مسلما نو ں کے ساتھ امتیا زی سلوک کا باعث بن رہا ہے۔ ان کے دہشت گردانہ اقدامات مسلما نو ں کی ذہنیت پر نفسیا تی طورسےاثر اندا ز ہو رہے ہیں اور دنیا بھر میں مسلما نو ں کو حقارت کی نظر سے دیکھا جا نے لگا ہے ۔ ان کے نظریات کے مطا بق انفر دی آزادی ، جمہو ریت ،انسا نی حقوق اور آزاد معیشت کی کو ئی حیثیت نہیں ہے۔ان نظریا ت کے پیر و کا رو ں کا مقصد ایک ایسی جا بر جما عت کا قیا م ہے جو ہمیشہ جنگ کی تیا ریو ں او ر کُشت وخو ن میں مصرو ف رہے ۔ اس نظریے کی وجہ سے ساری دنیا بالخصوص مسلم ممالک میں  تبا ہی اور ہزاروں معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہو ئیں۔ داعش نے مسلمانو ں کے منظم قتل عام سے جو تباہی اور بر بریت بر پاکی اس کی تاریخ میں کو ئی مثال نہیں ملتی ۔ اس قسم کی حکمت عملی اور شیطانی حر بو ں کو اسلام کا رنگ دے کر شرپسند مقا صد حا صل کرنا صرف خوارج کا کا م ہے جو دہشت گردانہ نظریا ت پر یقین رکھتے ہیں ۔

            داعش کے شیطا نی نفسیا تی مر یض ما ضی قر یب  کے ان بنیا د پر ستوں سے مشا بہت رکھتے ہیں جنہیں اقتدار ملنے سے ملک و قو م کی مکمل تبا ہی ہو ئی ۔ دا عش و دیگر بنیا د پر ستو ں میں صرف اتنا فر ق ہے کہ داعش دین اسلا م کو اور با قی بنیا د پرست نسل اور قومیت کو اپنے شیطا نی مقا صد کے لیے استعمال کر تے ہیں ۔ داعش کا اسلامی تعلیمات کوتوڑمروڑکر اپنے سیا سی مقا صد کے حصول کے لیے استعمال کر نا اس با ت کی تصدیق کر تا ہے کہ داعش بھی مغر بی دنیا کے فاشٹ نظریا ت کی پیر و کا ر ہے۔ داعش نے منظر عام پر آتے ہی سفا کا نہ تشدد اور دہشت گردی کو فروغ دیا اور اب ان کا مقصد جد ید ذرائع ابلا غ  کے استعما ل سے معصوم مسلما نو ں کو ورغلاناہے تاکہ امت مسلمہ کی بربا دی یقینی ہو سکے ۔ در حقیقت، اسلا می تاریخ میں خلفائےراشدین نے اپنے دورحکومت میں انسانی حقوق ، اقتصادی و سما جی آزادی اور حقوق العباد کو معاشرے  بھر میں فروغ دے کر بلا تفر یق مسلمانوں اور غیر مسلموں کو تحفظ دیا ۔ داعش اگر حقیقی ا سلا می تنظیم ہوتی تو خلفائے راشدین کی طر ز پر صحیح معنو ں میں اللہ اور رسول ؐ کے احکا مات کے مطا بق اقدا مات کرتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش قتل و غارت گری سے متا ثر ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو اپنے نا پاک نظریے کو اسلام جیسے مقدس مذہب سے منسوب کیے ہوئے ہے۔اسی وجہ سے داعش میں شامل ہو نے والے تما م لو گ وہ ہیں جو دراصل ذہنی بیمار ، معا شر ے کی گندگی اور علم کی دولت سے محر وم ہیں ۔

            عصر حا ضر میں داعش جدید ذرا ئع سےاپنے دہشت گر دانہ فا شسٹ نظریا ت کا پر چار کرکے مسلمانوں کے اسلا می نظریا ت اور اصولی خیالا ت کو مسخ کر نے کی کو شش کر تے ہو ئے انہیں سفا کا نہ مظا لم اور دہشت گر د  حملوں پر  اکسا  رہی ہے ۔ تما م مسلم ممالک نے ان نظریا ت کو یکسر مسترد کیا مگر غیر مسلم مما لک نے اس کا فائدہ اٹھا یا اور تما م مسلما نو ں اور اسلا م کو اپنے لیے خطر نا ک تصور کر تے ہو ئے تما م بر  ائیو ں کی جڑ قرا ر دیا۔ داعش اور اس کے آقاوٗں کا شیطانی مقصد مسلما نو ں اور غیر مسلمو ں کے درمیان ہو لنا ک جنگ کروانا ہے جو  فی الوقت نا کا م ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داعش نےاکیلے بھیڑیے کی  طرز پر انفر ادی حملوں کے پر و پیگنڈے میں اضا فہ کر دیا ۔

            داعش ایک منظم میڈیا مہم  جو ئی کے ذریعے معا شرے میں دو طر ز کے افرا د کو خصوصی طور پر نشانہ بنا کر اپنی طرف متوجہ کر نے کی کو شش کر تی ہے ۔ان کا پہلا  ہدف ایسے لو گ ہیں جن میں اسلا می تعلیما ت کا فقدا ن ہوتا ہے اور آسانی سے ان کے جا ل میں پھنس جاتے ہیں۔یہ معصوم لوگ دنیا کے بدلتے ہوئے سیا سی ،مذہبی اور سما جی حا لات سے نا واقف ہو نے کی وجہ سے داعش کے جھوٹ کا آسانی سے یقین کر لیتے ہیں اور دہشت گر د حملوں کے لیے گمر اہ ہو جا تے ہیں جبکہ ان کا دوسر ا نشا نہ معا شرے کے مجر ما نہ کر دار کے حامل لو گ ہیں۔ داعش اپنے دہشت گردانہ مفا دات کے حصول کے لیے ان لو گو ں کو پیسوں کا لا لچ دے کر دہشت گر د حملوں میں استعما ل کر رہی ہے۔

            تما م مسلمانو ں اور مسلم مما لک کے لیے یہ بڑا سوالیہ نشان ہے کہ شر پسند عنا صر پر مبنی داعش کا یہ فتنہ کب اور کیسے ختم ہو گا ؟ کیا داعش کا اس انداز سے اسلام کا من پسند مطلب نکال کر دہشت گر د ی کو فروغ دینا غیرمسلمو ں کا مسلما نو ں پر جو ہر ی حملہ کر وانے کی سازش تو نہیں ؟  یہ سب ہی سوالات پر یشا ن کن ہیں جن کے حل کے لیے مسلما نوں کی اجتما عی کوشش ، فکر اور صبر و تحمل کی ضرورت ہے۔

            داعش نہ تو اسلا می تعلیما ت کی پیر وکا ر ہے اور نہ ہی اس کا نا م  نہا د خلافت کے قیا م کا دعوٰی درست ہے ۔ یہ وہ فتنہ بردار گروہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن پا ک میں خبر دار کر رکھا ہے ۔”  اور جب ان سے کہا جا ئے کہ زمین میں فسا د نہ کر و تو کہتے ہیں ہم تو اصلا ح کر نے والے ہیں ۔ جان لو یہی فسادی ہیں مگر انہیں شعو ر نہیں ” (سورۃالبقرہ :(۱۱۔۱۲)۔ داعش صر ف خوف و حر اس پید ا کر نے کےلیے بنی ہے۔ ہم اس زما نے میں رہ رہے ہیں جہا ں اسلا م کے نا م پر دھو کہ دہی کی جا رہی ہے اور ہمیں اس کا احسا س ہو نا  چا ہیے کہ داعش اور اس کے حامی نا صرف قرآن و سنت کی تعلیما ت کے خلاف ہیں بلکہ ان تعلیما ت کو اپنے شیطانی مقا صد اور مغربی دنیا کے مفا دات کے لیے استعما ل کر رہے ہیں ۔ ان کا مقصد اسلام دشمن قوتوں کی ایما ء پر مسلما نوں کو خلافت کا جھانسہ دے کر گمر اہ کرنا اور دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعما ل کر نا ہے۔ تمام مسلمانو ں کو داعش کے تمام ترنظریا ت اور پروپیگنڈے کو مسترد کرنا ہوگا تا کہ ان دہشت گرد وں کا مسلما نو  ں کی بر با دی اور استحصال کا خواب کبھی پو را نہ ہو اور اصل اسلام جو دین حق ہے اس کا تحفظ اور حقیقی نفاذیقینی ہو سکے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>