Published On: Fri, Jun 9th, 2017

داعش کی پریشان اور مایوس خواتین کو اپنے جال میں پھنسانے کےلیے جھوٹے وعدوں کی حکمت عملی

داعش کی پریشان اور مایوس خواتین کو اپنے جال میں پھنسانے کےلیے جھوٹے وعدوں کی حکمت عملی

سید ثاقب علی شاہ

بیلجیم کی ایک خاتون لاورا پاسونی نے اپنے ایک ساتھی کے جھانسے میں آکر ۲۰۱۴ میں داعش میں شمولیت اختیارکر کےاور بعد ازاں شام کی طرف ہجرت کی۔ پاسونی نے تمام عورتوں کو خبردار کیا کہ وہ اس طرح کی غلطی سے خود کو محفوظ رکھیں۔ گزشتہ سال پاسونی داعش سے دل شکستہ فرار ہوکرواپس اپنے وطن پہنچی اور بیلیجیم کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے طویل تحقیقات کے بعد حال ہی میں اسے دوبارہ اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی۔ اس نے ایک لڑکے سے نئی نئی شادی کی جو داعش میں شامل ہونا چاہتا تھا۔تاہم دونوں نے ایک کروز کشتی کے ذریعے ترکی تک اور وہاں سے ایک کرائے کی گاڑی کے ذریعے شام تک کا سفر طے کیا۔پاسونی کے ساتھ کیا گیا کوئی بھی وعدہ پورا نہ ہوا اور بالآخر وہ اپنے ہی گھر میں قید ہو کر رہ گئی ۔ اس نے اپنے بچے کے ساتھ ایک مرتبہ بھاگنے کی کوشش کی مگر داعش کے ہاتھوں گرفتار ہوگئی۔بعد میں پاسونی اپنے خاوند اور بیٹوں کے ہمراہ چھپ کر بھاگنے میں کامیاب ہوئی ۔بیلیجیم میں واپس پہنچنے کے بعد اس کا خاوند جیل میں چار سال کی قید کاٹ رہا ہےاور پاسونی مشروط طور پر سخت نگرانی کے اندر زندگی گزا ر رہی ہے۔ اب وہ اپنا وقت نوجوانوں کو آگاہ کرنے میں گزار رہی ہے تاکہ وہ داعش کے جھوٹے وعدوں  پر یقین کرنے سے باز رہیں۔

شدت پسندانہ نظریات کا شکار اکثر ایسی عورتیں ہوتی ہیں جن کی زندگی میں کوئی صدمہ واقع ہوا ہو۔ایسی پریشان کن  صورتحال سے نجات حاصل کرنے کےلیے یہ عموماً مذہبی حل تلا ش کرتی ہیں اور آسانی کے ساتھ داعش اور اس جیسی دیگر تنظیموں کے دہشت گردانہ پرو پیگینڈے کا شکار ہوجاتی ہیں۔مشاورتی مراکز میں زیر علاج شدت پسندانہ نظریات کے حامل لوگوں میں اکثریت عورتوں کی ہوتی ہے۔یہ عام طور پر گھریلو تشدد ، جنسی زیادتی یا کسی بھی طرح  کی پسماندگی کا شکا ر ہوتی ہیں۔ایسی صورتحال میں مبتلا عورتیں آسانی سے داعش  کے فریب کا شکار ہوجاتی ہیں جو انھیں متبادل پرسکون معاشرے میں سکونت یا انتقام کی آڑ میں بہکاتی ہے۔داعش عموماً لوگوں کو انسانیت کی بھلائی اور نام نہاد خلافت کے قیام کےلیے نیک کردار ادا کرنے کا جھانسہ دیتی ہے۔

جب پاسونی کے خاوند نے اس سےاور اس کے بیٹے سے علیحدگی اختیار کی تو وہ بہت صدمے کا شکار تھی۔ذہنی دباؤ کی شکار پاسونی نے مذہبی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور فِیس بُک پر ایک جعلی اکاونٹ بنا کر برقے اور ہتھیاروں سے لیس تصویریں پوسٹ کیں۔ علیحدگی کے بعد یہ اقدام اسے مضبوط کر رہا تھا مگر دوسری طرف داعش نے بھی اس  پر اپنی توجہ مرکوز کر لی۔پاسونی کی کمزوریوں سے کھیلتے ہوئے اسے بتایا گیا کہ وہ ایک نرس بن کر شام کے لوگوں کی مدد کرسکتی ہے۔ اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ مایوسی ختم کرکے ایک نئی زندگی کی شروعات کرے۔ وہ اپنی زندگی میں پیار اور مقصد کی تلاش میں تھی جبکہ داعش کو جنسی خواہشات کےلیے عورتوں کی تلاش تھی۔داعش ذہنی دباؤ کے شکار لوگوں کو بتاتی ہے کہ وہ انھیں ان کے خاندان سے زیادہ سمجھتے ہیں اور بدقسمتی سے بعض لوگ ان کا یقین   بھی کرلیتے ہیں۔

پاسونی کےمعاملے میں اسے ایک نرس کے طور پرنام نہاد خلافت میں کام کرنے کے مناظر  دکھائے گئے مگر اس کے تمام خواب ہوا میں بخارات کی مانند اڑ گئے۔ اسے شام کے ایک گھرانے میں منتقل کر کے اُسی میں محصور کیا گیا جہاں وہ سارا دن گھر صفائی ، کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ تشدد اور جنسی استحصال کا بھی شکار ہوتی ۔پاسونی جب اپنے داعش کے ساتھی کے ہمراہ اپنے بچے کو لے کر شام روانہ ہوئی تو وہاں پہنچتے ہی اسے اسکے ساتھی سے علیحدہ کر دیا گیا۔ تب اسے اس بات کا احساس ہوا کہ درحقیقت وہ شام کے لوگوں کی مدد کےلیے نہیں لائی گئی جیسا کہ اس سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہاں موجود خوف وہراس اور تنہائی کے ساتھ ساتھ وہ حاملہ بھی ہوگئی ۔ اسے یہ پریشانی تھی کہ وہ بچے کی پیدائش کے دوران مر جائے گی ۔ داعش میں شمولیت کے ۹ ماہ بعد بالآخر حاملہ پاسونی اپنے ساتھی اور بچے کے ہمراہ بھاگ کر واپس بیلجیم پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کی ۲۰۱۵ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاسونی ان ۵۵۰ عورتوں میں شامل ہیں جو داعش کے جھانسے میں آکر شام اور عراق کا سفر کر چکی ہیں۔ ان سب عورتوں کا مقصد ہرگز دہشت گرد حملے کرنا نہیں تھا۔ داعش  نے انھیں شام میں زندگی کے متعلق محبت بھری ویڈیوز دکھائی  جن میں تشدد اور دہشت گردی کا کوئی عنصر موجود نہ تھا۔پاسونی کو بھی ایسی ہی وڈیو دکھا کر اور جھوٹے وعدے کر کے گمراہ کیا گیا۔ اس نے یہ خیال کر لیا کہ داعش کے جنگجو بہادر اوروفادار ہیں جو اس کا اور اس کے بچے کا خیال رکھیں گے۔تاہم اس نے ایک تو نیشن لڑکے سے فیس ُبک پر رابطے کے بعد شادی کا فیصلہ کیا جو اس وقت بیلجیم میں موجودتھا اور دونوں نے شام کا سفر کیا۔

جیسے ہی پاسونی داعش کے پاس پہنچی تو اسے حقیقت میں پتہ چلا کہ دہشت کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟ اُسے فوراً یہ احساس ہو گیا کہ یہ ہرگز وہ جگہ نہیں ہے جہاں وہ اپنے بچے کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔اس سارے جھوٹ کے بعد اس کی آنکھیں کھل گئیں۔پاسونی کاکام صرف داعش کےلیے بچے پیدا کرنا تھا۔پاسونی نے وہاں سے بھاگنے کےلیے ہر ممکن کوشش کی تاکہ اس کا بچہ دہشت گرد نہ بنے۔ وہ اپنے بچے کی حفاظت کرنا چاہتی تھی مگر اب اس کے بچے پرصرف اس کا اختیار نہیں تھا۔ داعش اس کے بچے کو بھی تربیتی کیمپ میں لے جاتے۔ ایک دن اس کا بچہ ایک ریچھ کی شکل کا کھلونا اور پلاسٹک کی چُھری لے کر واپس آیا  اور اپنی  ماں کوبتانے لگا کہ کیسے اسے کھلونے کو کاٹنے کی تربیت دی گئی ہے۔ یہ اچھا تھا کہ اس کا بچہ صرف ۴ سال کا تھا ورنہ ۱۲ سال سے زائد کے بچےتو خو دبخود لڑائی کےلیے آسانی سے تیار ہوجاتے ہیں۔

بیلجیم واپسی پر پولیس نے پاسونی سے سخت چھان بین کی اور بیلجیم کے سماجی اداروں نے ۳ ماہ کےلیے اسے بچوں سے علیحدہ کرلیا۔ پاسونی کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور دہشت گرد داعش کے ظلم وستم کے برعکس اس نے پانچ سال کی مشروط آزمائشی رہائش کی اجازت کے ساتھ ۱۵۰۰۰یورو زکی سزا قبول کرلی۔اس کا خاوند دہشت گرد تنظیم سے منسوب رہنے کی پاداش میں ۴ سال کی جیل کاٹ رہا ہے۔چونکہ پاسونی شام جانے اورداعش کے ساتھ کام کرنے سے قبل ان کے حقیقی دہشت گردانہ نظریات سے واقف نہ تھی ، اس وجہ سے اسے سزا میں نرمی برتی گئی۔اب یہ ہر وقت پولیس کی نگاہ میں  رہتی ہے۔ پاسونی کو ملک چھوڑنے ، سوشل میڈیا کے استعمال اور شام میں کسی بھی فرد سے رابطے کی ممانعت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اپنے شوہر سے بھی جیل میں بات نہیں کرسکتی۔

پاسونی  نے  ایک آپ بیتی “اِن دا ہرٹ آف داعش ود مائی سن” لکھی اور اب یہ بیلجیم کے مختلف اداروں میں لوگوں کے ساتھ اپنے تجربات کا تذکرہ کرتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔اسے افسوس ہے کہ وہ اپنے بچے کو دہشت گردوں کے پاس  کیوں لے گئی۔ اسے امید ہے کہ وہ لوگوں کو شام جانے سے روکنے کےلیے قائل کرسکے گی کہ اسلام درحقیقت وہ نہیں جو داعش نے اپنایا ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ہیں۔پاسونی اب اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی ہےمگر اس مجرمانہ ماضی کے ساتھ اسے کام تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف اتنا کر سکتی ہے کہ وہ اپنی کہانی چھپانے کے بجائے سب کو بتائے۔ اس کا ماننا ہے کہ اگر وہ صرف ایک شخص کو بھی داعش میں شمولیت سے روک لے تو اس کے ناخوشگوار تجربے کی اہمیت ہوگی۔ اب وہ ایک آزاد خاتون ہے جو داعش کے نام نہاد جہاد اور خلافت کے خلاف مختلف جگہوں پر مہم کرتی ہے۔ پاسونی نے سزا تسلیم کر کے یہ کہا کہ حقیقت  میں یہ سزا داعش کی دی گئی تکلیفوں کے مقابلے میں آرام دہ لگتی ہے ۔ تاہم ، ایسی تمام عورتیں جو کسی بھی وجہ سے صدمے  کا شکار ہیں انھیں چاہیے کہ داعش کے چنگل سے محفوظ رہیں جو مذہب  کی آڑ  میں لوگوں کو گمراہ  کرکے ان کی زندگیاں بد ترین  بنا دیتی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>