Published On: Fri, Jun 9th, 2017

دہشت گردی،انتہاپسندی،فرقہ واریت اور خودکش حملوں کے خلاف تمام مکاتب فکر کے جیّد علماء اکرام کا متفقہ فتویٰ۔

دہشت گردی،انتہاپسندی،فرقہ واریت اور خودکش حملوں کے خلاف تمام مکاتب فکر کے جیّد علماء اکرام کا متفقہ فتویٰ۔

سید ثاقب علی شاہ

پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے نامور جیّدعلماء اکرام نے دہشت گردی ، انتہاپسندی ،فرقہ واریت اور خودکُش حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ۲۶ مئی ۲۰۱۷ کو اس کے خلاف ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا۔ اس تاریخی ۹ نکاتی فتویٰ میں تمام علماء اکرام نے دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ریاست کی کوششوں کی بھرپور تائید کی اور متفقہ طور پر یہ قرار دیا کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کا  اختیار ہے ۔تمام دہشت گرد تنظیموں بشمول تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، داعش و دیگر کا اسلامی قوانین کے اطلاق کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دینا حرام اور اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے۔اس فتویٰ نے خودکش حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کو بھی ملک کا غداراور باغی قرار دیا ۔ علماء اکرام نے شریعت کے نام پر دہشت گردی کو مسترد کرتے ہوئے حرام قرار دیااور اس بات پربھی  زور دیا کہ ریاست کے خلاف مسلح اقداما ت اسلامی تعلیمات کے خلاف     ہیں ۔تمام علماءومشائخ نےاس بات پر زور دیا کہ حکومت ،افواج اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف مسلح جدوجہد کا کوئی جواز موجود نہیں اور ایسے اقدامات اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سنگین غداری قرار دیا ۔ اس فتویٰ نے ریاست کے خلاف تمام دہشت گرد تنظیموں کی مسلح محاز آرائی ، فساد، دہشت گردی، انتہاپسندی، خودکش حملوں اور تباہی پھیلانے کو قطعاً حرام قرار دیا ۔تمام علماء اکرام نے فرقہ وارانہ منافرت کوبھی شریعت کے خلاف اور فساد فی الارض قرار دیا۔ اس فتوے میں تمام تر نسلی، علاقائی،لسانی اور دینی بنیادوں پر مسلح جدوجہدکو شریعت کے منافی قرار دیتےہوئے قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیا۔

یہ فتویٰ بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے زیر اہتمام میثاق مدینہ کی روشنی میں پاکستانی معاشرے کی تشکیل نو اور”پیغام پاکستان” کے اعلان کےلیے منعقدہ ایک سیمینار کے اختتام پر جاری کیا گیا۔مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی نے اس فتوے کو پڑھ کر سنایا جس پر مفتی منیب الرحمن، علامہ حنیف جالندھری،مفتی نعیم احمد، علامہ ریاض حسین نجفی،مولانا عبدالرزاق سکندری، مولانا حامد الحق حقانی،مولانا یسین ظفراور دیگر جیّد مفتیان اکرام کےد ستخط موجود تھے، تاہم، مختلف مکاتب فکربشمول وفاق المدارس پاکستان، وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس السلفیہ، پاکستان علماء کونسل اور دارالعلوم کراچی کے 31 علماء اکرام نے اس متفقہ فتوے واعلامیے کی توثیق کی۔

ملک کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے جیّد علماءاکرام نے باہمی اتفاق رائےسے دہشتگردوں اور تخریب کاروں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کی بھرپور تائید کی۔ تمام علماء نے اس بات کی توثیق کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں حکومت،پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہیں۔آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلیے شروع کیا گیاہے اور تمام مکاتب فکر کے مذہبی رہنما اس قومی حکمت عملی کی کامیابی تک ان ملک دشمن قوتوں کے خلاف حکومت و افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔تمام علماء اکرام کے اس متفقہ فتوے کے بعد ریاست پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد تنظیموں تحریک طالبان، داعش ، القاعدہ و دیگر کی مسلح محاذ آرائی کا کوئی دینی یا نظریاتی جواز باقی نہیں رہ جاتا ۔یہ تمام دہشت گرد تنظیمیں دینی شعائر اور نعروں کو نجی و عسکری مقاصد  اور مسلح طاقت کےلیے استعمال کرتے ہیں جو قرآن وسنت کی روح سے درست نہیں۔

پاکستان کے ان نامور علماءومشائخ نے ملک میں موجود  تمام نجی و عوامی درسگاہوں کو عسکریت پسندی، نفرت، انتہا پسندی اور تشدد کے فروغ سے باز رہنے کی ہدایت کی اور تمام درسگاہوں کو اپنے نصاب میں ایسی منفی سوچ کے برعکس تعلیمات کی تلقین کی۔ اگر کوئی شخص یا کوئی ادارہ ایسی کسی بھی منفی سرگرمی میں ملوث ہو تو یہ حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثبوت کے ساتھ اس کے خلاف بھرپور قانونی کاروائی کریں۔ اس فتوے میں یہ بات بھی واضح کی گئی کہ ایسے انتہا پسند رجحانات کے سدباب کےلیے نظریاتی جہاد اور موثر انتظامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں ۔ اس فتوے میں مزید یہ باور کیاگیا کہ تمام مسالک اور فرقوں کو قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے نظریات کی تبلیغ کی اجازت ہے لیکن اسلامی تعلیمات اور ملک میں موجود قوانین کے مطابق کسی کو بھی اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ وہ کسی شخص ،مسلک یا ادارےکے خلاف زبانی یا تحریری نفرت پھیلائے۔

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کےلیے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ وسیع پیمانے پر اس کے خلاف اجتماعی کوششیں کی جائیں ۔اسلام اعتدال پسندی، برداشت ، ہم آہنگی اور متحمل نظریات کا درس دیتا ہے۔ اس ضمن میں مذہبی رہنماؤں اور میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں میں برداشت اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو تسلیم کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔دہشت گردی ، انتہاپسندی اور مذہبی عدم برداشت کی شکست صرف اور صرف گُمراہ کُن عناصر کی ذہنیت تبدیل کرنے سے ہی ممکن ہے اور اس کا حصول دوسروں پر اپنا نقطہ نظر مسلط کرنے سے نہیں بلکہ مکالمے،بحث اور استدلال سے ہے۔ اس غیرمنقسم اور بروقت فتوے کا ایسےپس منظر  میں جاری ہونا انتہائی اہم ہے جب حکومت ،پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی،انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف آپریشنز میں مصروف ہیں۔خوش قسمتی سے ان تمام علماء اکرام اور مذہبی رہنماؤں نے اجتماعی حکمت سے ملک کو درپیش ان مسائل پر غور و فکر کر کے دہشت گردی ، انتہاپسندی اور خودکش حملوں کے خاتمے کےلیے تدبیر اختیار کی اورپہلی مرتبہ متفقہ فتویٰ جاری کیا۔ اس تاریخی فتوے کے بعد دوسرا اہم مرحلہ پورے ملک میں اس کا مکمل نفاذ ہے جس کےلیے تمام دانشوروں ، ،ماہرین تعلیم اور میڈیا کا تعاون انتہائی اہم ہے تاکہ وہ اس متفقہ فتوے کو دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور خود کش حملوں کے خلاف جوابی بیانیے کے طور پر پیش کرنے میں اپنابھر پورکردار ادا کریں۔

پاکستان کی سیاسی قیادت،پاک فوج، تمام مکاتب فکر کے علماء اکرام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف یکجا ہیں۔پاکستان میں امن کا قیام اب زیادہ دور نہیں، خاص طور پر جب تمام مکاتب فکر کے علماء اکرم نے متفقہ طور پر ریاست کے ساتھ تعاون کےلیے ہاتھ بڑھایاہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کےلے تمام جیّد علماء اکرم کا یہ اقدام انتہائی اہم ہے جس نے اسلام کی واضح غلط تشریحات سے دہشت گردی ، انتہا پسندی ، تشدد اور اشتعال کو فروغ دینے والی تمام تر نام نہاد شرعی جوازیت کو مسترد کردیا۔ ہمارے معاشرے میں دین کے نام پر نفرت پھیلائی جاتی ہےاور یہ علماء اکرام کی ذمہ داری  ہے کہ معاشرے کو نفرت اور تشدد سے پاک کرنے کےلیے اپنا کردار ادا کریں۔دراصل دین نفرت اورتشدد کے پرچار کرنے والوں کے ہاتھوں یرغمال ہے اور ایسی صورتحال میں تمام علماء ومشائخ  کا فعال کردار انتہائی اہم ہے۔یہ فتویٰ بالخصوص ایسے تمام عناصر کےلیے اہم ہے جو دین کا کم علم ہونے کی وجہ سے دہشت گرد بیانیے کاآسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم اس بات کی ضرورت ہے کہ تمام باقی علماء اکرام اس فتویٰ کی بھرپورتائید کر کے اس کا اپنے خطبات میں پرچار کریں تاکہ تحریک طالبان پاکستان، داعش ، القاعدہ و دیگر دہشت گرد تنظیموں کے مکروہ چہرے کھل کر عوام کے سامنے آجائیں اور عام معصوم لوگ ان کی اسلامی تعلیمات کی من گھڑت تشریح اور دہشت گرد نظریات سے محفوظ رہیں۔

(Visited 2 times, 1 visits today)

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>