Published On: Fri, Apr 1st, 2016

‘را’کےایجنٹ کُل بھوشن یادیو کے انکشافات اور پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کی بھارتی کوششیں

RAW Agent in Balochistan

افتخار حسین

بھارت کی پاکستان دشمنی ہمیشہ سےہی کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں رہا اور ہندوستانی رہنماؤں نے پاکستان کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ۔اب جب وہاں ہندو انتہا پسند جماعت کی حکومت قائم ہوچکی ہے تو مخاصمت کی یہ روش بھارت کے خفیہ اداروں میں جنونی کیفیت طاری کر چکی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے کی سازشیں اور اسے ہر لحاظ سے غیر مستحکم کرنے کے منصوبے اعلیٰ حکومتی اور فوجی سطح پرتشکیل پا رہے ہیں۔ہمیشہ کی طرح   بھارت کا خفیہ ادارہ ‘را’ ہی ان سبھی منصوبوں اور سازشوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے سر گرم ہے۔ اسی پسِ منظر میں’را’ کے ایک ایجنٹ کی بلوچستان سے گرفتاری ساری قوم کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان کے قانونی اداروں کی حراست میں ‘را’ کے ایجنٹ کُل بھوشن یادیو نے انکشافات کیےہیں کہ وہ پاک چائنہ اقتصادی راہدای کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم تھا۔کُل بھوشن یادیو بھارتی نیوی کا آفیسر ہے اور وہ قندھار میں بھارتی قونصیلٹ میں ایک اسپیشل یونٹ چلا رہا تھا جو بلوچ قوم پرست اور علیحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں تھا اور اس نے بلوچستان اور کراچی میں سرگرم ایک فرقہ وارانہ تنظیم سے بھی اپنے روابط کا اعتراف کیا ہے۔’را’ کا یہ ایجنٹ بلوچ علیحدگی پسندوں کی مالی امداداور دہشت گردی کی تربیت دینے جیسے جرائم میں ملوث ہے۔مبینہ طور پر وہ بلوچ علیحدگی پسند دہشت گرد رہنما اللہ نذر بلوچ سے ملاقات کی خاطر افغانستان سے بلوچستان میں داخل ہوا تھا تاہم پاکستان کے قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بروقت کاروائی کر کے اسے حراست میں لے لیا۔یقینی طور پر ‘را’ کے اس ایجنٹ سے مزید تفتیش کی جائیگی جن میں مزید حقائق سامنے آسکتے ہیں تاہم ہم یہاں’را’ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں تاکہ عوام ‘را’ کے گھناونے کردار سے باخوبی آگاہ ہوجائیں۔

‘را’ کی سر گرمیوں پر اگر نظر ڈالیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بھارت کی یہ خفیہ ایجنسی نہ صرف خود پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں لگی ہوئی ہے بلکہ اس ضمن میں ہمسایہ ملک افغانستان کو بھی اپنے نا پاک عزائم میں شامل کر رکھا ہے۔بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔پاکستان کے وجودمیں آنے کے بعد مشرقی پاکستان کا قیام بھارت کی ہی سازشوں کا شاخسانہ تھاجس کا اعتراف ہندوستان کے ہندو انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے گزشتہ سال بنگلہ دیش کے دورے میں بہت فخر سے کیا تھا۔اس کے علاوہ پاکستان کے وجود کو مٹانے کے لیے 1965 اور 1971 میں ہونے والی جنگیں بھی بھارت کی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی خفیہ کاروائیوں کا اعتراف تو بھارتی حکومت اور عسکری قیادت بار بار کرتی رہی ہے۔جیسا کہ بھارت کے ایک سابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں بلوچستان میں دہشت گردی سپانسر کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اِس بیان میں اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ پاکستان میں ہونے والے بم دھماکے بھارتی سرپرستی میں ہو رہے ہیں ۔اس کے علاہ حال ہی میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریکوں کی معاونت کر رہا ہے۔ اِس سے قبل بھی یہ بات منظرِ عام پر آچکی ہے کہ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاںمل کرپاکستان میں بد امنی پھیلا رہی ہیں۔

کُل بھوشن یادیو کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ‘را’ کی سرگرمیوں کا سب سے بھیانک پہلو اس کا مذہبی انتہا پسند اور فرقہ وارانہ دہشت گرد گروہوں پر اثرورسوخ ہےبھارت القاعدہ ،تحریک طالبان اور لشکرِ جھنگوی میں اپنے اہل کار شامل کر چکا ہے۔ان گروہوں کے ذریعے سے قبائلی علاقوں صوبہ خیبر پختونخواہ ،پنجاب اور اندرونِ سندھ تخریب کاری کی کاروائیاں کروائی جارہی ہیں۔’را’ کا یہ روپ سب سے گمراہ کن ہے اور وہ سادہ لوح لوگوں کو مذہب کے نام پر اشتعال دلا کرانھیں پاکستان کےخلاف استعمال کر رہا ہے۔بعض ذرائع سے یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ اسی مہم کو مزید تیز کرنے کے لیے ‘را’ داعش کو پاکستان میں فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔دہشت گردی کی اس روش کی زد میں سارا پاکستان ہے لہذا ہمیں سب سے پہلے اسی کے سدِ باب پر توجہ دینی چاہیےعوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مذہب کے نام میں گمراہ کرنے والے سبھی گروہوں کے شر سے خود کو محفوظ رکھیں ملک میں عوامی سطح پر مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا اس ضمن میں بہت زیادہ مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔

‘را” کی بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی مہم بھی اب سب کے سامنے ہے۔قومیت پسند تنظیمیں اور علیحدگی کے لیے سرگرم تنظیموں کو ‘را’ کی جانب سے جو معاونت حاصل ہے وہ کسی سےڈھکی چھپی نہیں ہےاور کُل بھوشن یادیو کی گرفتاری نے اسےمزید واضح کردیا ہے۔بظاہر بلوچوں کے حقوق کی خاطر آواز اٹھانے والے یہ نام نہاد رہنما دراصل بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں بِک چکے ہیں۔ افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے نہ صرف ان قومیت پرستی کا نعرہ لگانے والے افراد کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کو افغانستان میں پناہ بھی دی جاتی ہے۔ ان پاکستان دشمن عناصر کو خاص طور اس بات کا معاوضہ دیا جاتا ہے کہ وہ بلوچوں کو پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف اُکسا کر رنگ و نسل کے تضادات کی یہ جنگ جاری رکھیں۔بے گناہ شہریوں کا قتل ،تخریب کاری کی وارداتیں ، گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مادے سے اُڑا نا ،بجلی کے کھمبے تباہ کرنا ، یونیورسٹی کے طلباء کا اغواء اور قتل دہشت گردی کی وہ کاروائیاں ہیں جو ‘را’ کے ایماء پر کی جاتی ہیں۔ نام نہاد بلوچ رہنماؤں کے غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات کی نشاندہی نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ بین الاقوامی میڈیا بھی کر چکا ہےاور بلوچ قومیت پسند دہشت گرد رہنما بھی اپنے بھارت سے مراسم کو ظاہر کرتے رہے ہیں بلخصوص پاکستان اور چین کے اقتصادی راہداری کے معاہدے کے بعد سے ہندوستان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں اور بھی اضافہ ہو چکا ہے ۔ہندوستان ہر قیمت پر اس منصوبے پر عمل درآمد کو روکنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں وہ بلوچ علیحدگی پسند رہنماؤں کو اثاثہ سمجھتا ہےبھارت سر توڑ کوششیں کر رہا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند دہشت گردوں کو مزید بڑی رقوم اور دہشت گردی کی تربیت دے کر صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو مزیددگر گوں کر دے تا کہ عدم تحفظ کی فضا اقتصادی راہداری پر اپنے بُرے سائے ڈال کر اسے تاخیر کا شکار کردے۔تاہم یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اب بلوچستان میں ‘را’ کی سرگرمیوں سے لوگ واقف ہو چکے ہیں اور اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے بہت سے قومیت پرست ہتھیار ڈال چکے ہیں ۔یقینی طور پر یہ بات بلوچستان کی خوشحالی کے لیے ایک مثبت خبر ہےاور کُل بھوشن یا دیو کے انکشافات بلوچ علیحدگی پسندوں کی گمراہی اور ملک دشمن سرگرمیوں کو عوام میں مزید بے نقاب کریں گے۔

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ملک کی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے یہ ‘را’ کے برے عزائم کا خصوصی طور پر نشانہ رہتا ہے اور پچھلی کئی دہائیوں سے امن وامان کی بگڑتی صورت حال کا شکار ہے لیکن پچھلے کچھ سالوں سے اِس زبوں حالی میں جس قدر تیزی آئی ہےوہ بے حد تشویش کی بات ہے۔لا قانونیت، دہشتگردی ، ٹارگٹ کلنگ ، اغواء برائے تاوان اور قتل وغارت کے پے در پے رونما ہونے والے واقعات اور امنِ عامہ کی مخدوش تر ہوتی ہوئی صورت حال ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہےاور یہ صورتحال پاکستان کی معشیت پر بہت بُرے اثرات ڈال رہی ہے۔یہ شہر سیاسی ،مذہبی ، فرقہ وارانہ ،نسلی اور گینگ وار کےتشدد کی نظر ہوتا جا رہا ہے۔لہذا سب سے پہلی ذمہ داری کراچی کے عوام کی بنتی ہے کہ وہ اس متشدد رویے کے خلاف احتجاج کریں اور اس کے خاتمے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھر پور تعاون  کریں ۔

ان حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ہمیں من حیث القوم دہشت گردوں کی تنظیموں کی حقیقت سے مکمل آگاہ ہونا چاہیے تا کہ ‘را’ کے مذموم مقاصد کو ملیامیٹ کیا جا سکے اور ملک امن و ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں کُل بھوشن یادیو جیسے ‘را’ کے ہر ایجنٹ کو ناکام اور نامراد بنانا ہوگا۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>