Published On: Tue, May 9th, 2017

رومیہ میگزین: سائبر سپیس پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے داعش کی حکمت عملی

رومیہ میگزین: سائبر سپیس پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے داعش کی حکمت عملی

سید ثاقب علی شاہ

جنگیں اب روایتی میدان جنگ تک ہی محدود نہیں۔ روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈا جنگ کے بڑھتے ہوے رجحان کا واضح مظہر ۲۰۱۴ کے بعد دہشت گرد تنظیم داعش کا مختلف ذریعوں سے سائبر سپیس میں جارحانہ تشہیری مہم کا آغاز ہے ۔ستمبر ۲۰۱۶میں داعش نے پروپیگنڈامیگزین رومیہ کی ابتدا کی اور اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بھاری جانی نقصانات،زیر ِقبضہ علاقوں اور آمدنی  میں کمی اور دہشت گرد جنگجوں کے حوصلوں میں تنزلی کے ذمینی حقائق کے برخلاف اپنی دہشت گرد کاروائیوں میں کامیابیوں کی جھوٹی کہانیاں رقم کرناشروع کی ۔ تاہم اس بات کا امکان بہر حال اپنی جگہ موجود ہے کہ اپنی وسیع دسترس کی وجہ سے یہ میگزین دہشتگردانہ پروپیگنڈے  میں موثر ثابت ہو۔مشرق  وسطیٰ سے لیکر جنوب مشرقی ایشیا کے علاقوں اور تقریباً پوری دنیا میں معاشرتی محرکات اور قارئین کی آسانی کے پیش نظر اس میگزین کا ترجمہ  دس مختلف زبانوں میں کیا جاتا ہے تاکہ دہشت گرد بیانیے کو زیادہ موزوں اور مقامی رنگ میں پیش کیا جاسکے ۔ اس کے ہر ایک ماہانہ ایڈیشن میں میدان جنگ سے تازہ ترین مگر من گھڑت واقعات کا تذکرہ ہوتا ہے۔تاہم روزانہ کی بنیاد پر “عمق نیوز ایجنسی”، ہفتہ وار”النبہا” اور ماہانہ بنیاد پر” رومیہ”  کا شائع ہونا داعش کی موجودہ میڈیاحکمت عملی کی واضح نشاندہی ہے جو مرکزی دھارے کےمیڈیا کا مقابلہ کرنے اور سائبر سپیس پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔

اپنے عسکری زوال سے توجہ ہٹا نے کےلیے داعش رومیہ کا استعمال کرتا ہے جس میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کےلیے اپنی طاقت میں اضافے کےمن گھڑت  بیانیے تیار کر کے اپنے حامیوں  کو ممکنہ فتح کی یقین دہانی کروانا چاہتا ہے۔مختصراً، جدید طرز کی پروپیگنڈا جنگ کےلیے داعش نے رومیہ کا انتخاب کیا ہے ۔ داعش ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہےجو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ترقی کر رہی ہے اور  یورپ، مغربی افریقہ ، صومالیہ ،مصر،خراساں،افغانستان،پاکستان،فلپائن ،ملائیشیا اور انڈونیشیا میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گرد کاروائیوں اور میڈیا پروپیگنڈاکے ذریعے”ہائبرڈ جنگ” میں صف آرا ہے۔یہ دہشت گرد گروہ نام نہاد خلافت کے قیام کےلیے اپنے حامیوں پر یہ لازم کر رہا ہے کہ وہ اس مقصد کےلیے لڑائی جاری رکھیں۔

اپنی دہشت کی مہم کو بڑھا نے کے لیے داعش رومیہ میگزین میں دہشتگردحملو ں کو بڑھا چڑھا کر بیان کر تی ہے اور اپنے حامیو ں کو “مبالغانہ دہشتگرد حکمت عملی ” پر اُکسا تی ہے ، جس کا تذکر ہ رومیہ کے  دوسرے شما رے کے ایک مضمون میں ہے ۔ اس میں چا قو کے ساتھ خو د سا ختہ حملہ کر نے کی مفصل ہد ایات واضح ہیں ۔ رومیہ کا تیسرا شما رہ گا ڑی سے دہشتگردحملہ کرنےکےمتعلق تذکر ے پر مبنی ہے ۔ انیس عامری نے “بر لن “میں موجو د ایک کر سمس ما رکیٹ میں ہجو م پر ٹرک سے حملہ کر کے اس کا عملی مظا ہر ہ کیا جس کی بعد از اں رومیہ میں “خلا فت کا سپاہی ” کہہ کر  تعر یف کی گئی۔ رومیہ کے چو تھے شما رے میں بھی چاقو کے حملے کو تصا ویر وں کےساتھ دہر ایا گیا جس میں چا قو استعمال کر نے اور اہدا ف کا تعین کر نے کے متعلق ہدا یا ت  ہیں۔ اس کے تما م شما رہ جا ت میں سرا سر ،مختلف اصطلا حا ت کے استعما ل سےکفا ر، مرتدین ، غا صب حکمر انو ں ، اہل تشیع ، شام اور عرا ق کی عوام کے خلاف نام نہا د خلافت کے قیا م کے لیے دہشت گردی کے بیانیے کو تقویت دینے کی کو شش کی گئی ہے ۔ داعش کے مطابق یہ تما م لو گ قطعی طو ر پر اللہ کے دشمن ہیں ۔ان کی تما م تر اشا عت اصل سیا ق و سبا ق سے منحر ف،  اسلا می تا ریخ کے یکطرفہ مضامین  اور نبی کر یم ؐ کے واقعات کے مخصوص تذکر وں سے ہجر ت کے نا م نہا دجو از پیش کر نے پر مبنی ہیں۔

داعش کی میڈیا پر مرکو ز حکمت عملی اور اس میں رومیہ کا اضا فہ اب اس کے حا میو ں کو خود ساختہ خلافت کی حدود سے باہر بھی دہشت گرد حملے کر نےکی تر غیب دینے میں سرگر م ہے ۔ ان حملو ں کے تین بنیا دی مقا صد ہیں ۔ اول تو پو ری دنیا میں موجود دشمن کی بنیا دی اساس کو نقصان پہنچا نا ہے۔دوسرا دہشت گرد حملو ں کی تشہیر سے اپنے بڑھتے ہو ئے اثر و رسو خ کا تا ثر دینا ہے ۔ اور تیسر ا سوشل میڈیا پر دہشتگردی کے جھوٹے تجر با ت سے نو جو ا ں نسل کو متا ثر کر نا ہے ۔ اس ضمن میں ۱۶ سال کے دو آسڑیلوی نو جو ان اکتوبر ۲۰۱۶ میں چا قو سے حملہ کرنے کے شُبہ میں گر فتار ہوئے۔بعد ازاں  انڈو نیشیا میں اکتو بر ۲۰۱۶ میں ہی ۲۲ سا لہ نوجوان نے تین پو لیس اہلکا رو ں پر حملہ کیا ۔ اسی طر ح نو مبر ۲۰۱۶ میں ۱۸ سالہ نو جو ان عبد الر زا ق نے ” اوہا یو سٹیٹ یونیورسٹی”  پر رو میہ میں مذکو رہ ہدا یا ت کے مطا بق پہلے گا ڑی او ر پھر چا قو سے حملہ کیا۔

رومیہ کے دہشتگر د بیا نیے کا ہدف تین بڑے گروہ ، اسکے جنگجو ، حامی اور ہمد رد ہیں جبکہ عمو می طور پر داعش کے دشمن  جن میں  کفار ، اہل تشیع اور پو ری دنیا کی بڑی تعدا د پر مشتمل متو سط طبقہ کے ممکنہ بھر تی ہو نے والے مسلما ن اور غیر مسلم ، بلخصوص مغر ب اور جنگ ذدہ علا قو ں میں مو جو د مسلما ن اقلیت کے لو گ ہیں ۔ رومیہ کے مضا میں دشمن کو سخت سے سخت تر نقصا ن پہنچا نے پر اُکساتے ہیں اور ان کی تصویر کشی جنگی امو ا ت کے اعدا دو شمار ، فو جی ساما ن کی تباہی ، خو د کش حملو ں اور مرکزی دھا رے کی میڈیا رپو رٹنگ کے بر عکس روایا ت پر مشتمل ہے۔ اس میں داعش کی نا کا میو ں کو عا رضی بیا ن کیا جا تا ہے یا پھر زمین پر خلا فت کے قیا م کے لیے دینی کوشش میں اللہ کی طرف سے آزما ئش ظا ہر کیا جا تا ہے ۔

  مسلم معا شروں میں لو گو ں کو نشانہ بنا نے اور ممکنہ بھر تیو ں کے لیے داعش خود کو قرا ٓن و سنت کے احکامات کا حقیقی پیروکا ر ظاہر کر تی ہے اور با قی تما م مسلما نو ں کو اسلا می تعلیمات سے گمر اہ بتاتی ہے۔ اس طرح یہ مسلما نو ں سے نا م نہاد خلا فت کی طر ف ہجر ت کر نے کا مطا لبہ کر تے ہیں تا کہ و ہ اسلا می طر ز زندگی احتیا ر کر سکیں ۔ مر کزی دھا رے کی میڈیا کا مقا بلہ کر نے اور داعش کے زیرِ قبضہ علا قے میں افر ا تفر ی ، عدم تحفط اور فر سودگی کو چھپا نے کے لیے بچو ں کو سکو لو ں میں پڑھتے ہوئے  اورخو شی سے کھیلتا دکھانا ، دفتر وں اور کار خا نو ں میں کا روبار کا معمول کے مطا بق چلنا اور زکو ٰۃ کا اکٹھا کر کے غریبو ں میں تقسیم کر نا دکھا یا جا تا ہے ۔ اس اندا ز سےمیڈیا کا استحصا ل او ررومیہ کے ذریعے جز باتی پیغماما ت کا  شا ئع کر نا دراصل” ایمن الزواری” کےمیڈیا کے متعلق  خیالات کی پیروی ہے جس کے مطا بق، ” مجاہدین کی کا روائیوں  ا  ور دیگر متعلقہ معا ملا ت کی میڈیا میں  پذ یرا  ئی   ا نتہائی ا ہم   ہے  کیو نکہ جنگ کا    آ د ھے سے زا   ئد  حصہ میڈ یا کے میدان جنگ میں لڑا جاتاہے”۔

داعش نےجو جنگ چھیڑی ہے وہ بلسٹک اور مسلح کا روا ئیوں کی دسترس سے با ہر ہے۔ یہ جنگ معلو ما ت پر مبنی ہے جوروایتی   میدان جنگ اور سا ہبرسپیس دونوں میں لڑی جا ر ہی ہے اور  اس و قت تک جا ری  رہے گی جب تک کہ دہشت گردوں کانظریہ بےنقاب اور بے انتہا بدنام نہیں ہو جاتا۔ القاعدہ کےمیگزین “انسپائر “یا  جبت النصرہ کے”الرسالہ” کے برعکسں رومیہ اور اسکے پیشرو “دبق” سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی عالمی دہشت گرد کوششیں عسکری جنگ تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ “ڈیجیٹل میڈیا “میں دہشت گرد بیانیے بنانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔جیساکہ جبت النصرہ کے میگزین “الرسالہ” میں حوالہ دیا گیا ہے کہ “ایک بندوق دل کی دھڑکن تو روک سکتی ہےمگرا یک کیمرہ (میڈیا) ہزاروں دلوں کو زندگی دے سکتا ہے”۔ رومیہ کے قارئین صرف اس کےہمدرد اور حامی ہی نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اس کے پیروکار اس کے دشمنوں میں بھی بڑھ رہےہیں اور معاشرے کےکمزور طبقات اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ تاہم ،اگر دہشتگرد پروپیگنڈا جنگ کا بروقت خاتمہ نہ کیا گیا تو مستقبل میں سائبر سپیس میں جاری معلومات پر مبنی جنگ کی نئی لہر کےمزید سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

داعش کی ساہبر سپیس میں جا ری جنگ کا مقا بلہ کر نے کے لیے تین بنیا دی اقدا مات کی ضر و رت ہے ۔ اول تو رومیہ اور دا عش سے منسلک دیگر آ ن لا ئن اشا عت کے زرا ئع کا خا تمہ کیا جا ئے۔ دوسرا داعش کی آن لا ئن اشاعت کو بھی ہر ممکن صو رت میں روکا جائے جو بین المذاہب اختلا فات پید ا کرنے ، قو می ہم آہنگی اور سما جی نظام کو بر با د کر نے کا ذریعہ ہیں ۔ ۲۰۱۵ کے بعد ٹو یٹر اور دیگر سو شل میڈیا نیٹ ورکس کے ۳ لا کھ ۶۰ ہزا ر سے زائد مشتبٰی  دہشت گرد اکا ؤنٹس بند کے گئے جو لو گو ں کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے اُکسا رہے تھے ۔ قو می سطح پر انٹرنیٹ کی سہو لت مہیا کر نے والو ں اور سکیورٹی ایجنسیو ں کو چا ہیے کہ وہ آپس میں تعا ون بڑھا کر سا ہبر پو لیس گشت کو زیادہ مو ثر کر یں تاکہ انتہا پسندی اور تشدد کا خا تمہ ہو سکے ۔ آخر میں یہ بات انتہا ئی ضروری ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلا ف مضبوط بیا نیے بنا کر ان کی تما م ذرا ئع سے ساری دنیا کے مد ارس ،سکولو ں ، مر کزی دھا رے بشمو ل سو شل میڈیا پر تشہیر کی جائے ۔تاہم  اس ضمن میں مذ ہبی اور سیا سی اداروں کا آ پس میں بھرپور تعاون وقت کی اہم ضرورت ہےاورمتذکرہ بالا تمام تر صورتحا ل اس با ت کا تقاضا کرتی ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے معا ونین کو بڑی سطح پربےنقاب کر کے بے انتہا بدنام کیاجائے جو بین المذاہب یا فرقہ وارانہ تضادات ، افراتفری اور انتشار جیسے دہشت گردانہ اقدامات سے نا م نہاد خلافت کے قیام کا خواب دیکھتے ہیں ۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>