Published On: Wed, Aug 23rd, 2017

“عیدالاضحیٰ” قربانی کی کھالوں کا دہشت گردی کے فروغ میں استعمال ، خود کو گناہ گار ہونے سے بچائیں

“عیدالاضحیٰ” قربانی کی کھالوں کا دہشت گردی کے فروغ میں استعمال ، خود کو گناہ گار ہونے سے بچائیں

 

افتخار حسین

 

            سفاک دہشت گرد ہر پاکستانی سے بلا امتیاز رنگ،نسل اور عقیدہ نفرت کرتے ہیں اور وطنِ عزیز میں تخریب کارانہ کاروائی کا موقع نہیں چھوڑتے ۔نفرت کے پروردہ یہ دہشت گرد پاکستانیوں ہی کی فیاضی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی کھالیں اکھٹی کر کے خطیر رقم جمع کر لیتے ہیں جو مزید تخریب کاری کی کاروائیوں پر صرف کی جاتی ہیں۔مویشی منڈیوں کے ماہرین کے مطابق بکرے یا بھیڑ کی ایک کھال کی قیمت تقریباً ایک ہزار روپے ہوتی ہے بڑے مویشیوں گائے بچھڑے وغیرہ کی کھا ل تین سے چار ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے۔ان حقائق پر غورکرتے ہوئے سوچیئے کہ اگر ہم نے غلطی سے کسی دہشت گرد گروہ کو قربانی کی ایک کھال بھی دے دی تو ہمارے اس عمل سے دہشت گرد بیسیوں گولیاں اور بارود کی اچھی خاصی مقدار خریدسکتے ہیں ہمارا یہ عمل کئی جانوں کے ضیاع کا باعث بن کر ہمیں گناہ گار کر سکتا ہے۔لہذا قربانی کی کھالوں کی خیرات مکمل احتیاط سے کریں اور خود کو گناہ گار ہونے سے بچائیں۔عیدالاضحیٰ کے روح پرور اور ایمان آفروز تہوار کی آمدکے ساتھ ہی ہرپاکستانی ایثار اور قربانی کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے اور سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے دس ،گیارہ اور بارہ ذی الحج کو جانور قربان کیے جاتے ہیں۔عیدالاضحیٰ سے متعلق اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے ہر تیسرے گھر میں قربانی کا ایک جانور ذبح کیا جاتاہے۔قربانی کا گوشت رشتہ داروں، غریب اور مساکین افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے۔2014 کے اعداد وشمار کے مطابق پچھلے سال عید الاضحٰی کے موقع پرتقریباً78لاکھ مویشی پاکستان میں قربان کیے گئے تھے۔قربان کیے جانیوالے مویشیوں کی کھالیں بھی صدقہ و خیرات کی جاتی ہیں۔2013 کے اعداد وشمار کے مطابق اس سال محض قربانی کی کھالوں کی فروخت سے تقریباًدس ارب روپے کا سرمایہ اکٹھاہوا تھا۔ 2015میں قربان کیے جانیوالے جانوروں کی تعداد میں کمی ملاحظہ کی گئی جس کا سبب مہنگائی اور سیلاب میں بڑے پیمانے پر مویشیوں کا ہلاک ہو جانا تھا تاہم پھر بھی گزشتہ عید پر قربانی کی کھالوں سے تقریباً 7 ارب روپے کا سرمایہ اکٹھا ہوا تھا۔ بدقسمتی سے دہشتگرد تنظیمیں اور انتہا پسند گروہ طرح طرح کے ہتھکنڈوں اور پرو پیگنڈا سے خیرات کی جانے والی قربانی کی کھالیں اکھٹی کرتے ہیں جن کی فروخت سے انھیں خطیر رقم حاصل ہوتی ہے۔دہشت گردوں کی اس مہم کی وجہ سے قربانی کی کھالوں کے حقیقی حقداربیوہ عورتیں ، غریب اور مسکین بچے، اسلام کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے والے مدارس اور مسجدیں محروم رہ جاتے ہیں۔ اس سارے معاملے میں سب سے بڑھ کر فکر مندی کی بات یہ ہے کہ قربانی کی کھالوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ملک میں دہشتگردانہ    سرگرمیوں میں صَرف کی جاتی ہے۔ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پرقربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والے اربوں روپوں کااگرایک فیصد بھی دہشتگرد اور انتہا پسند تنظیمیں ہتھیا لیں تو ملک میں کس قدر تباہی آ سکتی ہے۔یقیناً القاعدہ ، داعش، تحریک طالبان، لشکرجھنگوی اور دیگر فرقہ وارانہ نام نہاد جہادی تنظیمیں اس سرمائے سے متعد د خودکش اور دہشتگردانہ حملے کر سکتے ہیں جن میں بے گناہ مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی جانیں جا سکتی ہیں۔ اس پہلو کومدِنظررکھتے ہوئے ہمیں عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی کھالیں خیرات کرتے وقت مکمل احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

 

            دہشتگردوں کی مذمت اور خود کش حملوں کے رد میں علمائے امت کا اجماع ہے کہ قر آن و حدیث کے مطابق یہ سبھی آخرت میں جہنم کے حقدار ٹھہریں گے۔اسی ضمن میں عالم اسلام کے کئی مفتیوں اور علماءنے یہ فتویٰ جاری کر رکھا ہے کہ جو شخص دہشتگردوں اور خود کش حملہ آوروں کی کسی قسم کی مالی امداد کرے گا وہ ان کے گناہ اور جرم میں برابر کا شریک ٹھہرے گا اور اس کا انجام بھی انہی کے ساتھ ہو گا۔ لٰہذا ہمیں اس دینی امر کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت سے اجتناب کرناچاہیے اور یہ ہر حال میں ممکن بنانا چاہے کہ ہماری طرف سے خیرات کی جانے والی قربانی کی کھالوں کی رقوم قتل و غارت گری کی مرتکب تنظیموں اور ان کے رہنماوں کے ہاتھوں میں نہ چلی جائیں۔عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی کھالوں سے دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام دہشت گردگروہوں کے طریقہ واردات سے واقفیت حاصل کریں۔ القاعدہ ، داعش، تحریک طالبان، لشکر جھنگوی اور دیگر تخریب کار گروہ براہ راست ان کھالوں کو اکھٹا کرتے ہیں تا ہم ان کی فرنٹ آرگنائزیشن ہی بنیادی طور پر اس مہم میں حصہ لیتی ہیں۔ یہ گروہ مسجدوں ، مدرسوں جہاد اور یتیموں اور بیوواؤں کی فلاح و بہبود کی آڑ میں یہ کاروائی سر انجام دیتے ہیں۔ ان تنطیموں کا پروپیگنڈا انہی امور اور موضوعات کے گرد گھومتا ہے۔اس ضمن میں کچھ نکات عوام کی رہنمائی کے لیے درج کیے جاتے ہیں جن کوملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے قربانی کی کھالوں کی خیرات کی جائے تو انتہا پسند گروہوں کے ہتھکنڈوں سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ نکات حسبِ ذیل ہیں:۔

 

Ø        ایسی مسجدوں کو قربانی کی کھالیں خیرات کے طور پر نہ دی جائیں جن کے امام یا خطیب اجنبی یا مشتبہ اشخاص ہوں۔

 

Ø        ایسی مسجدوں سے بھی دریغ کیا جائے جہاں نفرت انگیز تقریریں اور فرقہ وارانہ لٹریچر کی تشہیر کی جاتی ہو۔

 

Ø        وہ مدارس جن کے اساتذہ ا ور طلباءکسی دہشتگرد تنظیم یا اس کے کسی رہنما سے تعلق رکھتے ہوں۔

 

Ø        صرف حکومت سے رجسٹرڈ مدارس ہی کی مالی معاونت کے لیے قربانی کی کھالیں دی جائیں۔

 

Ø        ایسی مذہبی فلاحی تنظیمو ں کی بھی قربانی کی کھالوں کے ذریعے سے مالی سر پرستی نہ کی جائے جو رجسٹرڈ نہ ہو یا ان کی کسی دہشتگرد گروہ   سے روابط کی خبریں عام ہوں۔

 

            یقینادرجِ بالا اصولوں کی روشنی میں قربانی کی کھالوں کی خیرات ہمیں نا دانستہ طور پر دہشتگردوں اور خودکش حملوں کی سرپرستی کرنے سے بچا لے گی۔بلاشبہ قربانی کی کھالوں کے ذریعے سے مسجدوں اور مدارس کی مالی معاونت کرنا بڑے ثواب کا کام اور صدقہ جاریہ ہے لیکن دہشت گرد تنظیوں کے رہنما خود بھی کئی بار اعتراف کر چکے ہیں کہ قربانی کی کھالوں کا سرمایہ ان کے گھناونے منصوبوں پر صَرف ہو رہا ہے۔2014میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کے رہنما صوفی محمد نے اپنے ہی داماد فضل اللہ اور طالبان پر الزامات لگائے تھے کہ وہ مدارس کا مالی استحصال کر رہے ہیں۔ اس سے قبل طالبان کے ایک اور رہنما سید خان سجنا کی طرف سے ایسے ہی الزامات منظرِعام پر آچکے ہیں۔ لٰہذا ہمیں اس ضمن میں کسی شک وشبہ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

 

            دہشت گرد تنظیموں کے مالی وسائل کو ختم کرنا یقینی طور پر ملک میں انسداد دہشتگردی میں بہت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عوام الناس اور مخیر حضرات آمدہ عیدالاضحیٰ میں فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی قربانی کی کھالوں کومکمل احتیاط کے ساتھ خیرات کریں گے۔ اس ضمن میں اما م مسجدوں اور خطیب حضرات کو بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اس مسئلے کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے علماء،مساجد کے خطیبوں اور اماموں کو بھی عوام میں آگاہی اور بیداری کو فروغ دینا چاہیے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>