Published On: Fri, Jun 9th, 2017

فضل اللہ کی “را” کے ساتھ اتحاد نو کی اپیل اور تحریک طالبان میں سنگین خلفشار

فضل اللہ کی “را” کے ساتھ اتحاد نو کی اپیل اور تحریک طالبان میں سنگین خلفشار

سید ثاقب علی شاہ

­تحریک طالبان کے فروری میں دہشت گرد حملوں کے بعد ان کے تمام گروہوں پر “آپریشن ردالفساد” کے تحت پاک فوج کا دباؤ شدید بڑھا ہے۔۱۵ فروری ۲۰۱۷میں ہی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں مشرقی صوبہ کنار،ننگرہار اور نورستان میں موجود دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر پاک فوج کی بمباری سے صرف ۵ دنوں میں ۱۰۰ سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔پاک فوج پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف موجود دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ کرنے کےلیے پُرعزم ہے۔ گزشتہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے جانی ومالی نقصانات اور ناکامیوں کی وجہ سے طالبان کی تحریک اندرونی خلفشار سے دوچار ہے جبکہ معتبر قیادت کے فقدان نے عہدوں کے حصول کےلیے بے یقینی کی صورتحال پیدا کی ہے۔ انہی حالات میں فضل اللہ نے “را” کے ساتھ اتحاد نو کی اپیل کی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی اندرونی دراڑوں کو کم کرکےنقصانات کا ازالہ کیا جاسکے۔دہشت گردوں کی ایک بڑی تعداد نے بے رحمانہ تشدد کے راستےکو ترک کیا ہے جو اس تحریک کی اصل روح تھی ۔طالبان رہنماؤں میں ایک مشہور چہرہ احسان اللہ احسان کا ہے جوپاکستانی سیکیورٹی فورسز کے آگے ہتھیار ڈال چکا ہےجو کہ عسکریت پسندوں کےلیے کاری ضرب ہے۔یہ سب کامیابیاں آپریشن ردالفساد کا نتیجہ ہیں جو صرف ایک ادارے تک محیط نہیں بلکہ ہر پاکستانی اس کا سپاہی ہے۔

گزشتہ ماہ اپریل میں شائع ہونے والی ایک وڈیو میں تحریک طالبان کے سربراہ فضل اللہ نے تحریک طالبان کے شکستہ حال گروہوں سے آپس میں اتحاد سے رہنے کی اپیل کی ہے۔اس میں فضل اللہ نے وہی سابقہ گمراہ کن بیانیے کو دہرایا ہے کہ تمام گروہ یکجا ہو کر زمین پر خلافت کےلیے نام نہاد جہاد کریں۔فضل اللہ دہشت گردوں کے بڑےگروہ کا سب سے زیادہ انتہا پسند کمانڈر ہے جس کامزید کہنا تھا کہ پاک فوج کے شدید حملوں کے بعداس کا گروہ دوبارہ منظم ہوگیا ہے۔اپنی ساری تقریر میں فضل اللہ نے حکومت اور فوج کے خلاف طالبان کی جنگ کا قرآن پاک کی آیات کی من گھڑت تشریح سے جواز پیش کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔اس نے مزید کہا کہ اس نے تحریک میں موجود “آئی ایس آئی” اور “ایم آئی” کے پیدا کردہ شگاف پُر کر لیے ہیں۔

آپریشن ضرب عضب اور اس کے بعد آپریشن ردالفساد نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ دہشت گرد اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر نے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔پاکستانی حکومت اور فوج اپنے یقین میں مستحکم ہیں  کہ پاکستان  میں اور سرحد پارحالیہ انسداد دہشتگردی کے آپریشنز کے بعد دہشت گرد انتہائی کمزور ہوگئے ہیں۔ان آپریشنز میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے اور کمانڈ اینڈ کنڑول کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔تاہم بھارتی “را” اور افغان “این ڈی ایس” مل کر اپنے ان دہشت گرد اثاثوں میں دوبارہ  جان ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ انھیں پاکستان میں بہتر ہوتی ہوئی صورتحال ہضم  نہیں ہوتی ۔بھارت  جو پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کی کوششوں میں مصروف تھااس کے لیے پاکستان میں “اکنامک کارپوریشن آرگنائزیشن ” کی سامٹ اور   کرکٹ میچوں کا کامیابی سے انعقاد ہونا ناقابل برداشت تھا۔ تاہم یہ دشمن دوبارہ صورتحال کو خراب کرنے کےلیے ان دہشت گردوں کی بھر پور معاونت کر رہے ہیں۔اور اسی ضمن میں فضل اللہ نے را کے ساتھ اتحاد  نو کا اعلان کر کے تمام گروہوں کو دوبارہ یکجا  ہونے کی اپیل کی ہے۔

اپنے اس بیان میں فضل اللہ نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد تحریک طالبان کو منظم کرنے کی کوششوں کا بھی تذکرہ کیا ۔ ۲۰۱۳ میں فضل اللہ کے سربراہ مقرر ہونے کی وجہ سے تحریک طالبان کئی دھڑوں  میں تقسیم ہو گئی تھی ۔ تاہم اس سال کے شروع میں تحریک طالبان کا ایک اہم دھڑا خالد محسود گروپ دوبارہ فضل اللہ کے ساتھ شامل ہوگیا ۔محسود گروپ کے ترجمان نے علیحدگی کے وقت تحریک طالبان پر غیر اسلامی ہونے کا الزام لگایا  تھا۔لیکن جب محسود گروپ کو یہ احساس ہوا کہ تحریک طالبان کا مرکزی گروپ ان کے مقابلے میں “را” اور این ڈی ایس” سے زیادہ رقم اور ہتھیار لے رہا ہے اور مرکزی طالبان کو انکی زیادہ حمایت حاصل ہے تو ان کا موقف  یکدم بدل گیا۔ تاہم محسود گروپ  نے دوبارہ تحریک طالبان سے اتحاد کا فیصلہ کیا جو انکے انحراف کے وقت غیر اسلامی تھی۔محسود گروپ کے اتحاد کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ پاک فوج نے ان کے ٹھکانوں کو تباہ کر کے انھیں بدترین    جانی ومالی نقصان پہنچایا ہے۔تاہم وسائل کی عدم موجودگی میں انھیں یا تو پاک فوج کے آگے ہتھیار ڈالنے تھے یا پھر دوبارہ مرکزی طالبان کے ساتھ شامل ہو کر دشمن ایجنسیوں سے مدد حاصل کرنی تھی۔

اس وڈیو میں فضل اللہ نے لوگوں کو ناموس رسالت کے نام پر نام نہاد جہاد کی اپیل کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ وہ دہشت گردی کے پرچار کےلیے مسلمانوں کے  جذبات  سےکھیلنا چاہتا ہے تاکہ لوگ قانون  کو اپنے ہاتھ میں لیں ۔ عوام میں تحریک طالبان کے نام نہاد جہاد کے نظریے کی کھلم کُھلا ملامت کے بعد فضل اللہ نے اب لوگوں کو ناموس رسالت کے نام پر دھوکہ دینے کی کوشش شروع کی ہے۔ فضل اللہ جو اپنے انتہا پسند تقریروں کی وجہ سے ملُا ریڈیو کے نام سے مشہور ہے، وہ پہلا دہشت گرد ہے جس نے پولیو کی مہم کی مخالفت کر کے اس پر دہشت گرد حملے کروائے۔۲۰۱۲ میں اس نے ملالہ یوسفزئی کے قتل کا حکم دیا جو سوات میں ان کی دہشت گرد کاروائیوں کے خلاف بولتی تھی۔ماضی میں تحریک طالبان نے سکولوں اور عام عوامی مقامات پر متعدد دہشتگرد حملے کیے جن میں دسمبر ۲۰۱۴ میں پشاور “اے پی ایس” پر حملہ انتہائی سفاکانہ تھاجس میں ۱۴۸ طالب علم شہید ہوئے۔

تحریک طالبان و دیگر دہشت گرد تنظیموں کا افغانستان میں دشمن ایجنسیوں سے تعلق ہے جو اسلام  اور پاکستان دشمن ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ ان کا مقصد معاشرے میں خوف وہراس پھیلانا ہے تاکہ ملک کو کمزور کیا جاسکے۔ تمام جید علماء اکرام  نے دہشت گرد گروہوں کے گمراہ کن نظریات اور نام نہاد جہاد کو مسترد کیا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ دہشت گرد موجودہ صورتحال کے پیش نظر ناموس رسالت کے  نام پر لوگوں کو گمراہ کرکے اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

آخر میں یہ بات واضح ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے انسداد دہشتگردی کے آپریشنز نے انھیں سخت ترین نقصانات کے پہنچائے ہیں جس کے بعد اپنی بقا کےلیے یہ سب متحد ہونے پر مجبور ہیں۔ جب یہ دہشت گرد مختلف دھڑوں میں تقسیم تھےتب بھی یہ دہشت گردی کی بھر پور کوششیں کرتے تھے۔ ان کے علیحدہ ہونے یا یکجا ہونے سےکوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کا مقصد  صرف اور صرف دہشت گردی ہے جس کا  مکمل صفایا پاک فوج کے ہاتھوں جلد ہونا ہے۔ جب پاکستان سے دہشت گردی کے بادل چھٹ رہے ہیں تو یہ دھڑے  دہشت گردی کے لیے متحد ہونے کی کوششیں کر رہےہیں۔ پاکستان سے بھاگ کر افغانستان کی محفوظ پناہ گاہوں میں یہ دہشت گرد “را” اور ” این ڈی ایس ” کے رحم وکرم پر ہیں۔اگر “این ڈی ایس” پاکستان مخالف سرگرمیوں کی بجائے اپنی اندرونی سکیورٹی پر ذرہ بھی توجہ دے دیتی تو آج افغانستان کی صورتحال  بہتر ہوتی۔ تحریک طالبان کے اب تک پکڑے جانے والے تمام سربراہان بشمول احسان اللہ احسان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ تحریک طالبان “را” اور “این ڈی ایس” کے ذریعے بھارت سے امداد لیتی ہے۔یہ مذہبی گروہ نہیں بلکہ یہ خو د غرض کرائے کے دہشت گرد ہیں جنہیں بھارت نے افغان خفیہ اداروں کے ذریعے تیار کیا ہے۔ وہ بچے کچھے دہشت گر جو دوبارہ یکجا ہونے کی کوشش کررہے ہیں، پاک فوج بہت جلد انھیں بھی ان کے آقاؤں سمیت عبرت کا نشان بنادے گی۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>