Published On: Thu, May 12th, 2016

ناموس رسالت کی آڑ میں عوام کا نا حق قتل قرآن وسنت کی روح کے خلاف ہے

ناموس رسالت کی آڑ میں عوام کا نا حق قتل قرآن وسنت کی روح کے خلاف ہے

 فائزہ خان

07 مارچ 2016 کو تحریک طالبان کی جانب سے شب قدر کے علاقے میں ایک اور دل دہلا نے والے حملے کے نتیجے میں 17 معصوم لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔تحریک طالبان کے مطابق یہ جان لیوا حملہ ممتاز قادری کو سزائے موت دینے کے انتقام کے لیے کیا گیا ۔درحقیقت تحریک طالبان کا یہ اقدام اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ جس گھناؤنے ایجنڈے کی آڑ میں نام نہاد نعرہ حق بلند کیے بیٹھے ہیں خود امت مسلمہ کا ناحق قتل کیے جار ہے ہیں۔جبکہ متعدد علماء ممتاز قادری کو دی جانے والی پھانسی کو صحیح قرار دے رہے ہیں باوجود اسکے کے تحریک طالبان کی جانب سے کیا جانے والا خودکش حملہ ازخود ایک ناپسندید ہ عمل ہےاوراس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن و سنت کی روح سے بے گناہ انسانیت کا قتلِ عام گناہ کبیرہ ہے۔

پاکستان ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے اور اس کو اسلامی قانون کی مطابقت سے تشکیل دیا گیا ہے۔ جس میں ناموسِ رسالت سے متعلق متعدد قانونی اصطلاحات موجود ہیں۔ہر پاکستانی عدالت میں مسلمان جج موجود ہیں جو کہ دینِ اسلام اور حضرت محمدؐ جیسی با برکت ہستی کے لئے اتنی عقیدت اور تقدس رکھتے ہیں جتنا کہ کسی بھی مسلمان کو ہونا چاہیے اور انہیں شرعی اورقانونی تقاضوں کے مطابق فیصلے کا مکمل عبور بھی حاصل ہے۔ ان سب کی موجودگی میں ممتاز قادری جیسے افراد کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق ہر گز حاصل نہیں ہے کیونکہ ناموس ِ رسالت کا قانون اسی لیے بنایاگیاہے تاکہ صاف شفاف تحقیقات عمل میں لائی جا سکیں اور دو طرفہ فریقین کو صفائی کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ممتاز قاردی کی عدالتی کاروائی کے دوران ، مکمل تحقیقات کے بعد جج ان نتائج پر پہنچا کہ ممتاز قادری کم عقل و فہم اور محدود اسلامی معلومات کا مالک تھا اور اسی محدود اسلامی تعلیمات کے باعث جذبات میں آکر اس سے یہ غیر قانونی عمل سرزد ہواجبکہ اسلامی شریعت کے مطابق کسی کو ناحق قتل کرنا جبکہ وہ شخص خود ہی اسی کی حفاظت کا حلف لے کر اسکی سیکیورٹی پر تعینات ہو قانوناً اور شرعاً ایک ناجائز عمل ہے۔

ناموسِ رسالت کی آڑ میں بہت سے لوگ اپنے ذاتی مفادات کو فروغ دیتے اور غلط استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ اسلامی شریعت کو ذاتی مفادات کیلیے استعمال کر کے کسی کو نقصان یا تکلیف دینا سخت گناہ ہے کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کی سب سے منفرد اور خوبصورت تخلیق ہے جس کو بلا جواز اور بلا تحقیق قتل کرناپوری انسانیت کا قتل ہے ۔ اسی طر ح ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی مثال ا یک عام عیسائی اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والی رمشا ء مسیح کے ناموس رسالت کیس سے لی جاسکتی ہے جسے 2012 میں ذاتی دشمنی کی بنیاد پر قرآن کے صفحات جلانے کے جرم میں کئی ہفتے جیل میں گزارنے پڑے۔اس واقعے نے     دین ِ اسلام اورپوری قوم کا بین الاقومی سطح پر غلط تشخص پیش کیا ۔ بےشک دین اسلام کو اور ملک پاکستان کو داغدار کرنے کی یہ سازش شعوری یا لا شعوری طور پر عمل میں لائی گئی ہو مگر اس کے اثرات گہرےاوردیر پا رہے۔رمشاء پر اہل ِمحلہ اور امام مسجد محمد خالد جدون نے یہ فردِ جرم عائد کی تھی کہ رمشاء قرآن کی بے حرمتی کی مرتکب ہوئی اور اس نے قرآن کے کچھ اوراق جلا ڈالے ہیں جس کے لیے اسے پاکستانی آئین کے سیکشن 295-B کے تحت سزا ملنی چاہیے جب یہ کیس عدالت میں لایا گیا تو اس سے متعلق کئی دوسرے پہلو بھی سامنے آئے۔ جن کی بنیاد پر عدالتِ پاکستان نے اس کو بے قصور ٹھہرایا۔

ایسے میں دو عیسائی بھائیوں قیصر اور امون کا ذکر کرنابھی نامناسب نہ ہوگا جو دشمنی کی بھینٹ چڑھ کر بلا جواز ناموس رسالت کی سزا کاٹتے رہے۔ایسے کئی واقعات منظر عام پر آئے جہاں ملزم کو بغیر صفائی دیئے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ پاکستان ایک با شعور ملک ہے جس کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی ہے کہ ہر شہری چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم اس کو مکمل انصاف فراہم کیا جا سکے اور ایسے ظلم وبربریت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے یہاں کا امن و سکون قائم کر کے اس کو ایسے فرقہ وارانہ فسادات سے بچایا جا سکے۔

عام صورتحال میں ہمیشہ سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ملک پاکستان میں جج حضرات کو ناموسِ رسالت سے متعلقہ دیگر فیصلے عوام کی جانب سے ڈالے جانے والے بے جا دباؤ میں آ کر کرنے پڑتے ہیں۔اور اس دباؤ کے پیچھے عموماً ملک دشمن قوتیں اور انتہا پسند عناصر کا ہاتھ زیادہ ہوتا ہے۔ ایسے عناصر کم عقل و فہم رکھنے والے افراد کو دین کا جھانسہ دے کر ملک میں انتشار پھیلانے کیلیے بھڑکاتے ہیں۔انہی افراد کے دباؤ میں آکر حکومت کو شفاف تحقیقات میں دشواری ہوتی ہے اور انصاف کا دارئرہ کار تنگ ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہاں پر یہ ذکر ناگزیر ہے کہ امام ابو حنیفہ اور سب حنفی فقہ نے غیر دانستہ طور پر کی جانے والی ناموس رسالت کو قابلِ معافی جرم قرار دیا ہے جبکہ ایسے شخص کیلیے سخت سے سخت سزا مقرر کی ہے جو یہ عمل دانستہ طور پر کرے اور اس پر نادم بھی نہ ہو۔ بریلوی اور دیو بندی مکتب فکر اور باقی صوفی مکاتب ِ فکر بھی اسی نظریے کو ہی صحیح مانتے ہیں اور وہ بھی اس معاملے میں حنفی نظریے کی پیروی کرتے ہیں ۔ پاکستانی مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے حالات میں مخالف چالوں کو جانچ کر میانہ روی اختیار کریں اور ایسے معاملات کو فراخ دلی سے منطقی انجام تک پہنچائیں ۔

ناموس رسالت کاقانون مذہب اسلام کی پاسداری اور تحفظ کے لیے 1986 میں جنرل ضیاءالحق کی کاوشوں کے بعدپاکستانی آئین میں شامل کیا گیا جس کے پیش نظر 2010 سے لے کر2014 تک تقریباً 1274 ایسے کیس دیکھنے میں آئے۔ سال 2011 میں ایسے کیس کی تعداد 500 سے زائد رہی جس میں 130 کیس کا تعلق پاکستان کی اقلیتی برادری سے تھا اور باقیوں کا تعلق مسلمان فرقوں سے۔ جمہوریہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسکے قانون کا ارتقاب اسلامی تعلیمات کی مطابقت سے کیا گیا ہے کیونکہ اسی ملک کے ہر مسلمان باشندے کو دین اسلام کی پاسداری کا اتنا ہی احساس ہے جتنا کہ اللہ تعالی ٰ نے ایک مسلمان کی خاصیت میں شمار کرنے کا حکم دیا ہے ۔اسلامی تعلیمات کی پاسداری کیلیے ملک ِ پاکستان نے اپنے قانون اور آئین میں ہر جگہ دینی تعلیمات کو پیش پیش رکھا ہے اور ہر فیصلہ انہی تعلیمات کی روح سے مرتب کرنا لازم کیا ہے۔توہین رسالت ایک ایسا گناہ ہے جسکی پاکستانی آئین میں سخت سے سخت سزا مقرر کی گئی ہے لیکن جرم ثابت ہونے کے بعد تاکہ اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق انسان جس سے وہ بے حد پیار کرتا ہے اس کو اپنی صفائی کا موقع دیا جاسکے۔ان سب وسائل کے باوجود اگر کوئی انسان دین کا دعویدار ہو کر ملک اور اللہ کا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے تو سزا کا حقدار ٹھہرتا ہے۔

اگر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے بے شمار واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں جن سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ جیسے دین اسلام کی عزت و آبرو کی تذلیل حرام ہے ویسے ہر انسان، مسلم یا غیر مسلم کی تذلیل بھی جائز نہیں۔ان حقائق کے پیش نظر تمام مولوی حضرات ، امام مسجد اور علماء پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کی اصلاح کریں ۔مذہبی رواداری اور برداشت کا درس دیں ، ایسی تمام انتہا پسند تعلیمات کی تبلیغ و تشہیر سے گریز کریں جن سے اسلامی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی ہوجائیں اور دوسرے مذاہب کے لوگ بد گمانی اور عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں ۔مذہبی علماء کو اس زمرے میں بہت مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی معاشرہ امن کا گہووارہ بن سکے اور تمام افراد شخصی و مذہبی آزادی سے زندگیاں گزار سکیں۔

اسی لیے عوام الناس سے گزارش ہے ایسے پیچیدہ کیس جوناموس ِ رسالت سے تعلق رکھے ان کو مکمل تحقیقاتی عمل سے گزار کر ملک کی مقرر کردہ شرعی کورٹس سے صاف شفاف فیصلے کرائے جانے کا موقع دیا جائے تاکہ مدعی اور ملزم دونوں کی حق تلفی نہ ہو۔اللہ ہم سب مسلمانوں کو کسی بے گناہ کی جان لینے سے پناہ میں رکھے اور دین اسلام کو سمجھ کر عمل کرنے کی ہدایت دے۔


 

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>