Published On: Mon, Jun 6th, 2016

نفرت اور تنگ نظری کے حامل ابو بکر البغدادی کا خلافت کارسواکن دعوٰی اور ناکامی

نفرت اور تنگ نظری کے حامل ابو بکر البغدادی کا خلافت کارسواکن دعوٰی اور ناکامی

 افتخار حسین

ابو بکر البغدادی نے 2014 میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی خلافت کا خود ساختہ دعوٰی کیا  تھا اور سب سے اپنی اطاعت کا مطالبہ کیا تھا ۔آج اس کی کیفیت یہ ہے کہ اپنے اس بے بنیاد دعوے کو تسلیم کرانے کے جنون میں بغدادی اور اس کی تنظیم دولتِ اسلامیہ دنیا کے ہر مسلمان ملک کو کافر اور مرتد قرار دے چکی ہے ۔بغدادی اور اس کی تنظیم دولتِ اسلامیہ کی نفرت اور شدت پسندی کا یہ عالم ہے کہ وہ عالمِ اسلام کے کسی بھی انتہا پسند مذہبی گروہ کے لیے بھی قابلِ  قبول نہیں رہی۔القاعدہ سے ان کی مخاصمت شروع دن سے ہی واضح تھی مگر خلافت کےخبط میں انھوں نے دنیا بھر کی اسلامی مذہبی تنظیموں سے دشمنی مول لے لی ۔اس روش کے زیرِ اثر دولتِ اسلامیہ نےاپنے میگزین دبق کے چودھویں شمارے میں مصر کی اخوان المسلمین کو بھی مرتد قرار دیا ہے ۔اخوان المسلمین دورِ جدید کی سب سے طویل العمر سخت گیر اسلامی تنظیم ہے مگر بغدادی کی نظر میں اس کے سبھی رہنما اور ارکان مرتد ہیں ۔اس تنگ نظری اور نفرت کے حامل بغدادی کے دعوٰی خلافت کوکوئی سنجیدہ مسلمان بھلا کیونکر تسلیم کر سکتا ہے ۔نیز القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے حال ہی میں اپنے شامی رہنماؤں اور اہلکاروں کو دولتِ اسلامیہ کے مقابلے میں اسلامی امارت قائم کرنے کی اجازت دی ہے جو ظواہری کے ماضی کے موقف کے خلاف ہے ۔اس سے قبل القاعدہ بغدادی کے دعوٰی خلافت کو رد کرتی رہی ہے اور اب اس کے مقابل خود یہی دعوٰی لے آئی ہے۔یہ سبھی انتہا پسند گروہ ہیں جو دراصل مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا غلط فائدہ اٹھانے کے لیے اس طرح کے دعوٰی کرتی ہیں۔ان سبھی دہشت گرد گروہ بلخصوص دولتِ اسلامیہ کا رد ہی اسلام اور مسلمانوں کے مفاد میں ہے۔ ہم یہاں بغدادی کے پسِ منظر کردار اور اس کی کارگزاریوں کا تازہ ترین حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں تا کہ قارئین پر اس کا گھناؤنا ایجنڈا اور بھی واضح ہوجائے۔

ابو بکرالبغدادی کو خلافت کا جھوٹا دعوٰی کیے ہوئے دو سال ہونے والے ہیں اور ناکامی اور نامرادی اس کا مقدر بن چکی ہے۔دنیا بھر پر قبضے اور حکومت کے خود ساختہ دعوٰے کرنے والا بغدادی اب عراق اور شام میں بھی  بری طرح سے پِٹ چکا ہے خلافت کا بے بنیاد دعوٰی کرنے کے بعد وہ دوبارہ  کبھی لوگوں کو اپنی شکل نہیں دکھا سکا ۔یقیناً اس ناکامی کا سبب اس کی  بد نیتی اور نفرت انگیز کردار ہے۔بغدادی کی ناکامی کا یہ عالم ہے کہ کسی ایک  انتہا پسند گروہ نے بھی اس کے دعوٰے کی تصدیق نہیں کی سبھی دہشت گرد گروہوں نے بھی  خلافت کے اس کے دعوٰے کو رد کردیا۔عالم اسلام کے کسی بھی ایک جید عالم،مفتی  یا امام نے اُسے  خلیفہ تسلیم نہیں کیا۔ وہ محض عراق تک محدود ایک چھوٹے سے گروہ کا رہنما ہے اور عراق کے ایک شہر پر بھی اس کا مکمل قبضہ نہیں ہے۔یہی سبب ہے کہ ناکامی، رسوائی اور نامرادی بغدادی کا مقدر بن چکے ہیں۔

خلافت اسلام کی بہت ہی مقدس ذمہ داری ہے  اور بغدادی میں کوئی ایک بھی وصف ایسانہیں پایا جاتا جس کی بنا پر اس کے دعوٰے کو مسلمان سنجیدگی سے لیتے۔اس جیسا ظالم اور دہشت گرد  شخص اس منصب کا کسی بھی طور پر اہل بھی نہیں ہو سکتا۔خلفائے راشدین محبت اور شفقت کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ اگردریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو میں اس کے لیے جوابدہ ہوں گالیکن بغدادی  اور داعش تو عراق اور شام میں مسلمانوں سے جانوروں سے بھی بد ترسلو  ک کررہے ہیں ۔عراق اور شا م کے مسلمانوں کی خون ریزی اور انھیں بھوک اور افلاس کا شکار کردینا داعش کے بدترین کارنامے ہیں۔اسی طرح  حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی اپنے بےداغ کردار اور تقوٰی کی بنیاد پرمسلمانوں کی خلافت کےمستحق ٹھہرے تھے ۔مگربغدادی اور داعش کے دوسرے رہنما،کردار اور تقوٰی کے بجائے دہشت گردی اور خون ریزی سے خود کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔نیز خلفائے راشدین اسلام کےسچے پیروکاراور  معزز و معروف اشخاص تھے اور انھیں ہر کوئی خلافت کے منصب پر فائز ہونے سے پہلے بھی دل سے عزیز رکھتا تھامگر بغدادی کی زندگی کا بیشتر حصہ ایک گمنام فردکی طرح تھا اور اس مشتبہ شخص کے بارے میں چند مفروضوں کے علاوہ کچھ نہیں پتا۔ہم گھر میں ملازم رکھتے ہوئے بھی اس کے ماضی سے مکمل آگاہی چاہتے ہیں تو بھلا ایک گمنام ماضی رکھنے والے بغدادی کو کیونکر اپنا رہنما تسلیم کریں۔

علماء کا کہنا کہ ابو بکر البغدادی کے خلافت کے دعوٰے کے رد کے لیے اس بات کا ثابت ہو جانا ہی کافی ہے کہ بغدادی نےاسلامی علوم کی کوئی بڑی سند حاصل نہیں کر رکھی ۔لہذا  اس کے خلافت کے دعوٰے پر یہیں بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہےبھلا جب امت ِمسلمہ میں جید علماء ،مفسر ،محدث ،مفتی اور امام موجود ہیں تو بغدادی جیسے کم علم شخص کی کیا حیثیت ہے کہ وہ امت کی اطاعت و فرمانبرداری کا مکلف ہویہی سبب  ہے کہ اسے ہر طرف سے دھتکارا جا چکا ہے ۔اس کے علاوہ عراق کے کچھ ایسے اشخاص کی شہادتیں بھی منظرِعام پر آچکی ہیں جو ماضی میں بغدادی کے پڑوسی ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔ان کے مطابق بغدادی ماضی میں مذہبی رجحانات بالکل بھی نہیں رکھتا تھا۔یقیناً یہ انکشافات اس کے اسلام اور جہاد کے نا م میں خود پرستانہ پروپیگنڈے کی حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کردیتے ہیں۔

جہاں بغدادی کی اپنی ذات کی خامیاں اسے اسلامی خلافت جیسی مقدس ذمہ داری کے لیے نا اہل بنا دیتی ہے وہیں اس کی تنظیم ،ساتھیوں ،حماتیوں اور اہلکاروں کی کارگزاری قرآن و سنت کی روح سے نا قابلِ قبول ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ داعش،القاعدہ میں پھوٹ ڈال کر وجود میں آئی تھی اس عمل میں داعش نے ہزاروں صلافی ،وہابی جہادیوں کو ہلاک کردیا ۔یہ لڑائی ابھی بھی شام اور عراق میں جاری ہےاور ابو بکر البغدادی اور داعش کی تنگ نظری اور نفرت کی عکاس ہےبھلا جو شخص اور تنظیم اپنے ہی فرقے کے لوگوں کے قتل کے جنون میں مبتلا ہے وہ مسلمانوں کے دیگر فرقوں کو کیونکر رحم اور شفقت کی نظر سے دیکھے گا۔نیزوہابی /صلافی فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر کے مسلمانوں کی آبادی کا دس فیصد حصے سے بھی کم ہے۔پھر ہم اسے کس بنیاد پر سبھی مسلمانوں کا رہنما تسلیم کرسکتے ہیں۔

بغدادی اور اس کی تنظیم کی چارہ دستیوں کا نشانہ صرف صلافی جہادی خود ہی نہیں بن رہے ہیں بلکہ ان کے بیوی بچوں کو بھی معاف نہیں کیا جارہاہے۔داعش کے اہلکار عورتوں کی تجارت اور جنسی کاروبار میں بھی ملوث ہیں جس کی بہت ساری خبریں اورویڈیوز منظرِعام پر آچکی ہیں۔اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی بجائے بے محل دلیلوں سےاپنے اعمال کو “دبق” جیسے آن لائن میگزین میں جائز قرار دینے کے لیے یہ گروہ قرآن و سنت کے نا  م پر جھوٹا پروپیگنڈا کررہا ہے۔زندہ مسلمانوں کے جان و مال کی حرمت کا لحاظ تو درکنار داعش شام اور عراق میں مقدس ہستیوں کے مزاروں کو بھی دھماکوں سےتباہ کرتی رہی  ہے ۔

جن دہشت گردوں کا اثاثہ اور پہچان ایسی سرگرمیاں ہوں انھیں اسلام اور مسلمانوں کا خیر خواہ تسلیم کرنا نادانی اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں ۔ دہشت گردوں  کے خلاف مسلح افواج کی کامیابیوں کے سبب پاکستان میں دہشتگردوں کو نا کامی اور مایوسی کا سامنا ہے جسکی وجہ سے وہ اپنے لیے نئی پناہ گاہوں اور سر پرستوں کی تلاش میں ہیں۔یہی وہ پسِ منظر ہے جو تحریکِ طالبان کے داعش کے  ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کا باعث بن رہا ہے۔ لہذا جہاں داعش اور القاعدہ ایک دوسرے  کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں وہیں تحریکِ طالبان کے رہنما بھی اپنے مالی مفادات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اپنی پرانی وابستگیوں  اور وفاداریوں کو ترک کر رہے ہیں۔ہم یقین کرتے ہیں کہ اس مضمون میں پیش کردہ حقائق نے قارئین کو ابوبکر البغدادی اور داعش کی اصل حقیقت سے مزید اچھی طرح سے آگاہ کردیا ہوگا۔لہذا ان کے حق میں جاری سرگرمیوں سے متاثر ہونا گمراہی اور شر کے سوا کچھ اور نہیں اور ہمیں  ابو بکر البغدادی اور داعش کے ساتھ ساتھ ہر اس دہشت گرد  گروہ کو بھی رد کر دینا چاہیے جو پاکستان میں ان کی حمایت کا اعلان کرے۔ ہمیں اپنے عزیزواقرباء،دوستوں اور معاشرے کے دیگر افراد کو ان دہشت گردوں کے چنگل سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

 

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>