Published On: Fri, Jan 1st, 2016

پارہ چنار کے معصوم لوگوں پر دہشت گردوں کا حملہ ظالمانہ اور گمراہ کن ہے

پارہ چنار کے معصوم لوگوں پر دہشت گردوں کا حملہ ظالمانہ اور گمراہ کن ہے

 افتخار حسین

      کر م ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار کی عید گاہ مارکیٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداءکی پہلی برسی سے صر ف 2دن قبل ہونے والے دھماکہ میں 24افراد جاں بحق اور 83سے زائد زخمی ہو گئے ۔ دھماکے کی شدت سے پورا علاقہ لرز اٹھا اور درجنوں دوکانیں بھی تباہ ہو گئیں۔اس سانحہ کے فوری بعد پاک آرمی نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرایا ۔ پارہ چنار میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں سے ماضی میں بھی سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور اس علاقہ میں غیر ملکی ایجنسیوں نے قتل وغارت گری کا بازار گرم کیے رکھا اور پارہ چنار میں ہونے والے ان خونچکاں سانحات کو فرقہ ورانہ عصبیتوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا رہا ۔ وفاقی حکومت اور افواج پاکستان نے اس حساس ترین علاقہ میں امن قائم کرنے کیلئے تمام مسالک کے مقامی عمائدین کی مشاورت سے بھر پور اقدامات کیے جن کے نتیجے میں گذشتہ دو سال کے دوران اس علاقہ میں حالات کافی حد تک بہتر ہو گئے اور امن قائم ہوا جو کہ پاکستان دشمن قوتوں کو پسند نہیں تھا اور وہ موقع کی تلاش میں تھیں کہ کسی طرح پارہ چنار میں ایک بار پھر فرقہ ورانہ فسادات کی آگ بھڑکائی جائے ۔پاکستان کی دشمن قوتوں کے پر وردہ اس شیطانی گروہ نے موقع پا کر اپنا و حشیانہ وار کیا جس پر سیاسی و عسکری قیادت سمیت پوری قوم سراپا احتجاج ہے اور دہشت گردوں کی بزد لانہ کا رروائی کی مذمت کی جار رہی ہے۔صدر مملکت اور وزیر اعظم نے پوری قوم کے احساسات اور جذبات کی بجا طور پر تر جمانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی مذموم کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف جاری پاک افواج کے ضرب عضب آپریشن کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔حکومت پاکستان نے وطن عزیز کو دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک کرنے کا عزم صمیم کر رکھا ہے اور پیچھے ہٹنے کی بجائے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا ۔ ملک دشمن دہشت گردوں کو چن چن کر ختم کریں گے دہشت گرد تنظیم کا لعدم لشکرِ جھنگوی نے سانحہ پارہ چنار کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ تاثر دینے کی جسارت کی ہے یہ شیطانی کارروائی پاک فوج کے ضرب عضب آپریشن کا رد عمل ہے ۔ پاک فوج کے تر جمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے پارہ چنار میں ہونے والے دہشت گردی کے اس المناک سانحہ سے صرف ایک روز قبل پاک فوج کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے قوم کو بتلایا تھا کہ پاک فوج کے جاری ضرب عضب آپریشن کے دوران اب تک 13200آپریشن کئے گئے جن میں 183خطرناک ترین دہشت گرددں سمیت 3400دہشت گرد مارے گئے جبکہ دہشت گردوں کی 837کمین گاہیں تباہ کر کے 21193دہشت گردوں کو گرفتار کیاگیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی رپورٹ کے مطابق ضرب عضب کے دوران 488افسران و جوانان نے شہادت پائی جبکہ 1914فوجی زخمی ہوئے ۔ قومی سلامتی کے ضامن ادارے اور محب وطن دانشور بجا طور پر صیحح کہہ رہے ہیں کہ پارہ چنار میں ہونے والی دہشت گردی کی تازہ ترین بھیانک واردات کے مرتکب دہشت گردوں نے غیر ملکی ایجنسیوں کے اشاروں پر کارروائی کر کے حکومت پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کا تمسخر اڑا یا ہے اور اپنے آقاؤں کو یہ باور کرایا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی نیٹ ورک پر ہونے والی ان کی سرمایہ کاری رائیگاں نہیں جار ہی اورکالعدم جہادی تنظمیں اب بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ جب اور جہاں چاہیں دہشت گردی کی کار روائی کر سکتی ہیں۔ اس لیئے سانحہ پارہ چنار تمام حکومتی اور سیکورٹی اداروں کے لئے واقعی تشویشناک امر ہے اور ہمارے اداروں کو سب اچھا کی روائیتی رپورٹوں سے مطمئن ہونے کی بجائے اس امر کو تسلیم کرنا چاہیئے کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔پارہ چنار میں 13دسمبر 2015کے روز ہونے والے دھماکہ کو فرقہ ورانہ عصبیت کا شاخسانہ قرار دیا جار ہا ہے جو کہ اس سانحہ کا ایک پہلو تو ہو سکتا ہے مگر دہشت گردوں کی یہ بھیانک کا رروائی در اصل پاکستان کے نظریاتی تشخص پر کاری ضرب ہے جو کہ گذشتہ تین دہائیوں سے جاری غیر ملکی ایجنسیوں کے پر وردہ جنونی نیٹ ورک کی کار ستاینوں کا تسلسل ہے ۔ ہمارے ملک میں فرقہ ورانہ بنیادوں پر قتل و غارت گری کرانا دشمنان پاکستان کا ایجنڈا ہے جو کہ اسلامیان پاکستان کو مسالک کی بنیاد پر تقسیم کر کے ہماری ملی و حدت و یگا نگت کو نقصان پہنچا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔بد قسمتی سے پاکستان میں جاری دہشت گردی اور فرقہ ورانہ قتل و غارت گری کو کچھ مذہبی تنظیموں کی اعانت و سر پرستی بھی حاصل رہی ہے جبکہ برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران نے بھی اپنے اپنے مقاصد کیلئے پاکستان کے اندر فتنہ پر ور فرقہ پرستوں کی سر پرستی کی۔

      وطن عزیز کو ہمہ قسمی تعصبات اور دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے مرتب ہونے والے نیشنل ایکشن پلان میں وطن عزیز کو ہمہ قسمی جنونی انتہا پسندی ، فرقہ ورانہ عصیبتوں اور دہشت گردی سے پاک کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔پاک افواج کے ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے ہمارا پاک وطن جنونی دہشت گردی کے عذاب سے نکل رہا ہے اور ہمارے قابل فخر فوجی بھائیوں کی قربانیوں کی وجہ سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک کمزور ہو چکا ہے مگر ابھی تک سو فیصد کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کی وجوہات سے بھی دانشمندان ملت بخوبی جانتے ہیں۔ اپنے پاک وطن سے محبت و عقیدت کا اولین تقاضا ہے کہ ہم بحثیت قوم متحد و منظم ہوں اور پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے ملک کو جنونی انتہا پسندی اورہمہ قسمی دہشت گردی سے نجات دلانے کی حکومتی کوششوں کو مکمل کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے اپنا اپنا کر دار ادا کریں اور عملی طور پر کوشش کریں کہ سانحہ پارہ چنار اس ملک کا آخری سانحہ ثابت ہو اور آئندہ اس قسم کا کوئی سانحہ رو نما نہ ہونے پائے ۔

      حکومت پاکستان اور مسلح افواج مابین مثالی اشتراک و تعاون کی وجہ سے دہشت گردوں کا نیٹ ورک دن بدن کمزور اور ختم ہوتا جا رہا ہے جو کہ پوری قوم کیلئے باعث اطمینان امر ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی کہ ہماری سول سو سائیٹی کے تمام طبقات اور افراد بھی جنونی دہشت گردی نیٹ ورک کے مکمل خاتمہ کیلئے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے اپنے پاک وطن کے دشمنوں کے نا پاک عزائم خاک میں ملانے کیلئے حکومت اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو ں اور نام نہاد جہاد کے نام پر فساد فی الارض پر پاکر کے امت مسلمہ کو نا قابل تلافی نقصانات اور صدمات سے دو چار کرنے والی القاعدہ ، داعش ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان ، کالعدم لشکر جھنگوی ، کالعدم سپاہ صحابہ اور کالعدم سپاہ محمد سمیت دوسری تمام کالعدم فرقہ ورانہ تنظیموں سے و ابستہ لوگوں اور ان کے ہمدرد سادہ لوح مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی مقدس تعلیمات سے روشناس کرتے ہوئے بھٹکے ہوئے گمراہ نو جوانوں کو بھی قرآن مجید کی بتلائی ہوئی صراط مستقیم سے سے روشناس کریں اور اسلام کے امن و سلامتی کے پیغام حق کو عام کریں ۔ ہمیں اپنی نو جوان نسل کو گمراہی سے بچانے اور داعش وغیرہ ایسی فسادی تنظیموں سے دور رکھنے کے لیے اُن کی صیحح تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے انہیں غلط قسم کی صحبت سے بھی بچانا ہوگا ۔ اس سلسلے میں والدین ، استاتذہ اور سول سوسائٹی کو کردار ادا کرنا چاہیے ۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>