Published On: Tue, Jul 18th, 2017

پارہ چنا ردہشت گرد حملوں کو فرقہ ورانہ رنگ دینا قومی وحدت کے خلاف گہری سا زش ہے

پارہ چنا ردہشت گرد حملوں کو فرقہ ورانہ رنگ دینا قومی وحدت کے خلاف گہری سا زش ہے

 سید ثاقب علی شاہ

چند روز قبل ایک انتہائی اہم عملی قدم اٹھاتے ہوئے دہشت گردی اور قتل و غارت کے خلاف پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے جید علماءکرام نے متفقہ فتویٰ جاری کیا۔یہ فتویٰ دہشت گردوں کی کمر توڑنے میں ایک انتہائی اہم سنگِ میل ثابت ہوکر ہر خاص و عام پاکستانی کی زبان پر آتا دکھائی دیا۔ریاست پاکستان نے دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لیے جو کامیابیاں حاصل کی ان میں یہ فتویٰ انتہائی اہم ہے جس کے بعد دہشت گردوں نے ۲۵ جون ۲۰۱۷ کو پارہ چنار میں متعدد دہشت گرد حملے کروا کے معصوم پاکستانیوں کو شہید کیا ۔ دہشت گردوں نے اس واقعے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا شروع کیا تاکہ اس فتویٰ  کی افادیت  کو ختم کر کے فرقہ واریت کو ہوا دی  جا سکے ۔مگر پاکستان کی عوام نے ہمیشہ کی طرح اس پروپیگنڈے کو بھی رد کر تے ہوئے شہدا ء کے ساتھ دلی ہمدردی ظاہر کی جبکہ متاثرین نے  اپنے تحفظات کا پرامن اظہار کرتے ہوئے قومی یکجہتی کی اعلیٰ مثال قائم کی ۔

عصر حاضر میں اسلام کے اندر فرقو ں کا تصادم مذہبی و جو ہا ت کے بر عکس بنیادی طور پر سیا سی اور اسلام دشمن قوتوں کے نا پاک مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ اس ضمن میں مسلما نو ں کی رہنما ئی کے لیے قرآن حکیم کے احکامات انتہا ئی واضح ہیں جو فرقو ں  میں تقسیم ہو کر آپس میں لڑائی کر نے سے روکتے ہیں ۔ قرآن حکیم تما م انسا نیت کے احترام اور آپس میں اتحا د کی تلقین کر تا ہے کیو ں کہ تما م انسا ن اللہ کے پیدا کر دہ ہیں اور قرآن فرقہ ورانہ بنیا دوں پر انسانو ں کے قتل عام اور انہیں نقصان پہنچا نے کی مما نعت کر تا ہے ۔

            قرآن حکیم نے متعدد مقا ما ت پر فرقہ ورایت کے خلا ف احکاما ت صادر کیے ۔ سورۃالانعام میں ارشاد با ری تعالیٰ ہے کہ “اور جنہو ں نے اپنے دین میں جد اجدا  راہیں نکا لیں اور کئی فرقے ہو گئے اے نبی تمہا را ان سے کچھ سروکا ر نہیں ان کا معاملہ اللہ ہی کے حو الے ہے پھر وہ   ا نہیں بتا دے گا جو کچھ و ہ کرتے تھے۔” (06:159)۔ سورۃ الانبیا ء میں اللہ پا ک کا ارشاد ہے ” بیشک تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے اور میں تمہارا پر وردگا ر ہو ں تو میر ی عبادت کیا کرو ۔ اور یہ لو گ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہو گئے مگرسب ہما ری طر ف رجوع کر نے والے ہیں۔” (21:92،93 )۔

            اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں مسلمانوں کی  عقائد پر مبنی تفریق  کا فا ئدہ اٹھا کر دہشت گردوں کے تعاون سے تشدد کو فروغ دینے کی کوششیں کر تیں  ہیں ۔  تاہم،  ایسی دہشت گر د تنظیمیں اور ان کے معاون پاکستان دشمن خفیہ ادارے  جو فرقہ وارانہ نظریات کی بنیاد پر تشدد  کا پر چا ر کرتے ہیں وہ قرآن حکیم کے احکاما ت کے مطابق ظالموں کے زمرے میں آتے ہیں جو زمین پر ظلم وفسادبر پا کرتے ہیں ۔ مسلما ن دنیا میں طالبا ن ، القا ئدہ ، داعش ، لشکر جھنگوی العالمی جیسے کئی دہشت گر د اورفرقہ ورانہ  گروہ موجو د ہیں جو دوسرے مسلما ن گروہوں کو کافراور واجب القتل قرار دے کر دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہو ا دیتے  ہیں ۔

            حالیہ دہشت گردی کی کا روا ئیا ں اور اس کے بعد فرقہ ورانہ تصادم کے لیے کو ششیں اس با ت کا تقا ضا کر تی ہیں کہ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں احکامات کو جا ن کر اپنا مثبت کردار اداکر نا ہے ۔ مسلمانو ں کی ہر دور میں رہنما ئی کے لیے قرآن و سنت ہمیشہ مو جو د ہیں ۔ مو جو دہ فرقہ ورانہ تصادم کو فروغ دینے کی سا زش کو نا کا م کر نے کے لیےتما م مسلمانوں کو  قرآن حکیم کی مذکو رہ آیات کو سامنے رکھ کر چلنے کی ضر ورت ہے ۔ سورۃ الحجرات میں ارشاد ہے ، ” مومن تو آپس میں بھا ئی بھا ئی ہیں توا پنے دو بھا ئیو ں میں صلح کر ا دیا کر و اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے ” (49:10)۔

            فرقہ ورانہ تصادم ، دہشت گردی اور معصو م لو گو ں کو نقصان پہنچانے کی مما نعت کے متعلق قرا ٓن کے وا ضح احکامات کےساتھ ساتھ نبی اکر م ؐ  کی ہدا یا ت بھی واضح ہیں ۔ آپؐ نے اپنے پیر وکا ر وں کو گروہو ں اور فرقوں میں تقسیم ہو کر آپس میں لڑنے سے منع فرما یا ۔ ایک مو قع پر نبی اکر م ؐ نے زمین پر ایک سید  ھی لکیر کھینچ کر صحا بہ اکر ام ؓسے فرما یا کہ یہ سید ھا راستہ  ہے ۔آپ ؐ نے پھر ایک درخت کی شا خو ں کی ما نند اس سیدھی لکیر کے ساتھ منسلک کچھ مزید لکیریں کھینچیں اور متنبع فرما یا کہ سید ھے راستے کے علا وہ ہر منحر ف راستے پر شیطا ن مو جو د ہے جو لوگوں کو گمر اہ کرنے کے لیے بلا  رہا ہے ۔ تاہم، ہمیں اپنے درمیا ن تقسیم کو ختم کر کے قرآن وسنت کے احکامات پر عمل کر نا چاہیے ۔

            قرآن وسنت کی تعلیمات کی غلط تشریع سے عام مسلما نو ں کو فرقہ ورانہ بنیا دوں پر تقسیم کرنے  اور تشدد پر اکسانے والے ، معصوم لو گو ں کا دہشت گردی کے ذریعے خون بہا نے والے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام اور مسلمانو ں کےدشمن ہیں جنہو ں نےاسلام کے نا م پر شیطان کا جھنڈا تھا م رکھا ہے ۔ یہ دہشت گر د  عام معصوم لوگو ں کے قتل عام کا باعث ہیں ۔ اسلام میں مسلما نوں کو تکفیرت کا فتویٰ لگا کر قتل کر نا سختی سے منع ہے ۔ یہ وقت قر آن و سنت کے حقیقی احکا مات کو تسلیم کر تے ہوئےباہمی محبت  ہم آہنگی اور امن و اتحاد سے رہنے کا طالب ہے ۔ یہ بات ممکن نہیں کہ سارےمسلما ن یا  پاکستانی تما م مسا ئل اور معا ملا ت پر ایک جیسی سوچ رکھیں مگر  یہ ممکن ہے کہ تما م مذہبی و نظریا تی اختلا فات کو قبول کر کے ایک  ساتھ امن و سکو ن سے رہا جا ئے ۔ یہی اسلامی تعلیما ت کا درس اور تہذیب یافتہ مسلما نو ں کا شیوا ہے ۔ ملک میں جاری فرقہ وارنہ تقسیم کی سا زشوں اور کو ششوں کے سد با ب کے لیے ہمیں اپنا کر دار ادا کرتے رہنا  ہو گا تاکہ ملک پا کستان کو فرقہ واریت اور دہشت گردی سے پا ک کر کے ایک مثالی فلا حی ریا ست بنا یا جا سکے ۔ ہمیں اسلا م اور قر آن مجید کی ان تعلیمات کو اختیا ر کر تے ہوئےمعا شرے میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اپنا بھر پور کر دار ادا کر تے رہنا چاہیے ۔ ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردانہ حملو ں میں شہید ہو نے والے سبھی پاکستانی مظلوم ہیں اور اس ضمن میں دشمن نے قوم کو تقسیم کر نے کے لیے سما جی رابطے کی ویب سائیڈ وں کے ذریعے جوپر و پیگنڈا پھیلا رکھا ہے   ہمیں اسےبھی   رد کر کے قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے  ۔تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں  جنھیں اپنی صفوں میں اتحاد اور  مضبوطی رکھنے کےلیے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑا ہونا ہوگا۔اللہ ہم سب کو محبت اور بھائی چارے سے رہتے ہوئے ریاستِ پاکستان کو طاقتور اورمستحکم بنانے کی توفیق عطاء فرمائے۔(آمین)

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>