Published On: Fri, Jul 29th, 2016

پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کی عالمی سازشیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں عوام کی ذمہ داریاں

[pukhto]

پاکستان میں فرقہ واریت کو فروغ دینے کی عالمی سازشیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں عوام کی ذمہ داریاں

 افتخار حسین

معروف قوال امجد صابری کا کراچی میں دن دیہاڑے شہید کر دینا پوری قوم کے لیے صدمے کا باعث بنا ہے ۔تحریک طالبان حکیم اللہ محسودگروہ کے ترجمان نے اس ظالمانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔یو ں تو دہشت گرد پاکستان کے عوام پر بلا امتیاز اور بے دریغ حملے کر رہے ہیں تاہم امجد صابری پر ہونیوالا حملہ اس بنا ء پر نہایت دکھ کا باعث بنا کیونکہ وہ نہایت رقت آمیز حمد باری تعالیٰ پیش کرتے تھے اورنبی کریم ؐ کے ثناء خواں تھے۔ایسےہر دل عزیز شخص کو یوں قتل کر دینا مذہبی اعتبار سے درست نہیں قرار دیا جا سکتا اور تحریک طالبان نے یہ قتل کر کے دشمن قوتوں کے مغموم عزائم کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے ۔کراچی میں جاری آپریشن نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہت بہتر بنایا تھا اور امجد صابری جیسی معروف شخصیت کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اب بھی شہر میں فعال ہیں اور حملے کرسکتے ہیں۔نیز ایک صوفی تشخص رکھنے والے فرد کو شہید کر کے ملک میں فرقہ واریت کی آگ کومزید بھڑکانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فروغ دیا جا رہا ہے۔اسلام اور پاکستان کی دشمن قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ جنگ اور مذہبی تشدد کی آگ بھڑکا رہی ہیں تا کہ اسے کمزور اور غیر مستحکم کیا جاسکے۔ ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ اور  مذہبی  دہشت گردی کے واقعات اسی گھناؤنے منصوبے کا شاخصانہ ہیں۔تخریب کاری کی اس مہم کی سرپرستی دشمن ممالک کے خفیہ ادارے کررہے ہیں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ‘را’ اس مہم میں سب سے زیادہ حصہ لےرہی ہے ۔بھارت کے اس پاکستان دشمن منصوبے کے ثبوت بھارتی جاسوس کُلبھوشن یادیو کے اعترافات کی صورت میں منظرِعام پر آچکے ہیں ۔اپنے اعترافی بیان میں یادیو یہ اقرار کرچکا ہے کہ وہ بلوچستان اور سندھ میں سرگرم فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ رابطے میں تھا ۔فرقہ واریت کو فروغ دے کر وہ ہندوستان کے پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ناکام بنانے کی گھناؤنی سازش کو تکمیل تک پہنچا رہا تھا۔تا ہم یہ امر بھی ہم واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ دینے میں القاعدہ ، داعش ،تحریک طالبان ، لشکر ِ جھنگوی اور ان کے مختلف دھڑے ملوث ہیں اور یہی گروہ  بنیادی طور پر اسے سرانجام دے رہے ہیں۔القاعدہ اور داعش پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلم ممالک کو فرقہ واریت اور اندرونی خلفشار کا نشانہ بنا چکے         ہیں ۔اب یہ انتہا پسند گروہ پاکستان کو بھی اسی صورتِ حال سے دو چار کرنا چاہتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ممالک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس ِ منظر میں  کار فرما  حقائق کی روشنی میں ہمیں اپنی آنکھیں کھول کرداعش اورالقاعدہ  کی اسلام دشمنی کا ادراک کرنا چاہیے اورپاکستان میں ان کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے حکومت اور مسلح افواج کا ساتھ دینا چاہیے۔داعش اورالقاعدہ کے رہنما مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں،  اور فرقہ واریت کو فروغ دے کر مسلمان ممالک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔القاعدہ اور داعش نے فرقہ واریت، قتل و خون ریزی، اقتصادی بحران اور  تباہی کے سوا مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔ان گروہوں نے آپس کی لڑائی میں عراق اور شام میں اپنے ہی فرقے کے ہزاروں ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔جب سے ابو بکر البغدادی نے اپنی خلافت قائم کرنے کا اعلان کر رکھا  ہے تب سے  مشرق ِ وسطیٰ میں مسلمانوں میں فرقہ وارانہ خون ریزی میں اور بھی تیزی آچکی ہے۔داعش اپنے پروپیگنڈے میں شروع دن سے ہی فرقہ واریت کو فروغ دیتی رہی ہے ۔اس کے رہنما اور کارندے عراق اور شام میں فرقہ وارانہ  حملے کرتے رہے ہیں۔سعودی عرب اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کےتناظر میں داعش  نے اپنی فرقہ وارانہ مہم کو تیز کر دیا ہے ۔داعش پہلےہی  سعودی عرب میں فرقہ وارانہ حملے کر ا چکی ہے اور اس کا سعودی عرب کےخلاف بڑھتا ہو اپروپیگنڈا نہایت سنگین  نتائج کا حامل ہو سکتا ہے ۔اس سے قبل داعش شیعہ فرقے کے خلاف پروپیگنڈا کرتی رہی ہے  اور اس کے اہلکاروں نے بہت سے شیعہ لوگوں کو  ہلاک کررکھا ہے ۔ایران اور سعودی عرب  میں موجودہ کشیدگی کو مزید ہوا دینا اور عرب ممالک میں فرقہ واریت کو فروغ دینا داعش کے خطرناک عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔

پاکستان کے عوام کو فرقہ واریت کی اس سازش کو ناکام بنا دینا چاہیے کیونکہ اسلام میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی کوئی گنجائش نہیں اور قرآن مجید کی متعدد آیا ت ایسی روش کی مذمت کرتی ہیں۔لہذا اس بات میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ، داعش اور طالبان کی جہالت ان کے فرقہ وارانہ اور مذہبی نفرت پر مبنی نظریات کا باعث ہیں۔یہاں ہم قرآنی آیات کی روشنی میں فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کی اسلام میں نا پسندیدگی کو سمجھنے کے لیے قرآنِ مجید کی چند آیات عوام کی آگاہی کے لیےتحریر کردیتے ہیں۔

سورۃ البقرہ کی آیت 256 میں اللہ  کا ارشاد ہے کہ “دین میں کوئی جبر نہیں ہے اور ہدایت گمراہی سےواضح ہوچکی ہے۔”یہ آیت ہمیں بڑا واضح حکم دیتی ہے کہ اسلام میں دینی معاملات میں جبر اور زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔سورۃ یونس کی آیت 99 میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے “اگر آپ ﷺ کا پروردگار چاہتا توزمین پر جتنے لوگ ہیں سب ایمان لے آتے۔ تو  کیا آپﷺ لوگوں پر سختی کرناچاہیں گے یہاں تک وہ ایمان لے آئیں”۔اس آیت مبارکہ میں اللہ سبحان و تعالیٰ کا نبی کریم ﷺ کو اسلام کی تبلیغ میں سختی برتنے سے منع کرنا ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔قرآن مجید میں مسلمانوں کو بار بار جتایا گیا ہے کہ وہ ایک امت ہیں اور انھیں فروہی مسائل میں الجھ کر فرقہ واریت کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔سورۃ المومنین کی آیت 52،53،54 میں ارشاد ہے کہ “اور تم ایک اُمت ہو اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو مجھ سے ڈرتے رہو۔مگرلوگ پھر بھی بٹ جاتے ہیں اور ہر فرقہ اس پر خوش رہتا ہے جو اس کے پا س ہے تو انھیں اِسی کشمکش میں چھوڑدو۔”یقیناً ہر مسلمان نبی کریم ﷺ کے قرب کا متمنی رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ فرقہ واریت ہمیں اس سعادت سے محروم کرسکتی ہے۔سورۃ انعام کی آیت 160 میں ارشاد ہے” جن لوگوں نے اپنے مذہب کو بانٹ دیا  اور فرقہ ،فرقہ ہو گئے آپؐ کا اُ ن سے کوئی تعلق نہیں۔اُن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور وہ انھیں جتا دے گا جووہ کرتے رہتے ہیں”۔یہ آیت بہت واضح طور پر بتاتی ہے کہ فرقوں میں بٹ جانے والے مسلمان نبی کریم  ﷺ کی شفقت سے محروم رہ جائیں گے”۔اسی طرح قرآن کی بہت سی آیتوں میں مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیا گیا ہے اور فرقہ واریت کو مسلمانوں کی قوت میں کمزوری کا باعث بتایا گیا ہے۔سورۃ العمران کی آیت 103 میں فرمانِ الہی ہے” اور سب  مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور  فرقہ فرقہ مت ہونا”۔

اس مختصر مضمون میں بیان کردہ حقائق اور قرآنی آیا ت کے مفہوم کی روشنی میں پاکستان کے عوام کو فرقہ واریت سے بچنے کی ضرورت ہےیہ ہمارا قومی اور مذہبی فریضہ ہے اور صرف اتحاد کو فروغ دے کر ہی ہم پاکستان اور عالم ِ اسلام کے دشمنوں کو شکست دے سکتے ہیں ۔پاکستان کا سب سے بڑا دشمن بھارت فرقہ واریت کا ہی سہارا لے کر ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے لہذا خواہ القاعدہ ہو یا داعش سبھی پاکستان کے دشمن ہیں اور ہماری فلاح ان کی شکست اور ناکامی میں مضمر ہے۔

[/pukhto]

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>