Published On: Fri, Apr 1st, 2016

پشاور بس حملے میں معصوم جانوں کا ضیائع اور دہشت گرد گروہوں کی گمراہی اور غلط نظریات

peshawar bus attack

افتخارحسین

16مارچ 2016 کو پشاور میں دہشت گردوں نے ایک بس کو دھماکے سے اُڑا کر 15 بے گناہ مسلمانوں کو شہید اور 28 کو زخمی کردیا۔اِس سےقبل07مارچ کو تحریک طالبان کے خود کش حملہ آور نے چارسدہ کی تحصیل شب قدر میں عدالت کے احاطے میں خود کو اُڑا کر 16 مسلمانوں کو شہید اور 20 کوشدید زخمی کردیا۔یہ بم دھماکے وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کی ناپاک تحریک کا تسلسل ہیں جس میں پاکستان کے 55ہزار کے قریب نہتے مرد عورتیں اور بچے شہید ہو چکے ہیں۔آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں سے اللہ کے فضل سے دہشت گردی کا زور ٹوٹ چکا ہے تاہم دہشت گرد گروہ اپنی سفاکانہ کاروائیوں میں کبھی کبھی کامیاب ہو جاتے ہیں جس میں بے گناہ مسلمانوں کا جانی ضیائع ہو جاتا ہے۔دہشت گردی کی اس روش کو ہر کوئی ناحق اور ظالمانہ گردانتا ہے اور سبھی پاکستانی بالخصوص قبائلی علاقوں کے باشندے ان تخریب کار گروہوں کو رد کر چکے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف آگاہی کو مزید فروغ دینے کے لیے دہشت گرد گروہوں کے غلط نظریات اور غیر اسلامی حیثیت پر یہاں ایک مرتبہ پھر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

دہشت گرد اپنی ناقص نظریاتی سوچ کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں تا کہ ایک باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت معصوم اور کم سن ذہنوں کو زنگ آلود کر کے اپنی تنظیموں کے لیے افرادی قوت بڑھائی جا سکے ۔   انتہا پسند دہشت گرد ہمیشہ یہ پرچار کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ اسلامی تعلیمات کے سچے پیروکار ہیں جبکہ اسکے برعکس اگر ان کی کاروائیوں کا جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہو تی ہے کہ ان کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے۔ مسلح فسادانگیزی، انسانی قتل و غارت، خودکش حملے، مساجد و مزارات پر حملے، تعلیمی اداروں کی تباہی، دفاعی تربیت کے مراکز پر حملے، نعشوں کی بے حرمتی اور عورتوں کا استحصال وہ تمام کاروائیاں ہیں جو ان دہشت گردوں کی حقیقت عیاں کرنے کیلیے کافی ہیں۔ یہ دہشت گرد ان تمام کاروائیوں پر عمل پیرا ہیں جس سے نہ صرف مسلمانوں کی بدنامی ہو رہی ہے بلکہ اسلام دہشت گرد ی کو فروغ دینے والا مذہب سمجھا جاتا ہے۔اپنی تمام کاروائیوں کو یہ ظالم غلط طور پر جہاد کا نام دے رہے ہیں اور جہاد کا ہی لفظ استعمال کر کے مسلمانوں کو دوسرے مسالک اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف اُکسا رہے ہیں۔دہشت گردوں کےغلط نظریات کے مطابق پاکستان کی حکومت اور بالخصوص عساکر پاکستان شریعت کے خلاف قوانین پر عمل پیرا ہیں اور اسلام دشمن عناصر کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں ۔انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان میں ہونے والی تمام کاروائیوں کوغیر منطقی طورپر درست قرار دیا جاتا ہےجو کہ اسلام کی روح سے سراسر غلط ہے۔اسلام نے جہاد کےلیے بہت سے اصول اور قوانین واضح کردیے ہیں اور کوئی بھی باغی گروہ یا شخص خود سے جہاد کا اعلان نہیں کر سکتابلکہ یہ اختیار صرف حکومتِ وقت کو حاصل ہے کہ وہ جہاد کرنے کےلیے باقاعدہ اعلان کرے۔ طالبان کی قتل و غارت گری کو نہ تو جنگ کا نام دیا جا سکتا ہے اور نہ جہاد کا کیونکہ نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کے ہر قانون نے جنگ کے کچھ اصول وضع کر رکھے ہیں جن میں سفاکی، بربریت اور پُر امن شہریوں پر اندھی بمباری کی قطعاً گنجائش نہیں جبکہ اسلام نے تو جہاد کے ایسے زریں اصولوں سے دنیا کو روشناس کروایا ہے جن کی نظیر پوری تاریخ انسانیت میں نہیں ملتی۔ وہ کیسے انسان ہیں جن کے دل انسانیت سے یکسر خالی ہو چکے ہیں اور انہیں اسلامی اصول اور قانون کی پروا ہ نہیں رہی؟

اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں اور خودکش حملہ کرنے والے حرام موت مرتے ہیں۔ اسلام کبھی معصوم لوگوں کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ عسکریت پسند دہشت گرد آئے روز خودکش حملے کر کے کئی معصوم لوگوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں اور انسانیت کی تذلیل کر رہے ہیں کیونکہ انسانیت کی قدرومنزلت کی جو حقیقت اسلام نے بیان کی ہے اس کا ثبوت شاید ہی کسی اور مذہب میں ملے، اس لیے خودکش حملے غیر اسلامی ہیں۔لیکن دہشت گرد مسلسل معصوم لوگوں اور خاص طور پر کم سن بچوں کو خود کش حملہ آور کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور اسے اسلام کی روح سے درست گردانتے ہیں۔حتیٰ کہ سرکاری عمارات اور پبلک مقامات پر خودکش حملوں کے نتیجے میں ہزارہا سرکاری اہلکار اور بے گنا ہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

      نمازیوں پر حملہ کرنے والے اللہ کے سخت عذاب و قہر کےمستحق ہیں۔ مسجدوں پرخود کش حملے اور بے گناہ معصوم انسانوں کو شہید کرنا اسلام کی روح سے گناہ کبیرہ ہے اور ان کاروائیوں پر عمل پیرا لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔دہشت گردمساجد کو شہید کرنے، نمازیوں کے خون سے مساجد کے در ودیوار رنگنے، مزارات کی بے حرمتی کرنے اور انہیں ناجائز طور پر شرک کے اڈے قرار دے کر مسمار کرنے میں مصروف ہیں۔دہشت گرداپنی غلط منطقی سوچ کی بنا پر مختلف عقائد اور مختلف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی عبادت گاہوں میں ظلم وزیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔امام بارگاہوں ،مسجدوں اور مزاروں کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا جواز انتہا پسند دہشت گرد یہ پیش کرتے ہیں کہ وہ تمام لوگ کافر ہیں اور اپنے عقیدے کی بنیاد پر زندہ رہنے کے مستحق نہیں جبکہ قرآن و سنت مذہبی رواداری اور انسانی جان کی حرمت کے علمدار ہیں۔

تعلیم کی اہمیت سے کوئی ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا۔ طالبان نے اسلامی تعلیمات کے برعکس حصول ِ تعلیم پر پابندی عائد کر دی ہے اور تمام طالب علموں کو پابند سلاسل کرنے کی کوششیں کی۔ معصوم بچوں اور بچیوں کے سکولوں کو تباہ وبرباد کر دیا۔ جس سے سینکڑوں طالب علم اپنے بنیادی حق سے محروم ہو گئے ہیں۔دہشت گرداپنے انتہا پسندانہ نظریات کے باعث سرکاری اسکولوں کو غیر اسلامی تعلیم کے مراکز قرار دے کرانہیں گرانے اور اساتذہ کو قتل کررہے ہیں۔ 2006 سے 2016 تک سینکڑوں اساتذہ اور طلباء کو قتل کر دیا گیا اور سینکڑوں سکولوں کو جلایا اور گرایاجا چکا ہے۔ دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر سفاکانہ حملہ کیا گیا اور جنوری 2016 میں اس روش پر چلتے ہوئے باچا خان یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ کو شہید کیا گیا۔

      دہشت گردبچوں اور خواتین کو اپنی کاروائیوں کے لیے بڑی سفاکی سے استعمال کر رہے ہیں۔اسلامی تعلیمات کی روح سے خواتین ، بچےاور بزرگ حالتِ جنگ میں بھی نرمی کے مستحق ہیں اور ہر قانون سے مستثنیٰ قرار پائے ہیں لیکن اسلامی تعلیمات کے برعکس یہ دہشت گرد نہ صرف ان معصوم لوگوں کو بم دھماکوں ،خودکش حملوں کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں بلکہ اپنی کاروائیوں میں استعمال کررہے ہیں۔ یہ کیسے مسلمان ہیں جو نہ صرف اسلامی جہاد کی شرائط اور ضابطوں بلکہ اسلام کی تعلیمات کو پامال کرتے اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بے دریغ بہاتے جا رہے ہیں لیکن خود کو “مسلمان مجاہد” کہلوانے پربضد ہیں۔ان کے قول وفعل میں واضح تضاد ہے جو اپنے آپ کو اسلامی احکامات ماننے والے سچے مسلمان گردانتے ہیں لیکن ان کاہر عمل اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ جس کی روح سے وہ خوارج قرار پاتے ہیں۔ یہ مسلمان تو دور کی بات انسان کہلانے کے بھی حقدار نہیں ہیں۔ ان کی انسانیت سوز کاروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں اور پیسے کے لالچ میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں کوشاں ہیں۔ہمیں ان حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنے معاشرے سے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے میں متحرک ہونا ہوگا اور دہشت گردوں کے غلط نظریات کو عوام الناس کے سامنے اس طرح پیش کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی غیر اسلامی اور غیر انسانی نوعیت سے اچھی طرح آگاہ ہو جائیں۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>