Published On: Fri, Jan 8th, 2016

پیرس ،خود کش حملہ آور کے والد نے بیٹے کے عمل کو غلط قرار دے دیا

Paris Attack

فائزہ خان

13نومبر کوپیرس کے بتا کلان کانسرٹ ہال پر ہونے والے حملے کے تیسرے اہم مسلح نوجوان، فواد عقاد کے والد کا جذباتی بیان منظر عام پر آیا جس میں انھوں نے کہا اگر انہیں اپنے بیٹے کے عزائم کا ذرا بھی علم ہوتا تو وہ خود اسے اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتے ۔     سید محمد العقاد نے اپنے بیٹے کے عزائم سے لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ان کے بیٹے کے حملوں میں ملوث ہونے کا ادراک اسکے ڈی این اے ((DNA سیمپل کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہوا۔23 سالہ فواد ان تین مسلح افراد کی فہرست میں شامل تھا جنھوں نے تیرہ نومبر کو بتا کلان کانسرٹ ہال میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 130بے گناہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ فواد کے والد کو انکے بیٹے کا شام میں 2013 میں مقیم میں ہونے کا علم تھا اور تب ہی انھوں نے اسے آخر ی بار دیکھا تھا۔مگر انھیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ فرانس واپس آچکا ہے اورسو سے زائد افراد کی جان لینے کا مرتکب ہوچکا ہے ۔ ایک والد کاایسا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ خود کو اسلام کا دعویدار کہنے والا ابو بکر البغدادی اور اس کا گروہ داعش اسلامی تعلیمات کاوہ بنیادی سبق بھول گئےہیں جس کے مطابق والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے۔سید محمد العقاد کا چونکا دینے والابیان اس بات کا ثبوت ہےکہ نہ تو وہ اپنے بیٹے کی ایسی تربیت کے خواہاں تھےجس میں شر پسندی کے عناصر موجود ہوں اور نہ ہی فواد کی اس گھناؤنی سازش میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔

فواد نے خلاف شریعت اپنے والدین کی نافرمانی کی جو کہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالی تمام انسانیت کا خالق ہے اور نوع انسان کی تخلیق کا ذریعہ اس نے والدین کو بنایا ہے یہی وجہ ہے جس کے باعث والدین کے حقوق کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے۔حضرت ابن عباس سےروایت ہے کہ جس شخص نے اپنے والدین کی فرمانبرداری کی اور ان کے حکم کو بجا لایا اس شخص کےلیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے۔اس لیے فواد کے شر پسند اقدامات، اسلامی تعلیمات کے برعکس ہیں۔صحابی رسولؐ عبداللہ بن امر بن العیص سے روایت ہے کہ ایک شخص حضر ت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی جواب میں حضرت محمد ﷺ نے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین حیات ہیں جواب آیا “جی”آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہیں چاہیے تم اپنی زندگی انکی خدمت میں وقف کرو۔ یہ واقعہ تمام امت ِمسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے جس میں والدین کی خدمت اور اطاعت کو جہاد سے بھی افضل فعل قرار دیا گیا ہے۔سید محمد العقاد کا بیان واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی اس بھیانک واردات کےہر گز حق میں نہ تھے ۔اس لیے فواد نے جہاں ایک طرف خود کش حملے جیسے حرام گناہ کا ارتکاب کیا وہیں وہ اپنے والد کی نافرمانی کرنے کے باعث بھی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نظر میں مجرم ٹھہرے گافواد کی اس وحشیانہ کاروائی میں شمولیت ،نام نہاد جہاد نہیں بلکہ اسلامی نظریہ کی تشخص پر کاری ضرب ہے جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری شدت پسند عناصر کی کارستانیوں کا تسلسل ہے۔دورِ جدید کے معروف علماء نے بھی اپنے فتاوٰی کے ذریعے مسلمانوں کی خونریزی کو قرآنی آیات اور احادیث ِ مبارکہ کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔سرکارِ دو جہاں حضرت محمدؐ نے بھی اس راستے کو مسترد اور ہر اس دروازے کو بند کردیا جس سے مسلمانوں میں ذہنی انتشار پھیلے اور ان کے گھروں کاامن و سکون تباہ ہو۔ ارشاد ِ نبوی ؐ ہے کہ ” دین میں انتہا پسندی سے بچو کہ تم سے پہلی قومیں اسی بناء پر تباہ ہوگئیں۔”

دین اسلام کی آڑ میں دہشت گردی کو فروغ دینےکی سازشیں اور اسے ہر لحاظ سے غیر مستحکم کرنے کے منصوبے عالمی سطح پر تشکیل پا رہے ہیں جس میں سے ایک سازش بصورتِ فواد پیرس میں پیش آنے والے حادثے میں ہوئی۔فواد اور اسکے سات ساتھیوں کی پیش کردہ ڈی این اے ((DNAرپورٹس اور انکے ہوٹل کے کمرے کی کچھ شائع ہونے والی تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ دہشت گرد نشہ آور ادویات کے استعمال کے بھی عادی تھے۔ ان حملہ آوروں کو دینِ اسلام کا پیروکار کہنے والے یہ بھی بھول گئے کہ دین اسلام کی روح میں ہر نشہ آور اور مست کر دینے والی چیز کو حرام قرار دیا گیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ “اے ایمان والو! شراب اور جوا ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تا کہ تم فلاح پاجاؤ۔” دین اسلام کے مطابق نشہ حرام ہے اور یہ بہت سی معاشرتی برائیوں کا سبب بنتا ہے لہذا اگر اسکو معاصی (یعنی گناہوں) اور بے حیائیوں کی جڑ کہا جائے تو بجا ہے۔

اسلام میانہ روی اور اعتدال کا دین ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ملت اسلامیہ کا تعارف یوں فرمایا” اور اے مسلمانو! اسی طرح ہم نے تمہیں اعتدال والی بہتر امت بنایا۔” یہی اعتدال فکر و نظر میں بھی اور عمل و کردار میں بھی نظرآنا چاہیےاور یہی دین اسلام کا وصف ہے جو گروہ طبقہ ِ میانہ روی سے جتنا دور ہوتا گیا وہ روح ِ اسلام سے بھی اتنا دور چلا گیا۔شواہد کے مطابق فواد کے اطوارِ زندگی کسی زاویے سے دین اسلام کے عقائد کی عکاسی نہ کرتے تھے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو غلط رنگ دے کر خود کو اسلام کے دعویدار کہنے والے مختلف گروہ وقتاً فوقتاً مسلمانوں میں ظاہر ہو تے رہے ہیں اور یہ اسلام کی راہ پر چلنے کے ارادے سے اعتدال سے اتنا دور ہو گئے کہ اسلام کی بات کرنے اسلامی عبادات انجام دینے کے باوجود اسلام سے خارج تصور کیے گئے۔

احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں ان انتہا پسند گروہوں کا جائزہ لینے اور انکی شخصی و فکری علامات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ فواد اورانتہا پسندداعش کےنظریات بھی کم و بیش اسی طرح کے ہیں جس طرح کے نظریات خوارج کے تھے۔فی الحقیقت ان باطل نظریات کا اسلام کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔

انتہا پسند انہ نظریات کے حاملین دین اور جہاد کے نام پر عوام الناس کا خون بہا رہےہیں ۔پیرس میں ہونے والے حملے میں معصوم بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔خون خرابے سے بڑھ کر یہ واقعہ بیرون ممالک دین کی بد نامی کا بھی باعث بنا جبکہ اسلام اور قرآن ادب ،تعظیم ،محبت و الفت اور اطاعت واطباع کے راستے پر گامزن رہ کر اہل ِاسلام کے قلوب و اذہان کوانتہا پسند ی کے فتنے سے محفوظ رکھتے ہوئے انھیں امن و سلامتی اور ادب و احترام کا پیکر بناتا ہے۔اسلام کی خدمت کا فریضہ ادا کرنے والے حقیقی مومنین اور بےگناہ انسانیت کا خون بہانے والے دہشت گردوں کے درمیان خط ِ امتیاز کھینچنے کی ازحد ضرورت ہے ۔ سید محمد العقاد کے اپنے ہی بیٹے کےخلاف اس بیان سے جہاں نوجوان نسل کو دہشت گرد گروہوں کی اصل حقیقت کا ادراک ہوا وہیں یہ بھی واضح ہوگیا کہ دین کی آڑ میں ناحق قتل کرنے والے ، والدین کے نافرمان اورمنشیات کے عادی افراد دراصل دین دشمنوں کے ایجنڈے پر سر گرم ِ عمل رہ کر دین ِ اسلام کے اجلے چہرے کو داغ دار کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ روزِ اول سےلے کر آج تک ہر دور میں جب بھی معاشرے میں کسی سطح پر انتہا پسندانہ رجحانات نے فروغ پایا ۔چاہے انکی نوعیت مذہبی تھی ،سیاسی یا سماجی۔ ان رجحانات کے نتیجے میں معاشرہ شکست وریخت کا شکار ہوا اور من حیث کُل امتِ مسلمہ کو نقصان پہنچا۔اس لیے ہماری نوجوان نسل کو القاعدہ اور داعش جیسے انتہاپسند اور دہشت گرد گروہوں کو رد کردینا چاہیے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>