Published On: Thu, Apr 7th, 2016

گلشن ِ اقبال پارک حملہ معصوم مسلمان اور عیسائی جانوں کا ضیاع اور طالبان کی گمراہ کن توجیہات

Attack on Christians in Gulshan Iqbal Park in Lahore by Taliban

تحریک طالبان کے دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نےگلشن ِ اقبال پارک لاہور میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ دعوٰی کیا ہے کہ اس حملے کا نشانہ عیسائی برادری کے لوگ تھے۔یہ دعوٰی اس بنا پر گمراہ کن ہے کہ اس حملے میں عام لوگ شہید ہوئے اور بہت سی خواتین اور بچے اس حملے کا نشانہ بنے ۔نیز اگر عیسائی ہی اس حملےکا شکار ہوتے تو بھی یہ حملہ ہر صورت میں ناجائز اوراسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔دھماکہ ایک بچوں کے پارک میں کیا گیا جس کے نتیجے میں ہر شخص خواہ وہ مسلمان تھا یا عیسائی بلا امتیاز مارا گیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق 74 سے زائد عورتیں اور بچے اس خودکش حملے میں شہید ہو چکے ہیں جبکہ 300 کے قریب افراد شدید طور پر زخمی ہیں ۔اس طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تحریک طالبان کا غرض عام لوگوں کی ہلاکت ہے خواہ اس کی کچھ بھی دلیل پیش کریں۔عیسائی برادری کے نام میں اس حملے کو جائز قرار دینے کی کوشش کرنا ایک گمراہ کن عمل ہے اور ہم چند حقائق قرآن وسنت کی روشنی میں پیش کرتے ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ مسیحی برادری کے لوگوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا ناجائز اورظلم ہے اور یہ تحریک طالبان کی گمراہ کن نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سورت المائدہ کی آیت نمبر 82 میں فرما تے ہیں “مسلمانوں کے ساتھ دشمنی میں سخت یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی میں قریب وہ ہیں جو کہتے ہیں ہم نصارہ ہیں۔ کیونکہ ان میں راہب بھی ہیں اور عالم بھی ہیں اور وہ غرور نہیں کرتے”۔ قرآن کریم کی یہ آیت ہمیں عیسائیوں کے ساتھ نہ صرف امن کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتی ہے بلکہ ان سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ تنہا   یہی آیت تحریکِ طالبان کی گمراہ کن سوچ   کی نفی کرنے کے لیے کافی ہے۔لہذا گلشنِ اقبال پارک پر حملے کی حمایت کرنا اور شرعی طور پر اِسے ایک درست فعل قرار دینا صریحاًغلط ہے۔ اس حملے میں بے گناہ بچوں اور عورتوں کے قاتل قرآن اور نبی کریم ﷺ کی سخت نافرمانی کے مرتکب بھی ہوئے۔تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام اقلیتوں کو بالعموم اور اہلِ کتاب کو بالخصوص امن کی ضمانت دیتا ہے اور ان کی جانوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔مسلمان علماء کے متعددفتوے ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گردوں نے گلشن اقبال پارک پر حملہ کر کے ایک غیر اسلامی اور غیر انسانی جرم کا ارتکاب کیا۔

            نبی کریمﷺ نے عیسائیوں سے دوستی، تعاون اور امن کا رویہ برتا۔ درحقیقت مسلمانوں کی پہلی پناہ گاہ ایک عیسائی حکمران ہی بنا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے نبی کریمﷺ کی ہدایات پر پہلی ہجرت حبشہ کی طرف کی ۔ وہاں کے عیسائی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو کفارِ مکہ کے مظالم سے مکمل تخفظ فراہم کیا ۔ جب نجران کے عیسائی نبی کریمﷺ سے دین کے معاملات پر بحث کرنے کے لیے مدینہ آئے تو آپ ﷺنے انھیں اپنی مسجد میں تین دن ٹھہرایا۔ آپ ﷺ نے انھیں مسجدِ نبویﷺ میں اپنی عبادت کرنے کے لیے جگہ بھی مہیا کی۔ ان عیسائیوں کی درخواست پر نبی کریمﷺ نے انھیں امن کے معاہدے کے ساتھ مدینے سے رخصت کیا۔ نبی کریمﷺ کا یہ طرزِ عمل ہم سب کے لیے رہنما ہے اور اسلام میں عیسائیت کے احترام کو اُجاگر کرتا ہے۔ یہ حقائق بھی تحریکِ طالبان کے ظلم پر مبنی خیالات اور اعمال کو رد کرتے ہیں۔

            گزشہ سال یوحنا آبادلاہور میں واقع کیتھولک اور کرائسٹ چرچ میں خودکش حملوں میں تقریباً 19 افراد جاں بحق اور 95  زخمی ہوگئے تھے۔حملے کے وقت چرچ میں دعائیہ عبادت جاری تھی ۔ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار ہی نےاس ہولناک حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔سورۃ الحج کی آیت نمبر 40 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” اگر ہم ایک کو دوسرے کے ذریعے سے نہ روکے رکھتے تو خانکاہیں، گرجا گھر، یہودی معابد اور مسجدیں جہاں اللہ کا نام لیا جاتا ہے کب کےگرائے جا چکے ہوتے” قرآن کی یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کو ہر گز مقصود نہیں کہ مسلمان دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچائیں یا ان پر قبضہ کر لیں۔ بلکہ اللہ انسانوں کو ایسا کرنے سے اپنی قدرت اور رحمت کے ذریعے روکے ہوئے ہیں۔ لہذا اسلام کا اصل درس سبھی مذاہب کی عبادت گاہوں کا تقدس اور تحفظ ہے اور شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ انہیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے۔ مسیحی برادری پر حملے اور معصوم بچوں اور عورتوں کی ہلاکت کو جائز قرار دینے والے دہشت گرد اسلام، قرآن اور نبی کریمﷺ کے احکامات کی شدید خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔عیسائیوں اور ان کی عبادت گاہوں کا جو تقدس اسلام میں ہے وہ بیت المقدس کی فتح کے وقت حضرت عمرؓ کے طرز عمل سے صاف عیاں ہوتا ہے ۔ وہاں کے عیسائیوں نے آپ کو دعوت دی کہ آپ ان کے گرجا گھر میں نماز ادا کر لیں مگر آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے اس عمل کو حجت بنا کر مسلمان اس گرجے کو زبردستی مسجد نہ بنا لیں ۔ لہذاتحریکِ طالبان کے رہنماکچھ ہوش سے کام لیں اور اس گمراہی سے باہر نکلیں جس میں وہ بھٹک رہے ہیں۔

            دہشت گرد ملک بھر میں خودکش حملوں سے مسجدوں کو تباہ کر رہے ہیں اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں۔مسیحی برادری پر حملے انہیں مظالم کا شاخسانہ ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم مساوی طور پر ان کے حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل علماء اور عام مسلمانوں کے لیے بھی کبھی قابلِ قبول نہیں رہا۔ تا ہم جہاں عام مسلمان آئے روز دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں وہیں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھی ان کی زد میں آ جاتے ہیں۔

            اسلام امن کا دین ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ ونسل سے ہو،جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے۔اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے۔اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو ہمیشہ بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ عہد رسالت مآب ﷺ ہو یا دورِ صحابہؓ، اسلامی تاریخ غیر مسلم شہریوں سے مثالی حسن سلوک کے ہزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔ دیگر مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے افراد اسلامی ریاست میں ہمیشہ سے ہی پُر سکون زندگی گزارتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی ہمیشہ سے ہی امن و امان سے اپنی زندگیاں بسر کرتی رہی ہیں جہاں انھیں اپنی مکمل مذہبی آزادی رہی ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں دہشت گرداپنے ناپاک عزائم کے لیےانھیں اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان سفاک دہشت گردوں کے قبیح افعال اسلام کے چودہ سو سالہ روشن چہرے کو بھی داغ دار بنا رہے ہیں اور اسلام کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ ان ظالم دہشت گردوں کے ہاتھوں مساجد ، مدارس، امام بارگاہوں، محرم کی مجالس نمازِ جنازہ اور گرجا گھروں کی مسلسل پامالی ہو رہی ہے۔انھوں نے کسی بھی عبادت گاہ کا کوئی تقدس سلامت نہیں چھوڑا۔نیز گلشنِ اقبال پارک میں معصوم عورتوں اور بچوں کو شہید کر کے انتہا درجے کی گمراہی کا ثبوت دیا ہے۔ہم سب کو من حیث القوم اس سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>