Published On: Tue, May 9th, 2017

“ہم سب ردالفساد کے سپاہی ہیں ، آئیے مسلح افواج کا بھر پور ساتھ دیں !

“ہم سب ردالفساد کے سپاہی ہیں ، آئیے مسلح افواج کا بھر پور ساتھ دیں !

(سید ثاقب علی شاہ)

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حالیہ ایک پیغام میں کہا کہ پاکستانی قوم کا ہر ایک فرد “ردالفساد”کا سپاہی ہے جس کی یہ   ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کو ہر طرح کے فساد سے پاک کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے،(آئی ایس پی آر)۔پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا (ٹوئٹر ) پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں ساری قوم کو یہ پیغام دیا گیا کہ دہشت گرد سرگرمیوں کے متعلق چوکنا رہ کر پاک فوج کی مدد کریں تاکہ آپریشن ردالفساد کو کامیاب بنایا جا سکے ۔ اس پیغام میں آرمی چیف نے تمام شہریوں کو دہشت گردی کی لعنت کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کےلیے کہا۔وڈیو میں ایک شخص کو غیرقانونی طریقے سے ایک گاڑی کرائے پر لینے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جب مالک اس شخص سے شناختی کارڈ طلب کرتا ہے تو وہ شخص مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کے بجائے مالک سے  زیادہ رقم کے عوض گاڑی لے جاتا ہے۔ بعدازاں، یہ شخص اس گاڑی میں ایک خودکش بمبار کو متعلقہ ہدف تک پہنچانے کےلیے استعمال کرتا ہے۔ اس وڈیو کے اختتام پر تمام پاکستانیوں، بلخصوص ایسے مالکان جو کاروباری لین دین کے معاملات سے منسلک ہیں ،انھیں ذمہ داری سےکا م کرنے ،ہوشیار رہنے اور کسی بھی مشتبیٰ سرگرمی کا علم ہونے کی صورت میں متعلقہ اداروں کو آگاہ کرنے کےلیے کہا گیا تاکہ ایسے عوامل کا خاتمہ کیا جاسکے جو ملک و قوم کے تحفظ پر سمجھوتہ کرتے ہیں۔

پاک فوج نے ۲۲ فروری ۲۰۱۷ کو ملک گیر فوجی آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا جس میں پنجاب اور سارے ملک میں پہلے سے جاری کردہ سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کی توسیع ہوئی۔یہ آپریشن اس سال کے شروع میں ملک دشمن قوتوں کے دہشت گرد حملوں کے بعد شروع ہوا جس کا مقصد بلا تفریق دہشت گردی کو جڑ  سے اُکھاڑ پھینکنا ہے۔پاک فضائیہ ، پاکستان نیوی اور دیگر سیکیورٹی  اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے انتہائی دلجمی سے اس میں حصہ لے رہے ہیں اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کےلیے پُر عزم ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کی میڈیا بریفنگ کےمطابق پنجاب میں ۲، سندھ میں ۱ بلوچستان میں ۴ اور خیبر پختونخوا ہ میں ۸بڑے آپریشنز کیےگئے اور اس ملک گیر آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار کے سابقہ ترجمان احسان اللہ احسان نے بھی خود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا۔پاکستان کےلیے اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی کہ ہمارے دشمن جاری آپریشن کے بعد  اپنی دہشت گردانہ سوچ بدل کر واپس قومی دھارے میں شامل ہو رہےہیں۔ ان فوجی کاروائیوں کے بعد تقریباً ۵۰۰ سے زائد مفرور علیحدگی پسندوں نےبھی ہتھیار ڈال کرخود کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا۔ملک میں جاری موجودہ آپریشن کے نتیجے میں ۱۰۸ سے زائد دہشت گرد لقمہ اجل بنے اور بھاری مقدار میں ہتھیار قبضے میں لے گئے ۔

پاکستانی قوم ملک دشمن عناصر کے خلاف متحد ہے اور یہی وجہ ہے کہ ملک تیزی کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف مناسب کاروائیاں کر رہا ہے۔ ملک خداداد کو درپیش اندرونی و بیرونی تمام تر خطرات سے محب وطن پاکستانیوں کی آگاہی ضروری ہے تا کہ وہ ملکی سلامتی و ترقی  میں اپنا بھر پور کردار ادا کرسکے۔نریندر مودی پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے دسمبر ۲۰۱۶ میں (ہارٹ آف ایشیاکانفرنس ) کے موقع پر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈ ا کرتا رہا مگر پاکستان کی بہترین سفارتکاری کے نتیجے میں اس سال اسلام آباد میں منعقد ہونے والی “اقتصادی تعاون تنظیم” کی ملاقات میں بین الاقوامی سربراہوں کی شمولیت نے واضح کر دیا کہ مودی کا پروپیگنڈا بری طرح ناکام ہوکر رہ گیا ۔بھارتی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دول کے رشتے دار کمانڈر کل بھوشن یادیو کا آئی ایس آئی کے ہاتھوں گرفتار ہونا بھی ایک اہم سنگ میل ہے جس کے حیران کن انکشافات موجودہ آپریشن میں معاون اور نتیجہ خیز ثابت ہوئے ۔جاسوسی کی تاریخ میں            کُل بھوشن جیسے ہائی پروفائل ایجنٹ کا دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونا اورپھر  پاکستان کی سر زمین میں پکڑے جانے کے بعد پھانسی کی سزا سنا ئی جانا  بھارتی سرکار اور فوج کے منہ پر کرارا تھپڑ ہے۔ اس اہم پیش رفت نے بھارت کے اقتصادی راہداری کے خلاف شرانگیزی کے اقدامات بھی  ناکا م اوربے نقاب کردیئے۔

ضرب عضب میں پاکستانی افواج کی کامیابیوں کا راز پاکستانی عوام کا بھرپور تعاون تھا جس نے پاک فوج کی کمر مضبوط کی اور اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کی اعلیٰ کمان افغانستان میں بھاگنے پر مجبور ہوئی جہاں اب وہ “را” اور “این ڈی ایس” کی سرپرستی میں پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کروا ر  ہی ہے۔ این ڈی ایس کے سابقہ سربراہ رحمت اللہ نبیل اور اجیت دول کا گٹھ جوڑ پاکستان میں دہشت گردی اور افغانستان میں داعش کے قدم جمانے کا ذمہ دار ہے۔ اسی گٹھ جوڑ نے دسمبر ۲۰۱۴میں آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشتگرد حملہ کروایا  جس کے بعد پاکستان کے شدید احتجاج کے نتیجے میں افغان صدر نے رحمت اللہ کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا ۔دسمبر ۲۰۱۵میں استعفی دینے کے بعد الوداعی تقریب کے دوران  رحمت اللہ کی تقریر پاکستان کے خلاف نفرت پر مبنی  تھی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ این ڈی ایس میں موجود بھارتی اثرو رسوخ پاکستانی میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے کوشش جاری رکھے گا۔آپریشن ردالفساد کا آغاز ملک کو درپیش ایسےتمام خطرات سے نجات دلا نےکےلیے کیا گیا جس میں عوام کا تعاون انتہائی اہم ہے ۔ پولیس کے ادارے میں نئی اصلاحات کے بعد ان میں عوام کا اعتماد بحال  ہو اہے اور عوام مشتبٰی سر گر میو ں کی اطلاع دینے میں اپنا کر دار ادا کر رہے ہیں ۔یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گرد ایک نظریے سے متاثر اور مجرمانہ عقیدے کے پیروکار ہوتے ہیں جنھیں ہتھیار اور پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد  کے لیے دہشت گرد منظم جرائم جیسے اسلحہ،منشیات اور انسانوں کی غیر قانونی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہوتے ہیں ۔ان منظم جرائم کا کرپشن کے بغیر کارآمد ہونا ممکن نہیں اور دہشت گرد تنظیمیں اس غرض سے عام مجرموں سے تعاون حاصل کرتی ہیں جنہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کی معمولی معاونت بھی دہشتگردی میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔ تاہم عوام کو چاہیے کہ اگر انھیں معمولی سے معمولی تر مشتبیٰ سرگرمی کابھی  پتہ ہو تو اسے فوراً قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے علم میں لا ئیں تاکہ دہشت گردوں اور مجرموں کے ان نیٹ ورکس کا خاتمہ کر کے فساد کو ختم کیا جاسکے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فساد اور فسادیوں کے احتساب اور خاتمے کی عوامی خواہش کو پورا کرنے کےلیے ردالفساد کا آغاز کیا اور عوام کا ضمیر تب ہی مطمئن ہوگا جب وہ اپنی خواہش  کی تکمیل کے لیے خودبھی موثر کردار ادا کریں گے ۔ملک میں موجود عسکریت پسندانہ اور مجرمانہ نیٹ ورکس غیر قانونی ذرائع سے دہشت گردی کی مالی معاونت کرتے ہیں جس کے سدباب کے لیے عوام کو چاہیے کہ ان عناصر کے خاتمے میں سپہ سالار کی آواز پر لبیک کہیں ۔آرمی چیف کا مقصد ملک کو ان تمام فسادیوں اور ان کے مددگاروں سے پاک کرنا ہے۔ملک دشمن عناصر اس آپریشن کو ناکام کرنے کےلیے ہر ممکن کوشش کریں گے مگر جب واضح طور پر جنگی ستور کھینچ لی جائیں اور پوری لگن اور عزم کے ساتھ جنگ کو لڑا جائے تو کامیابی یقینی ہوتی ہے۔آرمی چیف  کی سربراہی میں جاری دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ فیصلہ کن ہے جو فی الوقت عوام کی  توقعات پر پورا اتر رہی ہے۔ ردالفساد کا مطلب ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے قومی مقصد کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر روا نہ رکھی جائے اور پوری پاکستانی قوم کے تعاون کے بغیر یہ  مقصد حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>