Published On: Tue, Apr 10th, 2018

Hindu extremism on the rise in india

ہندوستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور مودی حکومت کی ہند توا شدت پسندوں کی سرپرستی

 سید ثاقب علی شاہ

ہندوستان میں شدت پسندی اور تشدد کی سیاست کا رجحان ہمیشہ سے ہی  غالب رہا ہے۔دراصل، ایسا وقت کبھی بھی نہیں آیا کہ ہندوستان نے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیا ہو۔اب تک کچھ اہم اور بڑے واقعات کے علاوہ اقلیتوں  کے ساتھ امتیازی سلوک کا کھلم کھلا تذکرہ بظاہر عوام پر حکومتی دباو کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔ پچھلی تین دہائیوں سے بھارتیہ جنتہ پارٹی (بی جے پی) نے حکومت حاصل کرنے کی کوششوں میں جو ‘ہندو کارڈ’ کھیلا اس نے ہندوستان میں سیکیولرزم کی نمائش کے ڈھونگ کا پردہ فاش کردیا۔(بی جے پی)جو “را شڑیہ سویم سیوک سنگھ” (آر ایس ایس) کی سیاسی ونگ کہلاتی ہے،ہندوستان میں مودی حکومت کے قیام سے ہی کھلم کھلا (آر ایس ایس ) کے شدت پسندانہ اورتشدد پر مبنی ہندو نظریا ت کو فروغ دینے کے لیے تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور دلتوں کے خاتمے اور اخراج کےلیے سرگرم ہے ۔ہندوستانی عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور میڈیا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی پسماندگی اور ہندوستان سے اخراج کےلیے منظم قوتوں کے ہاتھوں میں پوری طرح فعال اوراہم آلہ کار ہیں۔

آئین ہندوستان ابھی تک سیکولرزم کو ملک کا نظریہ قرار دیتا ہے۔مگر ہندوستان میں (آر ایس ایس)، بجرنگ دل، شیو سینا اور ان سے منسلک ذیلی تنظیموں کی معاشرتی سطح پر موجودگی اور (بی جے پی) کی سربراہی میں مسلمانوں ، دلت اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہوا ظلم و تشدد ہندوستان کے نمائشی سیکولرزم سے تضاد کی عملی مثال ہے۔ ہندوستان کے سابق صدر پرناب مکھر جی نےبھی ۲۰۱۶ء میں یوم آزادی کے دن اپنی تقریر میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ۔ ان کا کہناتھا کہ، “ان چار سالوں کے دوران عدم برداشت اور تقسیم پر یقین رکھنے والی کچھ بے چین قوتیں اپنا بدصورت سر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔کمزور اقلیتوں پر حملے قومی اقدار سے گمراہی ہےجس سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے”۔یہ ۲۰۱۶ کی صورتحال تھی جبکہ آزادانہ حلقوں کی اطلاعات کے مطابق ہندوستان میں موجود یہ تضادات اور اقلیتوں سے منافرت کے واقعات مسلسل بڑھ رہےہیں۔ تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر حکومتی اور معاشرتی سطح پر ہندو انتہا پسند قوم پرستوں کا اقلیتوں کے خلاف تشدد کا موجودہ رجحان جاری رہا تو نتیجتاً یہ ہندوستان کو ہی اندرونی سطح پر کمزور کرنے اور بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانے کےلیے کافی ہوگا۔

(آر ایس ایس ) کا قیام ۱۹۲۵ میں ہند توا نظریہ پر ہواجس کے مطابق ہندوستان صرف اور صرف ہندووں کا ہے ۔ ان کے اسی نظریے ،مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور شدت پسندانہ رجحانات کی ہی وجہ سے آزاد اسلامی ملک پاکستان کا قیام ہوا جبکہ ہندوستان میں موجود مسلمانوں کے ساتھ اب بھی ویسا ہی متشدد اورامتیازی سلوک جاری ہے۔جنوبی ایشیاء میں ہندوستان ایک بڑی جمہوریت ہونے کا دعوٰٰ ی کرتا ہےمگر ہندوستان میں مقیم مختلف مذاہب، ثقافتوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں علیحدہ قومیت کی لہر جاگ اٹھی ہے۔ہندوستان میں ہندو (۸۰فیصد) کی بھاری اکثریت سے موجود ہیں جبکہ مسلمان آبادی کی تعداد (۱۵فیصد) اور بقایا اقلیتیں جن میں عیسائی ، سکھ، بدھ مت اور دلت کی تعداد (۵فیصد)ہے۔ مودی حکومت  نے ان اکثریتی ہندوٗوں کو اقلیتی برادری کے خلاف ظلم و ستم کےلیے کلین چٹ دے رکھی ہے جسکی وجہ سے ان کے ساتھ امتیازی رویہ بدترین سطح کو پہنچ چکا ہے۔تاہم ہندوستان کا چھوٹا سیکیولر طبقہ ملک کے مستقبل کےلیے انتہائی پریشان دکھائی دیتا ہے۔

ہندوستان میں اقلیتوں کی آبادی ۲۰ فیصد ہے اور آبادی کے اتنے بڑے حصے کو نہ تو ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مستقل طور پر نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔۲۰۱۶ کے بعد نفرت انگیز بیانات اور گائے کے نام پر حادثات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ہندوستان میں اعلیٰ سطح پر اقلیتوں کے ساتھ جاری بدسلوکی کے خلاف رد عمل یقینی ہےجس کے منفی اثرات ممکنہ طور پر ہندوستان کی تمام تر آبادی پر ہونگے۔(بی جے پی) کے سربراہوں کی تحریص آمیز تقاریر اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فروغ دے رہی ہیں۔ہند توا نظریے کی مادر تنظیم( آر ایس ایس ) کے سیاسی ونگ (بی جے پی) کی مرکزی اور ریاستی سطح پر “یوگی ادیتیا ناتھ” اور “امیت شاہ” جیسے شدت پسند رہنماوں کی سیاسی عہدوں پر تعیناتی واضح طور پر شدت پسندی کے فروغ کی نشاندہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صرف ۲۰۱۶ کےدوران ۷۰۰ سے زائد فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات نے ہندوستان کا مکروہ چہرہ واضح کرکے رکھ دیا ہے۔

جدا گانہ مذاہب ،تہذیب اور ثقافت پر مبنی ہندوستان کی عوام کو ایک میز پر لانےکےلیے ہندوستان نے سیکولر ریاست کا انتخاب کیا تھا۔مگر حقیقت میں ہندوستان کی اکثریتی برادری خود ذات پات میں بُری طرح تقسیم ہے جو لوگوں کے درمیان رابطوں اور تعلقات کو محدود کرتی ہے۔ہندوستا نی معاشرے میں موجود یہ عدم برداشت رفتہ رفتہ اداروں  کی سطح پر بھی اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے۔گزشتہ چند سالوں سے  ذات پات اور مذاہب کے نام پر بڑھتی ہوئی شدت پسندی نے ہندوستان کو مکمل طور پر تقسیم کر رکھا ہے جہاں چھوٹی ذات کے ہندو اور دیگر اقلیتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں ۔ہندوستان کا معاشرہ ذات پات کی بنیاد پر قائم ہے اور ملک کے نظام میں خرابی کی بڑی وجہ بھی وراثتی طور پر ملنے والا ذات پات کا نظام ہے جو  کشیدگی ، شدت پسندی اور پھر تشدد کو فروغ دیتا ہے ۔ہندوستان کے نظام میں جاری یہ رجحان دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں اور خود ہندوستان میں تشویش کا باعث بن رہا ہے ۔ عدم برداشت ، شدت پسندی اور تشدد کے اس نظام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو ہندوستان میں طاقت کے زور سے خاموش کرادیاجاتا ہے۔سب سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ طاقت کے بل پر امتیازی سلوک کے ایسے واقعات براہ راست (بی جے پی) کی حکومت سے منسوب ہیں۔

مسلمانوں نے ہندوستان پر ۶ سو سال سے زائد حکومت کی ہے ۔ اس نہ ہضم ہونے والی سچائی کے رد عمل میں ہندوستان نے اپنے ملک سے مسلمانوں کے خاتمے اور ہندووں کے اختیار میں اضافے کےلیے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے۔مسلمانوں سے نفرت کی انتہا اس درجے پر پہنچ چکی ہے کہ ہندوستان میں موجود  شاہ رخ خان اور عامر خان جیسے ممتاز مسلمان اداکار بھی جب اپنے حقوق کی بات کریں تو انھیں فوراً ہندوستان سے بے دخل کر کے پاکستان جانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ہندوستان کی موجودہ حکومت میں ایسی انتہا پسند سوچ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے  جبکہ عمومی طور پر ساری دنیا اور بالخصوص پاکستان شدت پسندقوتوں کے خلاف سرگرم ہیں۔بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اوراقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ہندوستان جمہوریت کے بنیادی اصول پورے کرنے میں بھی ناکام ہے۔ہندوستان کی نام نہاد جمہوریت میں مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی اہمیت نہیں جہاں (بی جے پی) کی حکومت نے اتر پردیش کی ۲۵ فیصد مسلم آبادی کے باوجود ایک بھی مسلمان امیدوار کو الیکشن کے لیے ٹکٹ نہیں دیا۔اس وقت ہندوستان میں موجود اقلیتیں یہ سوچتی ہیں کہ ،”ہندوستان میں انسان ہونے سے بہتر ہےکہ انسان گائے ہو”۔دراصل (بی جے پی) ہندوستان کا چہرہ ہے اور کانگریس ہندوستان کا دماغ ہے جن کا حتمی کارڈ فرقہ وارانہ سیاست پر کھیلنا ہے۔

بین الاقوامی منظرنامے پر جہاں ہندوستان اپنا کردار ادا کرنے کےلیے کوشاں ہے اور دنیا کے سامنے اپنی اعتدال پسندی اورنرمی کے چرچے کرتا ہے۔وہاں ملک میں موجود بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور تشدد کو مزید چھپانے میں ناکام ہوتا دکھائی دے رہا  ہے۔ہندوستان کی ہندتوا نظریات کی حقیقت کھل کر دنیا کے سامنے آرہی ہے جوخود  ہندوستان کی تباہی کے راستے ہموار کر رہی ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک سے جہاں ہندوستان اندرونی سطح پر متاثر ہو رہا ہےوہاں اس کے بُرے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی پڑرہے ہیں۔موجودہ حقائق کی روشنی میں تمام متعلقہ اور وابستہ حلقوں کےلیے یہ بڑا چیلنج ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے قابو میں لائیں ؟

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>