Published On: Tue, Apr 4th, 2017

How Hizbut Tahrir is damaging Pakistan? by Syed Saqib Ali Shah

حزب التحریر پاکستان کی قومی یکجہتی کے خلا ف ایک سا زش ہے

 سید ثاقب علی شاہ

حزب التحریر کا معاملہ بھی بہت عجیب ہے جو حیرت انگیز طور پر برطانیہ سے سرگرم عمل ہے مگر اس کے رہنماء  مسلم دنیا میں خلافت کی واپسی کی خواہش رکھتے ہیں۔بظاہر مغربی ممالک خود کو اسلام سے خوفزدہ ظاہر کرتے ہیں اور ان کی حکومتیں اپنی انسدا د دہشت گردی کی حکمت عملی کے مطابق کسی بھی انتہا پسند تنظیم کو کام کرنے یا تشدد کو فروغ دینے کی  ہرگز  اجازت نہیں دیتی مگر برطانیہ حزب التحریر کی انتہا پسند سرگرمیوں کو یکسر نظر انداز کر کے ان کے خلاف کاروائی کرنے سے مسلسل گریزاں ہے۔اگرچہ برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے متعدد مرتبہ حزب التحریر کی یہود دشمنی کو جواز بنا کراس پرپا بندی کی  درخواستیں دائر کروائیں مگر برطانوی قانونی حکام نے انھیں بھی نظر انداز کردیا۔ایک خفیہ نوعیت کی انتہا پسندجماعت کابر طانیہ میں فروغ اور اس کی قیادت کی توجہ کا مر کز ایٹمی طاقت کے حامل واحد اسلا می ملک کی افواج ، نو جوان ، پیشہ ور ما ہر ین اور متوسط طبقہ کے لوگوں کا ہو ناایک تشویشنا ک امر ہے ۔اس گروہ کے پر و پیگنڈے کا  اصل مقصد پا کستان میں لو گو ں کو نا م نہادانقلا بی خلا فت کے لیے اُکسانا ہے ۔

حزب التحریر انتہا پسندی کو پروان چڑھانے،دہشت گردی کے جواز پیش کرنےاور نوجوانوں کو حزب التحریریا داعش میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنے میں کوشاں ہے۔اس تنظیم پر دنیا کے مختلف ممالک میں ان مشکوک اور غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے سخت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ان پابندیوں کے باوجود یہ انتہا پسند تنظیم بعض ممالک میں خفیہ طور پر انتشار پھیلانے کے لیے اختلافات کو جنم دینےاور تقسیم کی سیاست کو فروغ دینے  میں ملوث ہے۔مصر،لیبیا ،بنگلہ دیش اور پاکستان میں اس انتہا پسند تنظیم پر سخت پابندی عائد ہےجبکہ متحدہ عرب امارات،لبنان ،یمن،انڈونیشیااور ملائیشیااس کی سرگرمیوں کے متعلق انتہائی فکر مند ہیں۔اگرچہ یہ انتہا پسند تنظیم فی الوقت   براہ راست  دہشت گرد حملوں میں ملوث نہیں مگر القاعدہ اور داعش کی طرح مسلمان حکومتوں کو گرانا ان کا اولین مقصد ہے۔ اس تنظیم کی تحریر یں بڑےپیمانے پر نفرت انگیز اور غیر قانونی ہیں۔تاہم اس انتہا پسند تنظیم کے ساتھ القاعدہ اور داعش سے مختلف رویہ برتنا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں منفی مضمرات کا باعث ہے۔ دہشت گردی سے متعلقہ کئی جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود حزب التحریر کے کسی بھی رُکن کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاتا ۔ چنانچہ ناقدین حزب التحریر اور اس کے سربراہ عطاء بن خلیل کے برطانیہ سے آزادانہ سرگرم رہنے پر حیران ہیں۔

حزب التحریر کو۲۰۰۴ میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خفیہ قتل کی مبینہ سازش کے بعدپاکستان  میں کالعدم قرار دیا گیا ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑے پیمانےپر ان کے خلاف کاروائیوں کی وجہ سے ان کی سرگرمیاں انٹرنیٹ اور کتابچوں کے ذریعے انتہا پسند مواد تقسیم کرنے تک محدودہو کر رہ گئی ہیں ۔ ان کی مشکوک بنیادوں اور منافقانہ  تحریروں کی وجہ سے ہر پاکستانی کو ان کے نظریات مسترد کر کے ان کا ایجنڈا بے نقاب کرنا چاہیے۔پاکستانی قوم کی طاقت کا انحصار پاکستانی افواج اور حکومت پر اعتبار کر نے کے ساتھ ساتھ ہر محاذ پر شانہ بشانہ کھڑے رہنے میں ہے۔پاکستانیوں کو اپنی افواج پر بہت فخر ہےجنھوں نے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑتے ہوئے چھ ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کیا ۔پاکستان دشمن عناصر کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ پاکستانی افواج انتہائی نظم وضبط کے حامل پیشہ وارانہ سپاہیوں پر مشتمل ہیں جو ملک میں دہشتگردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کےلیے پُر عزم ہیں مگر یہ دشمن قوتیں انتہا پسند تنظیم حزب التحریر کے ذریعے قومی اتحاد کو کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہیں۔

حزب التحریر خلافت کی آڑ میں بظاہر تمام مسلم ممالک کےنظام کو اسلامی  طرزپر لانے کے مقاصد واضح کرتی ہےجبکہ ان کا اصل مقصد اس کے بلکل برعکس ہے۔ ا س تنظیم کا آغاز ۱۹۵۳میں بیت المقدس کے مذہبی عالم تقی الدین النبہانی نے کیا جواس وقت مشرق وسطیٰ،مغربی اوروسط ایشیا ئی ممالک میں موجود ہے۔ بر طانیہ اس تنظیم کی موجودہ تمام ترتنظیمی اور انتہا پسند  سرگرمیوں کابنیادی مرکز ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ  نے ابھی تک اسے واضح طور پر کالعدم قرار دینے میں انتہائی مشکوک انداز اور موقف اپنا کر بہت سارے سوالات کو جنم دیا ہے۔پاکستان میں حزب التحریر نے ۱۹۹۰کی دھائی میں کام شروع کیا اور اس کے زیادہ تر کارکن خفیہ طور پر سرگرم رہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان کےاندر حزب التحریر کی نمائندگی کےلیے  ایک چہرہ نوید بٹ جانا جاتا ہےجو ایلی نوٹیس یونیورسٹی سے گریجویٹ ہے۔ اس کی وڈیو اکثر انٹرنیٹ پر نشرہوتی ہیں جس میں انتہا پسندانہ موا داور پاکستانی حکومت اور افواج کی ملامت واضح ہوتی ہے۔

حزب التحریر پاکستان کے دستور اور جمہوری نظام کو غیر اسلامی تصور کرتی ہے۔ان کا واحد مقصد پاکستان کی افواج اور حکومت پر قبضہ کرکےدوسرے اسلامی ممالک میں اور پھر تمام غیر مسلم ممالک پر مسلح جہاد کے ذریعے خلافت کا نفاذ ہے۔نظریاتی طورپر ان کا نظریہ داعش اور القاعدہ طرز کی خلافت کو پُرتشدد انداز میں مُسلط کرنا ہے۔عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہےکہ حزب التحریر مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہےکیونکہ یہ عام معصوم شہریوں اور افواج پر دہشت گرد حملوں کی واضح مذمت نہیں کرتی  جس کی وجہ سے لوگوں  کا یہ یقین ہے کہ ان کے نظریے کی بنیادغیر متشدد نہیں۔حزب التحریر کا طریقہ کار باقی تنظیموں سے مختلف ہے جو مسلح افواج کےجوانوں ،تعلیمی اداروں کے اراکین اور اشرافیہ کو اپنی چھتری تلے لانے کی کوشش کرتی ہے۔عمومی انقلابی تحریکوں کے برعکس حزب التحریر کا مقصد فوج کے ذریعے تبدیلی لے آنا ہےکیونکہ یہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ فوج پاکستان کا مضبوط ترین ادارہ ہے۔

جہاں تک پاکستان میں حزب التحریر کے منشور کا تعلق ہے، اس کا مقصد اُمت کو کُفریہ نظام کے غلبےسے آزاد کروانااور خلافت کے قیام سے غلامانہ خارجہ پالیسی کا اختتام ہے۔ ان کے منشور کے مطابق غیر مسلم ممالک کے ساتھ اقتصادی ،ثقافتی اور سفارتی تعلقات قطعاًحرام ہیں جبکہ خود یہ انتہا پسند تنظیم برطانیہ میں باقاعدہ پناہ گزیں رہ کر مزید پروان چڑھ رہی ہےاور پاکستان مخالف قوتوں کی ایماء پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں سرگرم ہے۔ان کے مطابق حزب التحریرکاخلیفہ اقوام متحدہ، عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے خلاف انتہائی سخت اقدامات اٹھائےگا اور جہاد کے ذریعے ساری دنیا میں اسلام اور خلافت کے نظام کو رائج کرے گا۔

نتیجتاً ، خلافت ، انصاف ،تعلیم اور بنیادی ضروریات کے نام نہاد وعدوں سے یہ انتہا پسند تنظیم لوگوں کو  لالچ دینےمیں سرگرم ہے ۔ ان کا بظاہر غیر متشد دموقف اُن لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہےجو کسی بھی وجہ سے موجودہ نظام سے شکایت رکھتےہیں۔ایسی صورت میں حزب التحریر کا مقصد ملک کو خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار کرنا ہےتاکہ ان کے مذموم  مقاصدشرمندہ تعبیر ہو سکیں۔ہم اس دور میں رہ رہے ہیں جہاں اسلام کے نام پر بڑےپیمانے پر دھوکہ دہی کی جارہی ہے اور ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیےکہ پُر تشدد اور مُجرمانہ طرز کی تنظیمیں ،بالخصوص حزب التحریر قرآن وسنت کی تعلیمات کی اصل روح کے برعکس ہیں۔ تاہم اس بات کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی عوام کے سامنے اس انتہا پسند تنظیم کی مذموم کاروائیوں کو بے نقاب کیا جائے تاکہ ملک و ملت دشمن قوتوں کی ایماء پر سرگرم ان عناصر کے شر سے ہمیشہ محفوظ رہیں۔

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>